جی ایس ٹی کیلئے مخصوص اسمبلی اجلاس میں ہنگامہ طے

سرینگر// جموں کشمیر میں نئے ٹیکس قانون جی ایس ٹی کے نفاذ سے متعلق جاری تنازے کے بیچ آج سے اسمبلی کا چار روزہ اجلاس شروع ہونے جارہا ہے جس میں زبردست ہنگامہ ہونے کا امکان ہے۔اجلاس کا مقصد جی ایس ٹی بِل پر بحث ہونا ہے تاہم وزیرِ خزانہ حسیب درابو نے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ پہلے ہی 6جولائی سے جی ایس ٹی کے نفاذ کا فیصلہ لے چکے ہیں جبکہ نیشنل کانفرنس نے اُنکے اس بیان کے بعد اسمبلی اجلاس کو بے معنیٰ و بے مقصد قرار دیا ہے۔

بھارت کی سبھی ریاستوں میں یکم جولائی سے جی ایس ٹی لوگو ہوگیا ہے تاہم جموں کشمیر میں اس قانون کے حوالے سے تنازعہ جاری ہے کہ تاجر تنظیموں اور اپوزیشن نے اس قانون میں ترمیم کی ضرورت اُجاگر کرتے ہوئے موجودہ حیئت میں اس قانون کو ریاست کی ”خصوصی پوزیشن اور مالی خود مختاری“کے منافی قرار دیا ہے۔حکومت نے ابھی تک اس حوالے سے اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے لئے دو بار کُل جماعتی اجلاس بلائے تھے لیکن اتفاق نہ ہوسکا۔اس سلسلے میں 17جون کو اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا تھا تاہم اُسے تعزیتی تحریک تک محدود کرنے کے بعد پہلے ہی دن ملتوی کردیا گیا۔

اس پوری صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آج سے شروع ہونے والا اسمبلی اجلاس انتہائی ہنگامہ خیز ہو سکتا ہے حالانکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ سرکار کسی بھی طرح کا ”جگاڑ“کرکے جی ایس ٹی کے نفاذ کا فیصلہ لے کر ہی رہے گی۔

یہ دوسری بار ہے کہ جب حکومت نے جی ایس ٹی بل پاس کرنے کے لئے اسمبلی کا اجلاس بلایا ہے تاہم اپوزیشن ابھی تک اس بات پر بضد ہے کہ اس بل میں ترمیم لائی جانی چاہیئے حالانکہ پی ڈی پی کے سئینئر لیڈر اور سابق وزیرِ خزانہ مظفر بیگ واضح کرچکے ہیں کہ اس بل میں ترمیم لانا آسان نہیں ہے کیونکہ ایسا کئے جانے کی صورت میں بھارت میں ایک آئینی بحران پیدا ہونے کا احتمال ہے۔اس پوری صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آج سے شروع ہونے والا اسمبلی اجلاس انتہائی ہنگامہ خیز ہو سکتا ہے حالانکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ سرکار کسی بھی طرح کا ”جگاڑ“کرکے جی ایس ٹی کے نفاذ کا فیصلہ لے کر ہی رہے گی۔

Exit mobile version