کشمیرفوجی طاقت سے حل ہوسکا ہے نہ ہوپائے گا:گیلانی

سرینگر// بزرگ علیٰحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ”بھارتی پالیسی ساز“جموں کشمیر میں 90کی دہائی کے جیسے حالات پیدا کرنے کشمیری عوام کو ردِ عمل پر مجبور کرنا چاہتے ہیں تاکہ انکا قتل عام دہرایا جاسکے۔شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ میں چار جنگجووں کو مارے جانے پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مرکزی سرکار کی ”ہٹ دھرمی والی پالیسی“خطے میں خون خرابہ اور انسانی زندگیوں کا اتلاف کی وجہ بنی ہوئی ہے۔

مرکزی سرکار پر سنگین الزام لگاتے ہوئے انہوںنے کہاہے” بھارتی پالیسی ساز جموں کشمیر میں ایک بار پھر 90ءجیسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہےں تاکہ وہ یہاں کے لوگوں کو قتل وغارت گری کا نشانہ بنا سکے۔ وہ لوگوں ”پشت بہ دیوارکررہے ہیں اور طاقت کے بے تحاشا استعمال کرکے چاہتے ہیں کہ اس کا ردِعمل ہو، تاکہ انہیں عام شہریوں کوبُلٹ اور پیلٹ کے ذریعے سے ہلاک اور اندھا کرنے کا بہانہ ہاتھ آجائے“۔

جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس کو صرف اپنے تاریخی پسِ منظر کی روشنی میں حل کیا جاسکتا ہے اور اس کو ملٹری پاور کے ذریعے سے ماضی میں حل کیا جاسکا ہے اور نہ مستقبل میں اس طرح کے روئیے سے کوئی مثبت نتیجہ نکالا جانا ممکن ہے۔

بزرگ رہنمانے ایک بار پھر یہ بات دہرائی ہے کہ جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس کو صرف اپنے تاریخی پسِ منظر کی روشنی میں حل کیا جاسکتا ہے اور اس کو ملٹری پاور کے ذریعے سے ماضی میں حل کیا جاسکا ہے اور نہ مستقبل میں اس طرح کے روئیے سے کوئی مثبت نتیجہ نکالا جانا ممکن ہے۔ حریت چیرمین نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے” ضد اور ہٹ دھرمی ترک کرکے زمینی حقائق کو قبول کیا جانا چاہیئے“۔انہوں نے کہا ہے”اس(کشمیر) مسئلے کو جتنی دیر تک اُلجائے رکھا جائے گا اس سے انسانی زندگیوں کا اتلاف جاری رہے گا اور اس مسئلے کی وجہ سے پورے برصغیر پر خطرات کے بادل منڈلاتے رہیں گے“۔

Exit mobile version