ریاضی میں ’’نوبل پرائز“ پانے والی مسلمان خاتون جوانمرگ ہوگئیں

واشنگٹن// ریاضی کے میدان میں دنیا کا سب سے بڑا اعزاز ’فیلڈز میڈل‘ حاصل کرنے والی پہلی خاتون ایرانی نژاد مریم مرزاخانی امریکا میں انتقال کر گئیں۔ 40 سالہ مریم مرزاخانی گزشتہ کئی سال سے کینسر کے خلاف لڑ رہی تھیں، امریکا کے ہسپتال میں ان کا علاج جاری تھا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکیں۔مریم مرزاخانی کے دوست فیروز نادری نے ان کے انتقال کا اعلان سماجی ویب سائٹ ’انسٹاگرام‘ پر کیا، جبکہ مریم کے اہلخانہ نے ایران کی ایجنسی ’مہر‘ کو اس کی تصدیق کی۔

ناسا کے ’سولر سسٹم ایکسپلوریشن‘ کے سابق ڈائریکٹر فیروز نادری نے لکھا کہ ’روشنی کا دیہ بجھ گیا جس پر میں بہت غمگین ہوں اور مریم بہت جلد ہم سے دور چلی گئی۔‘انہوں نے مزید لکھا کہ ’مریم ذہین تو تھیں ہی لیکن وہ بیٹی، ماں اور بیوی بھی تھیں۔‘ایرانی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا کہ کیلیفورنیا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات انجام دینے والی مریم مرزاخانی گزشتہ چار سال سے سرطان (کینسر) کے مرض میں مبتلا تھیں جو ان کے جسم میں پھیلتے ہوئے بون میرو تک پہنچ چکا تھا۔

مرزاخانی کو ’انٹرنیشنل کانگریس آف میتھمیٹیشینز‘ کی جانب سے 2014 میں ریاضی کے ’جیومیٹری‘ اور ’ڈائنامیکل سسٹمز‘ کے شعبوں میں ان کی گراں قدر خدمات کے لئے ’نوبیل انعام‘ کے برابر کا درجہ رکھنے والا ’فیلڈز میڈل‘ دیا گیا تھا۔

مریم مرزاخانی کو ’انٹرنیشنل کانگریس آف میتھمیٹیشینز‘ کی جانب سے 2014 میں ریاضی کے ’جیومیٹری‘ اور ’ڈائنامیکل سسٹمز‘ کے شعبوں میں ان کی گراں قدر خدمات کے لئے ’نوبیل انعام‘ کے برابر کا درجہ رکھنے والا ’فیلڈز میڈل‘ دیا گیا تھا۔ پروفیسر مریم مرزاخانی 1977 میں ایران میں انقلاب سے پہلے پیدا ہوئیں تھیں 20 سال سے بھی کم عمر میں ریاضی کے بین الاقوامی مقابلوں میں دو سنہری تمغے جیت چکی تھیں۔انہوں نے امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی سے 2004 میں پی ایچ ڈی حاصل کی، جس کے بعد وہ 2008 میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں ریاضی کی پروفیسر مقرر ہوگئی تھیں۔

Exit mobile version