میڈیکل کالج کے غیر مستقل ڈاکٹروں کی گورنر سے ملاقات،مستقلی کا مطالبہ!

جموں// جموں اور سرینگر کے گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں قریب چھ سال سے کام کررہے 42ڈاکٹروں نے گورنر انتظامیہ سے انکی نوکری کو مستقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ان ڈاکٹروں نے انکشاف کیا ہے کہ ساتویں تنخواہ کمیشن کے مطابق تنخواہیں پانے کے باوجود بھی انکی نوکری مستقل نہیں کی جاتی ہے اور انہیں ہر سال اپنی نوکری کو توسیع دلانے کیلئے سیول سکریٹریٹ اور دیگر دفاتر کے چکر کاٹنا پڑتے ہیں۔

سنیچر کو یہاں دونوں میڈیکل کالجوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کے ایک وفد نے ڈاکٹر سہیلہ رشید خان کی قیادت میں گورنر ایس پی ملک کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں اپنے مطالبات سے آگاہ کرتے ہوئے معاملے کو انسانی بنیادوں پر دیکھنے کی درخواست کی۔وفد میں شامل ڈاکٹروں نے گورنر کو بتایا کہ کس طرح انہیں ایس آر او 384 کے ضوابط کے تحت 2013میں بھرتی کیا گیا تھا جب سے وہ مکمل ڈیوٹی دیتے آرہے ہیں لیکن اسکے باوجود بھی انکی نوکری کو مستقل نہیں کیا جاتا ہے۔وفد نے گورنر کو ایک تحریری درخواست دی جس میں لکھا گیا ہے کہ جموں اور سرینگر کے میڈیکل کالجوں اور یہاں سے باہر کام کررہے ان42ڈاکٹروں کو ساتویں تنخواہ کمیشن کے حساب سے تنخواہ اور دیگر مراعات ہر مہینہ دی جاتی ہیں لیکن انکی نوکری کو مستقل نہیں کیا جارہا ہے بلکہ انہیں ہر سال نوکری میں توسیع کرانے کیلئے کہا جاتا ہے اور توسیع کا حکم جاری نہ ہونے تک انکی تنخواہیں روک دی جاتی ہیں۔

میڈیکل کالج کی انتظامیہ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم بہترین طریقے پر علاج و معالجہ کے ساتھ ساتھ انتظامیہ میں بھی خدمات انجام دیتے آرہے ہیں لیکن ہمارے روزگار کی ہمیں کوئی ضمانت نہیں دی جارہی ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔

وفد میں شامل رہے ڈاکٹر سجاد  نے گورنر سے ملنے کے بعد بتایا کہ موصوف نے انہیں غور سے سنا اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام کے ساتھ بات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا”گورنر صاحب نے ہمیں غور سے سنا اور یقین دلایا کہ وہ متعلقین کے ساتھ بات کرینگے“۔انہوں نے کہا کہ وہ اس سے قبل بھی کئی اعلیٰ حکام سے مل چکے ہیں اور یقین دہانیاں حاصل کرتے رہے ہیں لیکن اسکے باوجود بھی انکے جائز مطالبے کو پورا نہیں کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا”ہم میں سے کئی ڈاکٹر اُور ایج بھی ہوچکے ہیں لہٰذا ہمارے مسئلے کو انسانی بنیادوں پر دیکھے جانے کی ضرورت ہے اور یہی بات ہم نے گورنر صاحب سے بھی کہی ہے“۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالج کی انتظامیہ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم بہترین طریقے پر علاج و معالجہ کے ساتھ ساتھ انتظامیہ میں بھی خدمات انجام دیتے آرہے ہیں لیکن ہمارے روزگار کی ہمیں کوئی ضمانت نہیں دی جارہی ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ وہ اپنا بہترین وقت حکومت جموں کشمیر کو دیتے ہوئے نوکری پانے کیلئے عمرکی آخری حدکو چھو رہے ہیں وہ خود کو درماندہ تصور کررہے ہیں لہٰذا اگر انکی نوکری مستقل نہیں کی گئی،جیسا کہ وقت وقت پر انکے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے،تو وہ کہیں کے نہ رہیں گے۔وفد میں شامل دیگر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اب چونکہ انہیں خود حکومت کے سربراہ نے معاملے کو ترجیحی اور انسانی بنیادوں پر دیکھنے کا یقین دلایا ہے لہٰذا انہیں انکا مطالبہ پورا ہونے کی امید ہے۔

 

Exit mobile version