پاکستان میں کرونا مریضوں کی تعداد 1 ہزار سے زیادہ

دُنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی کرونا متاثرہ مریضوں کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ زائد از نصف درجن افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔
بدھ کی صبح کورونا وائرس کے حوالے سے وزارت قومی صحت کی جانب سے قائم کیے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کی کل تعداد ایک ہزار ہو چکی ہے اور اب تک سات افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔ پانچ افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے اعداد و شمار کے مطاق ملک بھر میں 19 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں اب تک کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز صوبہ سندھ میں سامنے آئے ہیں جہاں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 413 ہو چکی ہے۔صوبہ پنجاب میں 296 جبکہ بلوچستان میں اب تک 115 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے اعداد وشمار کے مطابق گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے 81، خیبر پختونخوا 78 ، اسلام آباد 18 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا وائرس کا ایک مریض سامنے آیا ہے۔

گلگت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال پر مامور ڈاکٹر بھی ہلاک ہونے والے افراد میں شامل ہیں۔

پاکستان میں خیبر پختونخوا میں تین جبکہ پنجاب سندھ بلوچستان اور گلگت بلتستان سے ایک ایک افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گلگت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال پر مامور ڈاکٹر بھی ہلاک ہونے والے افراد میں شامل ہیں۔پاکستان کے قومی ادارہ صحت نے ہیلپ لائن نمبر 1166 جبکہ تمام صوبوں نے صوبائی سطح پر ہیلپ لائنز قائم کی ہیں۔ کورونا سے متعلق معلومات یا وائرس کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
صحت کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی ٹیمیں گھر بھیجی جائیں گی یا پھر کے علاقے میں سرکاری یا نجی لیبارٹری یا ہسپتال کے بارے آگاہ کر دیا جائے گا۔ قومی ادارہ صحت کے ڈاکٹر مدثر محمود نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ایسی صورت میں مریض کو قرنطینہ مرکز یا آئسولیشن وارڈ میں بھی منتقل کیا جاتا ہے جہاں اس کے پھیپھڑوں کی آکسیجن اندر لے جانے کی صلاحیت چیک کی جاتی ہے اور ضرورت محسوس کرنے پر وینٹی لیٹر پر منتقل کیا جاتا سکتا ہے۔‘ ڈاکٹر مدثر محمود نے بتایا کہ ’اگر آپ کو ہیلپ لائن پر رائے دی گئی ہے تو فوراً ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس جائیں تاکہ ٹیسٹ کیا جا سکے۔‘

Exit mobile version