سرینگر// ڈاکٹروں کو دوردراز علاقوں میں کام کرنے پر تعینات کرنے کیلئے انہیں بہتر تنخواہیں اور خصوصی مراعات دینے کی دعویداری کے برخلاف سرکار نے گریز جیسے دوردراز علاقہ میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی تنخواہ اچانک ہی نصف کردی ہیں۔اس اچانک اقدام سے سکتے میں آئے ڈاکٹروں نے انکے مراعات بحال نہ کئے جانے کی صورت میں دوردراز علاقوں سے لوٹ آنے کی دھمکی دی ہے۔
”گریز ایک دوردراز اور مشکل ترین علاقہ ہی نہیں ہے بلکہ بنیادی سہولیات سے عاری یہ علاقہ سردیوں میں ہفتوں بلکہ مہینوں تک کٹا رہتا ہے اور ہم بعض اوقات مہینوں تک گھر بھی نہیں جاپاتے ہیں اس سب کے باوجود بھی ہمیں معمولی مشاہرے پر کام کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے“۔
دوردراز علاقوں میں سخت حالات میں کام کررہے ڈاکٹروں کی تنخواہیں نصف کردئے جانے کا انکشاف انکی طرفسے نیشنل ہیلتھ مشن(این ایچ ایم)کے ڈائریکٹر سے تحریری طور کی گئی فریاد میں ہوا ہے جس میں متاثرہ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ کس طرح انہیں بہتر تنخواہوں اور دیگر مراعات کی لالچ دیکر دوردراز کے علاقوں میں کام کرنے پر آمادہ کیا گیا تھا اور اب انکے ساتھ دھوکہ کیا جارہا ہے۔19-11-2018کو مشن ڈائریکٹر سے کی گئی ایک فریاد میں ان ڈاکٹروں نے کہا ہے”ہم سنجیدگی کے ساتھ علاقہ(گریز)سے لوٹنے پر سوچ رہے ہیں کیونکہ ہم معمولی مشاہرے پر گھر سے اتنا دور کس طرح کام کرسکتے ہیں“۔متاثرہ ڈاکٹروں کے ایک گروپ نے بتایا ”ہمیں قریب پانچ سال قبل این ایچ ایم کے تحت بھرتی کیا گیا تھا ،پانچ سال تک ہم بنیادی تنخواہ کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر مراعات بھی پاتے رہے لیکن گئے ستمبر میں حیران کن طور پر یہ مراعات روک کر ہماری تنخواہ تقریباََ نصف کردی گئی جس سے ہم سکتے میں آگئے ہیں“۔انہوں نے کہا کہ گریز نمبر ایک زمرے کا دوردراز اور مشکل علاقہ ہے جہاں کام کرنا انتہائی مشکل ہے ۔انہوں نے کہا”ہمیں لگتا تھا کہ اتنے دوردراز اور مشکل علاقے میں کام کرنے کیلئے ہماری حوصلہ افزائی کی جائے گی لیکن اسکے برعکس ہماری تنخواہ نصف کردی گئی ہے جو کہ پہلے ہی بہت زیادہ بلکہ مناسب نہیں تھی“۔انہوں نے کہا کہ وہ مجموعی طور قریب سٹھ ہزار روپے کی تنخواہ پاتے آرہے تھے تاہم مراعات بند کردئے جانے کے بعد وہ تیس ہزار روپے کے آس پاس کی تنخواہ پاتے ہیں جو کہ انکے لئے قابل قبول ہے اور نہ ہی مناسب۔چناچہ ان ڈاکٹروں کا کہنا ہے”گریز ایک دوردراز اور مشکل ترین علاقہ ہی نہیں ہے بلکہ بنیادی سہولیات سے عاری یہ علاقہ سردیوں میں ہفتوں بلکہ مہینوں تک کٹا رہتا ہے اور ہم بعض اوقات مہینوں تک گھر بھی نہیں جاپاتے ہیں اس سب کے باوجود بھی ہمیں معمولی مشاہرے پر کام کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے“۔
دل برداشتہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے”چونکہ ہمیں بجلی ،گرم پانی،جلانے کیلئے لکڑی یا دوسری کوئی سہولت مہیا نہیں ہے اور ہمیں یہ سبھی انتظام خود کرنا پڑتا ہے جو ہم ہمیں ملنے والے ان سنٹیوز سے کرتے تھے لیکن اب جبکہ ہمیں معمولی تنخواہ دی جانے لگی ہے ہمارے لئے زندگی مشکل ہورہی ہے“۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہاں سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی شدید قلت ہے اور بیشتر علاقوں کے ہیلتھ مراکز میں ڈاکٹروں اور دیگر عملہ سینکڑوں اسامیاں خالی ہیں وہیں سرکار کی طرفسے یہ بات ایک سے زیادہ مرتبہ کہی گئی ہے کہ دوردراز علاقوں میں ڈیوٹی کیلئے کوئی بھی ڈاکٹر تیار نہیں ہورہا ہے۔اس مسئلے سے نپٹنے کیلئے سرکار نے کئی مرتبہ ڈاکٹروں کودوردراز علاقوں میں ڈیوٹی کرنے کیلئے آمادہ کرنے کیلئے انہیں بہتر تنخواہیں اور دیگر مراعات دینے کے اعلانات کئے ہیں لیکن عملی طور ان ڈاکٹروں کی حوصلہ شکن کی جارہی ہے۔جیسا کہ وہ کہتے ہیں”ان حالات میں دوردراز کے علاقوں میں کام کرنے پر کونسا ڈاکٹر تیار ہوگا،حالانکہ ہمیں کوئی اور ذرئعہ روزگار تو نہیں ہے لیکن گھر سے اتنا دور جاکر معمولی تنخواہ پر کام کرنے سے بہتر ہے نا کہ ہم گھر بیٹھیں۔ سچ پوچھیئے کہ ہمارے کئی ساتھی گریز سے لوٹ آنے پر سوچ رہے ہیں،ہمیں امید ہے کہ سرکار معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ہمارا جائز مطالبہ ،کہ ہمارا پورا مشاہرہ بحال کیا جائے،پورا کرے گی“۔
اس سلسلے میں ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن سے رابطہ کرنے پر ”صاحب کے میٹنگ میں ہونے“کا مشہور مقولہ دہرایا گیا تاہم ڈائریکٹر کے پرسنل اسسٹنٹ(پی اے)مسٹر منیش نے گریز میں تعینات ڈاکٹروں کی تنخواہوں کے نصف کئے جانے کے متعلق کوئی بھی جانکاری رکھنے سے انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ انہیں تحریری طور آگاہ کیا جائے تو اس معاملے کو دیکھ لیا جائے گا تاہم وہ اس بات کے جواب میں کوئی ٹھوس بات کہنے سے قاصر تھے کہ جو فریاد متاثرہ ڈاکٹروں نے 19-11-2018کو کی ہے اسکا کیا ہوا۔
اس سلسلے میں ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن سے رابطہ کرنے پر ”صاحب کے میٹنگ میں ہونے“کا مشہور مقولہ دہرایا گیا تاہم ڈائریکٹر کے پرسنل اسسٹنٹ(پی اے)مسٹر منیش نے گریز میں تعینات ڈاکٹروں کی تنخواہوں کے نصف کئے جانے کے متعلق کوئی بھی جانکاری رکھنے سے انکار کیا۔
ڈاکٹروں کی تنظیم ،ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر،(ڈی اے کے) کے صدر ڈاکٹر سہیل نائیک نے کہا کہ انہیں یہ معاملہ معلوم ہے اور وہ پہلے ہی اس پر مفصل بیان دے چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف یہ کہ ڈاکٹروں کے انسنٹیوز روکے گئے ہیں بلکہ کپوارہ سے یہ تک اطلاع ہے کہ گذشتہ برسوں میں دئے جاتے رہے انسنٹیوز واپس وصول کئے جانے لگے ہیں حالانکہ اس بارے میں کوئی سرکاری حکم نامہ جاری نہیں ہوا ہے بلکہ جموں صوبہ میں کسی تبدیلی کے بغیر ڈاکٹروں کو سبھی مراعات جاری رکھی گئی ہیں۔انہوں نے اسے ایک ”آمرانہ اقدام“بتاتے ہوئے کہا کہ مشکل ترین حالات میں دوردراز کے علاقوں میں تعینات ڈاکٹروں کو انکے حق سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیئے۔انہوں نے گورنر کے مشیر،برائے صحت و طبی تعلیم،وجے کمار اور این ایچ ایم ڈائریکٹر سے اس معاملے میں ذاتی مداخلت کی اپیل کی۔
یہ بھی پڑھیئے
میڈیکل کالج کے غیر مستقل ڈاکٹروں کی گورنر سے ملاقات،مستقلی کا مطالبہ!