ٹنگڈارمیں مارے گئے جنگجووں کی لاشوں کیلئے سرینگر میں احتجاج

سرینگر// شمالی کشمیر کے ٹنگڈار میں گذشتہ دنوں ”نامعلوم“بتاکر مارے گئے پانچ جنگجووں میں سے دوکے جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع سے تعلق ثابت ہونے کے بد انکے لواحقین نے دونوں کی جسدہائے خاکی کی سپردگی کا مطالبہ کیا ہے تاہم سرکار ابھی چُپ سادھے ہوئے ہے۔اس دوران دونوں کے لواحقین کے مطالبے کی حمایت میں پلوامہ میں آج لگاتار تیسرے دن ہڑتال رہی جبکہ متعلقین نے سرینگر آکر احتجاجی مظاہرے کئے۔

25مئی کو فوج نے یل او سی کے ٹنگڈار سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بناکر 5”غیر مقامی “جنگجو وں کو مار گرانے کا دوعویٰ کیا تھا اور پھر تینوں کو اسی علاقے میں دفن کیا گیا تھا۔تاہم سوشل میڈیا پر نعشوں کی تصاویر آنے پر جنوبی ضلع پلوامہ اور کولگام کے دو کنبوں نے دعویٰ کیا کہ غیر ملکی بتاکر مارے جاچکے جنگجووں میں دو انکے گمشدہ لڑکے ہیں۔چناچہ دونوں کنبوں کے افراد ٹنگڈار پہنچے جہاں کے پولس تھانہ میں رکھی ہوئی تصاویر سے انہوں نے اپنے لڑکوں کی پھر سے شناخت کی اور انہیں انکی نعشیں سونپ دئے جانے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ انہیں لیجاکر اپنے آبائی قبرستانوں میں دفن کریں اور دیگر آخری رسومات پورا کرسکیں۔تاہم ان لوگوں کا کہنا ہے کہ پولس اور دیگر ادارے ابھی ”ٓٓنا کانی اور ٹال مٹول“سے کام لے رہے ہیں۔دونوں جنگجووں کے لواحقین تاہم ٹنگڈار میں ہی رہکر انتظار کررہے ہیں جبکہ پلوامہ میں ہڑتال جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر نعشوں کی تصاویر آنے پر جنوبی ضلع پلوامہ اور کولگام کے دو کنبوں نے دعویٰ کیا کہ غیر ملکی بتاکر مارے جاچکے جنگجووں میں دو انکے گمشدہ لڑکے ہیں۔چناچہ دونوں کنبوں کے افراد ٹنگڈار پہنچے جہاں کے پولس تھانہ میں رکھی ہوئی تصاویر سے انہوں نے اپنے لڑکوں کی پھر سے شناخت کی اور انہیں انکی نعشیں سونپ دئے جانے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ انہیں لیجاکر اپنے آبائی قبرستانوں میں دفن کریں اور دیگر آخری رسومات پورا کرسکیں۔

علاقہ کے لوگوںنے مسلسل تیسرے روز بھی مانگ کی کہ ٹنگڈار میں جاں بحق ہوئے جنگجو نوجوانوں کی میتیں لواحقین کو سونپ دی جائیں۔اس دوران قصبہ میں تشدد بھی بھڑک اٹھا ۔معلوم ہوا ہے کہ وشہ بگ ،ڈانگر پورہ چوک اور مرن چوک میں منگل کی صبح جب دکانات کھلنی شروع ہوگئیں ،تو یہاں تشدد بھڑک اٹھا ۔معلوم ہوا ہے کہ نوجوانوں کی ٹولیاں مختلف مقامات پر نمودار ہوئیں ،جس دوران انہوں نے فورسز اہلکاروں پر پتھراﺅ کرنا شروع کردیا جسکی وجہ سے قصبہ میں افراتفری پھیل گئی اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے جبکہ قصبہ میں آنا ًفاناً دوبارہ دکانات بند ہوگئیں ۔اس دوران فورسز اہلکاروں نے مشتعل نوجوانوں کو تتربتر کرنے کےلئے ٹیر گیس شلنگ کی ،جسکے ساتھ طرفین کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپیں شروع ہوئیں اور یہ سلسلہ وقفے وقفے سے کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔معلوم ہوا ہے کہ پتھراﺅ ،جوابی پتھراﺅ اور ٹیر گیس شلنگ میں کئی اہلکاروں سمیت متعدد افراد مضروب ہوئے ۔پتھراﺅ اور ٹیر گیس شلنگ کے نتیجے میں قصبہ میں صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی تھی ۔

دریں اثنا دونوں نوجوانوں کے رشتہ داروں نے سرینگر میں پریس کالونی،جہاں بیشتر اخبارات اور میڈیا کے دیگر اداروں کے دفاتر موجود ہیں،میں احتجاجی دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ کسی مزید ٹال متول کے بغیر انہیں انکے رشتہ دار نوجوانوں کی نعشیں سونپ دی جائیں۔واضح رہے کہ وادی میں جہاں کہیں بھی کوئی جنگجو سرکاری فورسز کے ہاتھوں مارا جائے انکی نعش لواحقین کے سپرد کردی جاتی ہے جبکہ غیر ملکی جنگجووں کے جلوس ہائے جنازہ میں لوگوں کی بھاری تعداد کے شامل ہونے کے بعد سے پولس نے انہیں اپنے طور شمالی کشمیر کے ایک قبرستان میں دفن کرنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔

Exit mobile version