ہندوپولس افسر کیلئے سارا کشمیرمسلمان مئیر کے خلاف ایک!

سرینگر// حالانکہ وادی کشمیر میں لوگوں اور پولس کے بیچ کا فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ اسے پاٹنا ناممکن لگتا ہے تاہم ایک آئی پی ایس افسر نے پورے جموں کشمیر کو گویا اپنے حق میں ایک کردیا ہے۔بسنت رتھ نامی آئی پی ایس افسر کی سوشل میڈیا پر حال ہی سرینگر میونسپل کارپوریشن کے مئیر بنائے گئے جنید متو کے ساتھ نوک جھونک کے بعد مسٹر رتھ کا ٹریفک پولس سے تبادلہ کیا ہوا کہ پوری ریاست کے لوگ ایک زبان میں اس فیصلے کی مخالفت اور جنید متو کی مذمت کی حد تک نکتہ چینی کرنے لگے۔

2000بیچ کے آئی پی ایس بسنت رتھ نے بحیثیتِ انسپکٹڑ جنرل آف پولس اپنے دبنگ انداز کا سب کو گویا گرویدہ بنالیا تھا حالانکہ وہ کئی بار اپنی کئی حرکات کیلئے تنقید کا بھی نشانہ بنے۔انہیں گذشتہ روز ٹریفک پولس کی سربراہی کے اہم عہدہ سے ہٹاکر عملاََ بے کار ہوم گارڈ ہیڈکوارٹر کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے جبکہ انکی جگہ الوک کمار نامی افسر ،جن پر بہار میں تعیناتی کے دوران بھاری رشوت کا مطالبہ کرنے کا الزام لگا تھا،کو آئی جی ٹریفک بنایا گیا ہے۔

 کشمیری مسلمانوں نے اپنا یہ کردار ایسے وقت پر پھر دکھایا ہے کہ جب ہندوستان میں مسلمانوں کے صدیوں پُرانے نشانات اور انسے منسوب مختلف تواریخی مقامات کے نام تک مٹانے کی مہم تیزی سے جاری ہے۔

بسنت رتھ کا تبادلہ میونسپل کارپوریشن سرینگر کے بھاجپا کے حمایت یافتہ مئیر جنید متو کے ساتھ سوشل میڈیا پر انکی نوک جھونک کے محض چند دن بعد غیر متوقع اور اچانک عمل میں لایا گیا ہے اور اس لئے پوری ریاست کے لوگ ناراض ہیں۔جنید متو نے مئیر بنتے ہی سرینگر کی حدود میں واقع آبگاہوں کی جگہ تجارتی مراکز قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا جسکی مخالفت کرتے ہوئے بسنت رتھ نے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا ”ایک بند گوبی ہی ایسا سوچ سکتا ہے“۔چناچہ جنید متو کو رتھ کا یہ تبصرہ گراں گذرا اور انہوں نے آئی پی ایس افسر کو ”مریض “کہا۔یہ بحث لمبی ہوگئی اور سوشل میڈیا پر لوگوں کی اکثریت بسنت رتھ کی حمایت کرنے لگے جبکہ جنید متو پر فقرے کسے گئے۔تاہم اسی دوران کئی لوگوں نے بسنت رتھ کو خبردار کرنا چاہا کہ بھاجپا کے اپنائے ہوئے جنید متو کے ساتھ نوک جھونک انہیں مہنگی پڑ سکتی ہے۔اسکے بعد ہی سوشل میڈیا پر افواہیں گشت کرنے لگی کہ رتھ کو محکمہ ٹریفک سے تبدیل کیا جارہا ہے تاہم لوگوں کے احتجاج کے ردعمل میں ایک نامعلوم سرکاری افسر نے اسے محض ایک افواہ قرار دیتے ہوئے رتھ کے تبادلے کا کوئی بھی منصوبہ سرکار کے زیرِ غور ہونے سے انکار کیا۔لیکن اسکے اگلے ہی روز گورنر انتظامیہ نے رتھ کی تبدیلی کا باضابطہ حکم نامہ جاری کرکے انہیں گویا ”ڈمپ“کردیا۔

بصورت دیگر پولس کے تئیں نفرت کے باوجود کشمیریوں کا ایک مقامی مسلمان کے مقابلے میں ایک غیر ریاستی ہندو کیلئے کھڑا ہونا اس بات کی ایک اور دلیل ہے کہ کشمیری فرقہ پرست نہیں بلکہ انسانیت دوست قوم ہے

اس حکم نامہ کے جاری ہوتے ہی سوشل میڈیا پر سرکار کے تئیں ناراضگی اور بسنت رتھ کے تئیں ہمدردی کی سونامی جیسی آگئی ہے۔لوگوں کا ماننا ہے کہ بسنت رتھ کو سیاسی غنڈہ گردی کا نشانہ بننا پڑا ہے۔فیس بُک پر ایک شخس نے لکھا”محض سات ووٹوں سے نام نہاد جیت پانے والے کل کے لونڈے نے ایک ایماندار آئی پی ایس افسر کی تذلیل کروائی،حد ہے“۔ایک اور شخص نے لکھا”آپ نے رشوت کی صنعت بند کردی تھی،آخر آپ کو کب تک برداشت کیا جاسکتا تھا،راشیوں اور چوروں کے زمانے میں آپ جیسے بے خوف اور ایماندار افسر کی کوئی جگہ نہیں ہے،افسوس ہے“۔یہ پہلی بار ہے کہ کشمیر میں کسی پولس افسر،وہ بھی غیر ریاستی ہندو،کو عوامی سطح پر اس حد تک حمایت اور پیار مل رہا ہے۔جموں کے ایک شخص نے اس بات کو نوٹس کرتے ہوئے فیس بُک پر لکھا”یہ پہلی بار ہے کہ میں کشمیریوں کو ایک پولس والے کی ،ہی نہیں بلکہ غیر ریاستی ،حمایت کرتے دیکھتا ہوں۔آپ کو اس بات پر فخر کرنا چاہیئے،آپ آئیندہ جہاں کہیں بھی جائیں گے،لوگ آپ کے ساتھ ہونگے“۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ بصورت دیگر پولس کے تئیں نفرت کے باوجود کشمیریوں کا ایک مقامی مسلمان کے مقابلے میں ایک غیر ریاستی ہندو کیلئے کھڑا ہونا اس بات کی ایک اور دلیل ہے کہ کشمیری فرقہ پرست نہیں بلکہ انسانیت دوست قوم ہے۔حالانکہ کشمیری مسلمانوں نے اپنا یہ کردار ایسے وقت پر پھر دکھایا ہے کہ جب ہندوستان میں مسلمانوں کے صدیوں پُرانے نشانات اور انسے منسوب مختلف تواریخی مقامات کے نام تک مٹانے کی مہم تیزی سے جاری ہے۔

گورنر انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ہورہی باتوں کا ابھی تک کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی خود بسنت رتھ نے ،جو ٹویٹر اور فیس بُک پر انتہائی سرگرم رہے ہیں،ابھی تک زبان کھولی ہے تاہم عام لوگ انکے تبادلے کے حکم نامہ کو سرکار کیلئے تنقیدی تبصروں کے ساتھ شئیر کرتے جارہے ہیں۔

بسنت رتھ چند ہی ماہ قبل ٹریفک پولس کے چیف مقرر ہونے پر اپنی دبنگ حرکات اور ”الگ طرح کی پولیسنگ“کیلئے سرخیوں میں آئے تھے۔انہوں نے ریاست میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کرنے میں زبردست کام کیا اور کئی بارسوخ اور ”پہنچے ہووں“کی گاڑیاں ضبط کرکے ان پر جرمانہ عائد کیا جبکہ انہوں نے جموں سے لیکر سرینگر تک انہوں نے کئی مقامات پر ناجائز تجاوزات ہٹاکر گاڑیوں کیلئے راستہ بنایا۔حالانکہ وہ اپنی کئی حرکات کیلئے تنازعات میں بھی گر گئے تاہم وہ کشمیر میں عام لوگوں سے کسی بھی پولس افسر کے برعکس گھل مل گئے تھے یہاں تک کہ انہیں کئی مقامی طور ہوئی کئی شادیوں میں نوجوانوں کے ساتھ گانا بجاتے اور ڈھول پیٹتے دیکھا گیا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کچھ تُرش ضرور ہیں مگر انتہائی حد تک ایماندار اور افسری کی بجائے ایک عام پولس والے کی طرح کام کرنے والے شخص ہیں۔گورنر انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ہورہی باتوں کا ابھی تک کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی خود بسنت رتھ نے ،جو ٹویٹر اور فیس بُک پر انتہائی سرگرم رہے ہیں،ابھی تک زبان کھولی ہے تاہم عام لوگ انکے تبادلے کے حکم نامہ کو سرکار کیلئے تنقیدی تبصروں کے ساتھ شئیر کرتے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئیں

کیرئر جائے باڑ میں،جموں کشمیر چھوڑ کر ڈیپوٹیشن پر نہیں جاوں گا:بسنت رتھ

Exit mobile version