ہندوستانی مسلمان ایوان میں نہ آیا تو حاشیہ پر ہوگا:صدیقی

نئی دہلی// دلی کی کانگریس کے سرکردہ لیڈر اورسپریم کورٹ سرفراز احمد صدیقی نے مسلمانوں کیلئے سیاست اور پھر ایوان میں آنے کو انتہائی لازمی بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی کے تمام راستے سیاست سے ہی نکل کر آتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ جب تک مسلم نوجوان سیاست اور ایوان میں اپنی مناسب نمائندگی کویقینی نہیں بنائیں گے، وہ حاشیے پر ہی رہیں گے ۔پردیش کانگریس کمیٹی دلی کے سکریٹری نے بتایا کہ سیاست اور ایوان میں مسلمانوں کی کمی کے بارے میںمسلمانوں کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے اور اسے شجر ممنوعہ نہیں سمجھنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں شراکت کی وجہ سے ہی بہت سے کام آسانی سے ہوجاتے ہیں اور کئی مسئلے چٹکیوں میں حل ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم اپنے پیسے سے سارا کام نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہم تعلیمی ادارے کھول سکتے ہیں جب کہ مسلمانوں میں تعلیم اور روزگار کا مسئلہ سب سے نمایاں ہے اور غریبی میں بھی مسلمان کافی آگے ہے اور صورت حال یہ ہے کہ ملک کا ہر چوتھا بھیک مانگنے والا مسلمان ہے ۔

مسلمان ووٹ تو کثیر تعداد میں ڈالتے ہیں لیکن اس کے فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہ جاتے ہیں کیوں کہ منتخب ہونے والا ان کا اپنا نمائندہ نہیں ہوتا جو ان کے مسائل اور پریشانی پر توجہ مرکوز کرے

سرفراز صدیقی کے مطابق اس صورتحال کے کئی وجوہات ہیں تاہم اس کی اہم وجہ مسلمانوں کی سیاست سے کنارہ کشی بھی ہے ۔ انہوں نے کہا”جس طبقہ کی سیاست میں شراکت زیادہ ہوتی ہے وہ طبقہ زندگی کی دوڑ میں اتنا ہی آگے ہوتا ہے اور وہی طبقہ تمام شعبہائے حیات میں چھایا ہوا ہوتا ہے ۔ مسلمان ووٹ تو کثیر تعداد میں ڈالتے ہیں لیکن اس کے فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہ جاتے ہیں کیوں کہ منتخب ہونے والا ان کا اپنا نمائندہ نہیں ہوتا جو ان کے مسائل اور پریشانی پر توجہ مرکوز کرے“ ۔سرفراز صدیقی نے مزید کہا” اگر آپ کے درمیان کا اور کمیونٹی کے تئیں عہد کے پابند کوئی منتخب ہوکر جاتا ہے اور وہ وزیر یا دیگر عہدے پر فائز ہوتا ہے کہ جو ایک تنظیم دس سال میں ایک تعلیمی ادارہ یا صنعت و حرفت قائم کرے گی وہ وہ ایک سال میں کئی ادارے اور صنعت و حرفت سے متعلق ادارے کھول سکتا ہے ۔ مسلمان جس دن اس چیز سمجھیں گے ان میں اچھے لوگ سیاست میں اپنی شراکت میں اضافہ صرور کریں گے ۔انہوں نے مزید کہاکہ 2019میں مسلمانو ں کو اپنی شراکت بڑھانے کے لئے ابھی سے غور و خوض شروع کردینا چاہئے وہ ایسا لائحہ عمل ترتیب دیں جس سے مسلمانوں کی نمائندگی اسمبلی اور پارلیمنٹ میں بڑھ سکے “۔

Exit mobile version