ٹرمپ کے فیصلہ سے ایران مشتعل،یورینیم کی افزودگی بحال

تہران// ایرانی صدر حسن روحانی نے قوم سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تازہ فیصلے کے ”معاشی نتائج“کی فکر نہ کرنے کیلئے کہتے ہوئے یورینیم کی ”لا محدود“افزودگی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس دوران صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ سے الگ ہونے کے اعلان پر بین الاقوامی سطح پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ کی تنقید کی جا رہی ہے۔ایک مغربی سفارت کار نے ٹرمپ کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کا یہ فیصلہ ان کے یوروپی اتحادیوں کو سب سے زیادہ نقصان پھنچائے گاوہیں ٹرمپ کے پیش رو براک اوبامہ نے ٹرمپ کے فیصلے کو ”راستہ سے بھٹک جانے کی غلطی “قراردیا ہے ۔خودایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر کے اعلان کے بعد کہا ہے کہ وہ اس جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے اور اس حوالے سے چین، روس اور دیگر یوروپی ممالک سے مشاورت کریں گے ۔

”’آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کونسا ملک بین الاقوامی معاہدوں کا احترام نہیں کر رہا۔ وہ واحد ناجائز اور یہودی ملک ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی حمایت کی ہے “۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے فوراً بعد ہی سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے حسن روحانی نے ایرانی عوام سے کہا کہ وہ اس فیصلہ کے معاشی نتائج کی فکر نہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ”اب سے یہ معاہدہ ایران اور پانچ ممالک کے درمیان ہے اور ہم کسی فیصلے کا اعلان کرنے سے قبل چند ہفتے انتظار کریں گے اور 2015کے معاہدے میں شامل دیگر ممالک برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، چین اور یوروپی یونین کے ساتھ بات کریں گے “۔بی بی سی کے مطابق حسن روحانی نے کہا کہ ایران امریکی صدر کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے فیصلے کے جواب میں یورینیم کی ”لا محدود“افزودگی دوبارہ شروع کر سکتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ ”میں نے ایرانی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کو مستقبل میں کارروائیوں کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے تاکہ ہم لامحدود صنعتی افزودگی دوبارہ شروع کر سکیں“۔ایرانی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کو ”ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ“ قرار دیا ہے ۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حسن روحانی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے ہمیشہ اس معاہدے کی پاسداری کی ہے ۔انھوں نے اسرائیل کے نام لئے بغیر کہا کہ”’آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کونسا ملک بین الاقوامی معاہدوں کا احترام نہیں کر رہا۔ وہ واحد ناجائز اور یہودی ملک ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی حمایت کی ہے “۔واضح رہے کہاسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا صدر ٹرمپ کے فیصلے پر کہنا تھا کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کے فیصلے کی”قدر“کرتا ہے ۔دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ ایسا قدم نہ اٹھائے جس سے ان ممالک کے لیے مشکل پیدا ہو جو اب بھی ایران جوہری معاہدے میں رہنا چاہتے ہیں۔

Exit mobile version