کُتے اور انسان ایک ساتھ کھانے پینے لگے!

سڑک پر گرا دودھ، جسے پینے کے لیے جمع چند آوارہ کتے اور ان کتوں کے درمیان اسی دودھ سے اپنی بھوک اور پیاس مٹاتا انسان۔ انڈیا میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس نے لاک ڈاؤن سے غریب عوام کے لیے پیدا ہونے والی صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔
انڈیا کے نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے ٹوئٹر اکاونٹ پر جاری کی گئی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑک پر گرے دودھ کو پینے کے لیے کچھ کتے موجود ہیں وہیں ایک شخص اسے اپنے چلّو میں بھر کر مٹکے میں ڈالنے کی کوشش میں مگن ہے۔
اس ویڈیو کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہ انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش کے شہر آگرہ کی ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی اور سوشل میڈیا صارفین اس کو ‘انسانیت کے لیے المیہ’ قرار دے رہے ہیں۔
وینیش تپاسوی نامی صارف نے لکھا کہ ‘اگر ہم اسلحے کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے ان لوگوں پر لاکھوں روپے لگاتے تو یہ دنیا رہنے کے لیے ایک بہتر جگہ ہوتی۔’
دامولوگا سیشادھری نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ ‘تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اس شخص کی یہ حالت لاک ڈاؤن کے نہ ہوتے ہوئے بھی ہوسکتی ہے۔’
ساتھ ہی انہوں نے اس منظر کو اپنے کیمرے میں عکسبند کرنے والے صحافی کے حوالے سے لکھا کہ امید ہے کہ جس رپورٹر نے مشہور ہونے کے لیے یہ ویڈیو بنائی ہے اس نے اس شخص کو کھانا ضرور دیا ہوگا۔

ایک اور صارف سبیرینہ روحان نے لکھا کہ ‘بس تھالی بجاؤ غریب کا مٹکا نہ بھرنا۔’
کچھ صارفین اس ویڈیو میں نظر آنے والے افسوس ناک منظر کو لاک ڈاؤن کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کر رہے ہیں تو کچھ ایسے بھی ہیں جو اس بات سے متفق نہیں۔
محمد چوبیر کے نام سے ٹوئٹر ہینڈل نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ‘بہت افسوس کیونکہ لاک ڈاؤن سے پہلے تو یہ شخص بریانی اور آئس کریم کھا رہا تھا نا۔’
محمد یوسف نامی صارف نے لکھا کہ ‘بہت دکھ کی خبر ہے، لاک ڈاؤن کے ان حالات میں غریبوں کی مد کریں۔’
 
اس ویڈیو پر نہ صرف انڈین بلکہ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین بھی اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
پاکستانی صحافی غریدہ فاروقی نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ مناظر پوری دنیا میں کورونا وائرس کی ایک بری یاد کے طور پر ہمارے ذہن میں نقش رہیں گے۔
واضح رہے کہ انڈیا میں وزیراعظم نریندر مودی نے  گذشتہ مہینے ملک میں 21 دن کے لاک ڈاون کا اعلان کیا تھا جو منگل کو ختم ہوجائے گا تاہم امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی جائے گی۔
اس لاک ڈاؤن کے دوران غریب مزدور طبقے کو سخت پریشانی سے دوچار کر رکھا ہے اور بھوک سے مر جانے کے خوف سے کئی مزدور اپنے اپنے گاوں کا رخ کرچکے ہیں۔
 

Exit mobile version