طالبان نے باالآخر امریکہ کو زیر کردیا،انخلاءپر آمادہ!

سرینگر// افغان طالبان اور امریکہ کے مابین کئی روز سے دوحا میں جاری مذاکرات میں زبردست پیشرفت ہونے کی خبر ہے اور امریکہ کا افغانستان سے چلے جانا تقریباََ طے ہے۔حالانکہ امریکہ نے کہا ہے کہ کئی معاملات پر اب بھی جمود جاری ہے تاہم طالبان نے امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہونے کی تصدیق کی ہے۔

خبر رساں ادارے روائٹر نے افغان طالبان کے ذرائع سے خبر دی ہے کہ امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد اب امن کے اس مسودے کے بارے میں افغانستان کے صدر اشرف غنی کو بریفنگ دیں گے جس کے لیے وہ کابل روانہ ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق افغانستان میں قیام امن کے معاہدہ کے بارے میں مزید تفصیلات کچھ روز میں ایک مشترکہ بیان میں جاری کی جائیں گی۔

” مذاکرات کے عمل میں جو تیزی آئی ہے ہم اسے برقرار رکھتے ہوئے انہیں دوبارہ شروع کریں گے۔ ابھی کچھ معاملات حل کرنا باقی ہیں۔ جب تک سب معاملات طے نہیں ہو جاتے تب تک کچھ بھی حتمی نہیں ہے اور اس ضمن میں افغانوں کے مابین مذاکرات اور مکمل جنگ بندی ضروری ہے“۔

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ” دوحا میں چھ دن کے بعد میں مشورے کے لیے افغانستان کا رخ کر رہا ہوں۔ ملاقاتیں ماضی کی نسبت زیادہ سودمند رہیں۔ ہم نے اہم معاملات پر خاطر خواہ پیش رفت کی ہے“۔ انہوں نے مزید کہا” مذاکرات کے عمل میں جو تیزی آئی ہے ہم اسے برقرار رکھتے ہوئے انہیں دوبارہ شروع کریں گے۔ ابھی کچھ معاملات حل کرنا باقی ہیں۔ جب تک سب معاملات طے نہیں ہو جاتے تب تک کچھ بھی حتمی نہیں ہے اور اس ضمن میں افغانوں کے مابین مذاکرات اور مکمل جنگ بندی ضروری ہے“۔

زلمے خلیل زاد نے مذاکرات کروانے میں مثبت کردار ادا کرنے پر حکومت قطر کا شکریہ ادا کیا اور ملک کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی ذاتی کاوشوں کو سراہا۔ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے تحت غیر ملکی افواج ایک مقررہ مدت کے اندر افغانستان سے نکل جائیں گی، افغان طالبان کو بلیک لسٹ سے ہٹا لیا جائے گا جس سے ان پر لگی سے سفری پابندیاں ختم ہو جائیں گی اور قیدیوں کا تبادلہ بھی ہو گا۔طالبان اس بات کی ضمانت دیں گے کہ افغانستان میں داعش یا القاعدہ جیسے دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا نہیں ہوں گی۔

امریکہ کی نمائندگی افغان امور کے مشیر خاص زلمے خلیل زاد کر رہے تھے۔ دوسری طرف طالبان کے سینیئر کمانڈر ملا عبدالغنی برادر ہیں جو کہ آٹھ سال پاکستان کی تحویل میں رہنے کے بعد گذشتہ اکتوبر میں رہا کیے گئے تھے۔

افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان پچھلے کئی روز سے دوحا میں طالبان کے دفتر میں مذاکرات جاری تھے۔دوحا مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی افغان امور کے مشیر خاص زلمے خلیل زاد کر رہے تھے۔ دوسری طرف طالبان کے سینیئر کمانڈر ملا عبدالغنی برادر ہیں جو کہ آٹھ سال پاکستان کی تحویل میں رہنے کے بعد گذشتہ اکتوبر میں رہا کیے گئے تھے۔طالبان اور امریکہ کے مابین براہ راست مذاکرات گذشتہ برس جولائی سے جاری تھے۔ ان مذاکرات میں کئی بار تعطل آیا لیکن یہ ختم نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھئیں

افغان طالبان نے امریکی صدر کو خط میں کیا لکھا!

Exit mobile version