نا مناسب لباس کے لئے،آرٹی او کشمیرکوعدالت کی پھٹکار

سرینگر // (ایم اے پرے)

جموں کشمیر ہائی کورٹ میں کل اُسوقت ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی کہ جب چیف جسٹس بدر دُریز احمد اور جسٹس علی محمد ماگرے پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ریجنل ٹرانسپورٹ افسر(آر ٹی او)کشمیر کو عدالت میں غیر مناسب لباس پہن کر آنے کے لئے اُنہیں آڑھے ہاتھوں لیا۔عدالت نے اُنہیں یہ کہکر ڈانٹ پلائی کہ وہ عدالت میں ہیں نہ کہ کسی کرکٹ میدان میں لہٰذا اُنہیں مناسب لباس میں ہونا چاہیئے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جب عدالت نے کسی افسر کو اُنکے” غیر مناسب لباس“کے لئے لتاڑا ہو بلکہ 2013میں چیف جسٹس ایم ایم کمار اور جسٹس مظفر عطار کے ڈویژں بنچ نے ایک کے اے ایس افسر کو اُنکے ”غیر مناسب لباس“کے لئے شرمندہ کر دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او کشمیر کسی معاملے میں ڈویژں بنچ کے سامنے پیش ہورہے تھے اور وہ ٹی شرٹ و جینز پہن کر آئے تھے تاہم عدالت نے اس پر زبردست ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ افسر کی سرزنش کی۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس بد دُریز اور جسٹس علی محمد ماگرے کے ڈویژن بنچ نے مذکورہ افسر سے سوال کرتے ہوئے کہا”آپ عدالت کے سامنے مناسب لباس میں کیوں نہیں ہیں؟آپ کسی کرکٹ میدان میں نہیں ہیں،کیا آپ اپنے دفتر میں بھی اسی طرح رہتے ہیں؟“۔تاہم مذکورہ افسر کا دفاع کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل جہانگیر گنائی نے وضاحت دی اور عدالت سے کہا کہ مذکورہ افسر کسی میٹنگ میں مصروف تھے اور عدالت میں پیشی کے لئے عجلت میں نکلے اور یہی وجہ ہے کہ وہ عدالت میں پیشی کے لئے مناسب لباس نہ پہن سکے ہیں۔اس مداخلت پر عدالت نے آر ٹی او کشمیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا”ہم آج آپ کو معاف کرتے ہیں“۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جب عدالت نے کسی افسر کو اُنکے” غیر مناسب لباس“کے لئے لتاڑا ہو بلکہ 2013میں چیف جسٹس ایم ایم کمار اور جسٹس مظفر عطار کے ڈویژں بنچ نے ایک کے اے ایس افسر کو اُنکے ”غیر مناسب لباس“کے لئے شرمندہ کر دیا تھا۔جینز پہن کر آئے لمرگ ڈیولوپمنٹ اتھارٹی کے اُسوقت کے چیف ایکزیکٹیو افسر سے جسٹس عطار نے کہا تھا”یہ کس طرح کے کپڑے پہن کر آئے ہیں آپ“۔مذکورہ افسر کی حالت تب اور زیادہ خراب ہوگئی تھی کہ جب اُنکے ”سوری“کہنے پر جج نے کہا تھا”سوری کہکر ہر غلطی سے بچ نکلتے ہو،حالانکہ اگر ایک انگریز سے آپ سوری کہلوانا چاہیں ،اُسے بڑا وقت لگتا ہے کہنے میں کیونکہ اُنکے لئے سوری کہنے کا بڑا مطلب ہوتا ہے “۔(بشکریہ کشمیر ریڈر)

Exit mobile version