کھلاڑیوں کی رہائی کے مطالبہ پر انجینئر رشید اسمبلی سے نکالے گئے!

فائل فوٹو

جموں// جموں کشمیر اسمبلی کے ایک سرکردہ ممبر انجینئر رشید نے آج سرکار پر سرحدی علاقوں کے لوگوں کو بہتر سہولیات بہم نہ رکھنے کے الزام کے ساتھ ہنگامہ کیا اور کہا کہ انہیں سہولیات بہم نہ کی جاسکتی ہوں تو پھر انہیں پاکستان کی جانب ہجرت کرنے کی اجازت دی جانی چاہیئے کہ جہاں ،بقول انکے،سرحدی عوام کو ہر طرح کا آرام دستیاب ہے۔انجینئر رشید کے بیان پر اسمبلی میں ہنگامہ ہوا اور اسپیکر نے انہیں ایوان سے زبردستی باہر نکلوادیا۔

ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی انجینئر رشید نے احتجاج کرتے ہوئے شمالی کشمیر میںکرناہ اور گریز میں ٹنلیں تعمیر کرکے ان علاقوں کو ہمہ موسم رابطہ سڑکیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکار سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کو یہ ٹنلیں اور دیگر بنیادی سہولیات نہیں دے سکتی ہے تو پھر ان علاقوں کے لوگوں کو لائن آف کنٹرول کے اُس پار جانے کی اجازت دی جانی چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ ایل او سی کی دوسری جانب کے لوگ زندگی کی ہر سہولت کا مزہ لے رہے ہیں وہیں اِس جانب کے لوگوں کو پتھر کے زمانے میں جینے کیلئے مجبور کئے رکھا گیا ہے اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے انکی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گریز اور کرناہ میں بہتر سڑک رابطہ اور دوسری سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال ان علاقوں میں کتنے ہی لوگ بے موت مارے جاتے ہیں لیکن وقت کی سرکاریں بلند بانگ دعووں سے آگے بڑھکر ان علاقوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش تک نہیں کرتی ہیں۔کرناہ میں دو روز قبل کم از کم 11افراد کے برفانی تودے کی زد میں آکر جاں بحق ہونے کے بعد سے احتجاج کر رہے کرناہ کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انجینئر رشید نے سادھنا کے قریب ٹنل کی تعمیر کے انکے مطالبہ کو جائز ٹھہرایا اور کہا کہ انسانی زندگیوں کو بچانے کیلئے اس پر جلد کام شروع کیا جانا چاہیئے۔

اگر کشمیر میں کرکٹ کھیلتے بچے پاکستانی ترانے گنگناتے ہیں تو اس میں انکی کوئی غلطی نہیں ہے بلکہ یہ ریاستی اور مرکزی سرکار کی ناکامی ہے جنہیں مزید دیر ہوئے بغیر اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

انجینئر رشید کو اس وقت ایوان سے ماشل آوٹ کرایا گیا کہ جب انہوں نے بانڈی پورہ میں ایک کھیل مقابلے کے دوران مبینہ طور پاکستانی ترانہ گنگنانے کے الزام میں مقامی کھلاڑیوں کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا معاملہ اٹھایا اور اس پر زور دار احتجاج کیا۔ایوان کے بیچوں بیچ آکر انجینئر رشید نے کہا کہ اگر کشمیر میں کرکٹ کھیلتے بچے پاکستانی ترانے گنگناتے ہیں تو اس میں انکی کوئی غلطی نہیں ہے بلکہ یہ ریاستی اور مرکزی سرکار کی ناکامی ہے جنہیں مزید دیر ہوئے بغیر اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں اپنے آپ کو مین سٹریم کے سیاستدان کہلانے والوں کو سوچنا ہوگا کہ کشمیری نوجوان پاکستان کے گن کیوں گاتے ہیں۔ایوان میں موجود وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو مخاطب کرتے ہوئے انجینئر رشید نے انہیں یاد دلایا کہ کس طرح وہ خود سبز لباس پہنکر خود کو پاکستان کے قریب بتانے کی سیاست کرتی رہی ہیں اور اگر اس حقیقت کے تناظر میں نوجوانوں کی جانب سے پاکستانی ترانہ گنگنائے جانے کو دیکھا جائے تو پھر انکا قصور کیا ہے؟۔واضح رہے کہ بانڈی پورہ میں ایک کرکٹ میچ کے دوران کھلاڑیوں کی طرفسے پاکستانی ترانہ گنگنانے پر انکے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور چار کھلاڑیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پی ڈی پی اور بی جے پی کے ممبران کے ساتھ گرم گفتاری کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ چونکہ نئی دلی مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کیلئے کوئی بھی ٹھوس اقدام کرنے میں ناکام ہوئی ہےجموں کشمیر کے نوجوان مین سٹریم اور مزاحمتی خیمے کے لیڈروں سے بھی مایوس ہوچکے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قیادت انہیں کچھ بھی دینے میں ناکام ہوئی ہے۔نئی دلی پر ضد پر اڑے ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ جب سید علی شاہ گیلانی جیسی آواز خلق کو سُننے کی ضرورت محسوس کرنے کی بجائے وہی ہٹ دھرمی کا راستہ اپنایا جائے تو پھر منان وانی جیسے اعلیٰ ترین تعلیم والے نوجوان بھی مایوس ہوکر بندوق کو واحد راستہ سمجھنے لگتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ منان وانی کا جنگجو بن جانا فوج کی طرفسے جاری آُریشن آل آوٹ کی شکست ہے۔انجینئر رشید کی زبان سے کھری کھری سننے کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپیکر نے انہیں زبردستی ایوان بدر کردئے جانے کا حکم دیا اور یوں انہیں مارشل آوٹ کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیئے

شریعت حرفِ آخر ہے،عدالت یا پارلیمنٹ کو مداخلت کا حق نہیں:انجینئر رشید

Exit mobile version