ردِ تشدد فقط بات چیت سے ممکن ہے: محبوبہ مفتی

بجبہاڑہ// وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں جاری خونریزی کو روکنے کیلئے اور دائمی امن کے قیام کیلئے ہندوپاک کے مابین سنجیدہ مذاکرات لازمی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ دونوں ممالک جب تک دوستی پر آمادہ نہ ہوجائیں وادی کشمیر کو تشدد کے بھنور سے نہیں نکالا جا سکے گا۔جنوبی کشمیر میں اپنے آبائی قصبہ بجبہاڑہ میں اپنے والد مفتی سعید کی دوسری برسی کے موقعہ پر جمع کئے گئے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے ہندوپاک کی سیاسی قیادت سے مخاطب ہوکر کہا ”میں اپنے ملک کے وزیر اعظم اور پاکستانی حکمرانوں سے گذارش کرتی ہوں کہ کب تک ہمیں انسانیت کا خون بہتے ہوئے دیکھنا ہے۔ گذشتہ ہفتے فدائین حملے میں 5 سی آر پی ایف اہلکار مارے گئے، کل ہی سوپور میں ہمارے چار جوانوں کو ہلاک کیا گیا۔ کہیں پر تصادم ہوتا ہے تو 27 سالہ جنگجو مارا جاتا ہے، وہ بھی یہیں کا رہنے والا ہوتا ہے۔ آخر کب تک یہ خون بہے گا۔ سرحدوں پر دیکھو کیا ہورہا ہے۔ پاکستان حملہ کرتا ہے تو ہمارے چار جوان شہید ہوتے ہیں اور ہم جوابی کاروائی کرتے ہیں تو ان کے پانچ جوان شہید ہوجاتے ہیں۔ زندگی جب چلی جاتی ہے تو وہ واپس نہیں آتی ہے۔ میں دونوں ممالک سے کہتی ہوں کہ جموں وکشمیر اور برصغیر میں امن کے لئے ہند و پاک دوستی ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی اور چارہ نہیں ہے“۔

’’مفتی صاحب کہتے تھے کہ جموں وکشمیر کو موجودہ مصیبت سے باہر نکالنا ہوگا اور اس کا واحد حل بات چیت ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ گرینیڈوں سے کیا ہوگا؟اس سے صرف ہمارے قبرستان آباد ہورہے ہیں۔ اس سے کوئی مقصد پورا نہیں ہورہا ہے۔ ہم گذشتہ قریب تیس برسوں سے بندوقوں کے سایے تلے زندگی گذر بسر کررہے ہیں۔ آپ ہی بتائیں کہ ان بندوقوں سے ہمارا کونسا مقصد پورا ہوا ہے“۔

وزیر اعلیٰ نے وادی کشمیر میں جاری خونریزی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ”وادی کشمیر کو صرف اور صرف بات چیت کے ذریعے ہی تشدد کے بھنور سے باہر نکالا جاسکتا ہے“۔انہوں نے تشدد کو مسائل کا حل ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ” تشدد سے صرف کشمیر کے قبرستان آباد ہورہے ہیں“۔اپنی تقریر کے دوران محبوبہ مفتی نے کئی بار اپنے والد کے ”فلسفہ“کا تذکرہ کیا اور کہا ’’مفتی صاحب کہتے تھے کہ جموں وکشمیر کو موجودہ مصیبت سے باہر نکالنا ہوگا اور اس کا واحد حل بات چیت ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ گرینیڈوں سے کیا ہوگا؟اس سے صرف ہمارے قبرستان آباد ہورہے ہیں۔ اس سے کوئی مقصد پورا نہیں ہورہا ہے۔ ہم گذشتہ قریب تیس برسوں سے بندوقوں کے سایے تلے زندگی گذر بسر کررہے ہیں۔ آپ ہی بتائیں کہ ان بندوقوں سے ہمارا کونسا مقصد پورا ہوا ہے“۔

مفتی سعید کا 7 جنوری 2016 کو اس وقت نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) میں انتقال ہو اتھا جب وہ ریاست میں پی ڈی پی -بی جے پی مخلوط حکومت کی بحیثیت وزیر اعلیٰ قیادت کررہے تھے۔ ان کے انتقال کے ایک روز بعد یعنی 8 جنوری 2016 ءکو ریاست میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا۔ مفتی محمد سعید کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ ہندوستان کے پہلے مسلم وزیر داخلہ بنائے گئے تھے۔ مفتی سعید نے 13 نومبر 2015 ءکو اپنی بیٹی محبوبہ مفتی کو ریاست کی اگلی وزیر اعلیٰ بنائے جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ مفتی سعید کے انتقال کے تین ماہ بعد ان کی بیٹی محبوبہ مفتی نے 4 اپریل 2016 ءکو ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے جموں وکشمیر کی پہلی مسلم خاتون وزیراعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل کرلیا۔

Exit mobile version