ہم دفعہ35A کا دفاع کیوں کریں؟

بظاہر35Aآئینِ ہند کی بے شمار دفعات ایک دفعہ ہے مگراس کی اہمیت کا اندازہ ہر گزرتے دن جموں ،کشمیر اور لداخ کے باشندوں کو شدت کے ساتھ اس لئے ہو رہا ہے کہ آر،ایس،ایس پوری قوت کے ساتھ بی ،جے ،پی حکومت کے ذریعے سپریم کورٹ کے توسط سے ختم کرا کے پوری ریاست کا حلیہ بگاڑنا چاہتی ہے یہ خیال کرتے ہو ئے کہ ہر مزاحمت کی طرح ہم سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں اس دفعہ کے ہٹانے کے بعد کسی بھی تحریک کو سختی کے ساتھ کچل دیں گے ۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ آج مرکز میں براجمان سنگھ پریوار کی نیت کبھی بھی ریاست جموں و کشمیر کو لیکر صاف نہیں تھی اس لئے کہ ہندوستان کی کل ریاستوں میں ایک مسلم اکثریتی ریاست اس کے برہمن مزاج کو ہضم نہیں ہوسکتی ہے ۔آر ایس ایس نے روز اول سے اس کے لئے سازشیں رچیں اور اس کے لئے پہلے کانگریس اور اب اپنی ہی سیاسی پارٹی بی، جے، پی سے کام لینا شروع کر دیا ہے۔جموں و کشمیر میں بھی سن سنتالیس سے لیکر اب تک جتنے بھی مسلم حکمران برسرِاقتدار آئے انھوں نے بھی یہاں کی مخصوص شناخت کو قائم رکھنے کے بجائے حقیر مفادات کے خاطر باربار اسی کوزک پہنچانے کی کوشش کی ہے اور آج حالت یہ بنی ہے کہ اب ہمارے لئے اس دفاع کرنا بھی مشکل ثابت ہو رہا ہے اس لئے کہ ہمارے حکمرانوں نے دہلی کی خوشنودی کے خاطر باربار انہی مخصوص دفعات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی دفاع اور تحفظ کی نہیں ۔

 

کشمیری مسلمان بزرگوں اور نوجوانوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ہم ایک بہت ہی چھوٹی سی قوم ہیں، الگ قانون اور مخصوص شناخت کی وجہ سے ہی ہم آج تک الگ شناخت کے ساتھ زندہ ہیں نہیں تو بھارت جہاں انسانی سمندر آباد ہے ہمیں اپنے اندر سمو تے ہو ئے صرف تاریخ کے اوراق تک محدود کردیا ہوتا ۔

35Aکا معاملہ ہمارے لئے کتنی اہمیت رکھتاہے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے نہ صرف ہمارا روز گار ختم ہو جائے گا بلکہ اسے ہماری حالت فلسطینیوں سے بھی بدتر ہو جائے گی ۔مسئلہ کشمیر آپ سے آپ متاثر ہوگا جب بھارتی عوام کشمیر پر ہلہ بول کر یہاںکے باشندگی کی سند حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔پھر ہمارا وجود سوا ارب بھارت کے انسانی سمندر میں تحلیل ہو جائے گا ۔ہمارا مسلم شناختی کردار مٹ جائے گا ۔ہماری تہذیب و ثقافت ایک منحوس وجود کی شکل اختیار کرے گی۔ہماری زندگی اجیرن کر دی جائے گی۔ہماری ماو¿ں بہنوں کے ساتھ وہی شرمناک کھیل کھیلا جائے گا جو گذشتہ کئی برسوں سے پورے بھارت میں عروج پر ہے اور حد یہ کہ حکومت اس کے روک تھام کے لئے بالکل بے حس بنی ہوئی ہے ۔ ہندتوا کے نام پر جس ”لفنگاازم“کو عروج دیکر سماج کے ذلیل اور کمینہ صفت افراد کو کھلی چھوٹ دی جا چکی ہے یہ صرف اس لئے ہے کہ اس کے ذریعے پورے سماج کوخوفزدہ کر کے اپنی من پسند روش پر چلانا ہے اور اسی کا فائدہ اس وقت بدکردار، بدمعاش اور بد قماش لوگ پورے بھارت میں اٹھا رہے ہیں ۔انھوں نے سوا ارب آبادی والے ملک کے لوگوں کا جینا حرام کردیا ہے اور آر ایس ایس یہی کچھ کشمیری مسلمانوں کے سا تھ کروانا چاہتی ہے ۔ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اصل نشانے پر ہم یعنی مسلمان ہیں ۔جس آر ایس ایس نے سینکڑوں سالوں سے مقیم لاکھوںآسامی مسلمانوںاور چند ہزار ہندوں کوشہریت سے ہی محروم کردیا اوراس پر اب فخر کررہی ہے اس کے لئے کشمیری مسلمانوں کو وطن میں بے وطن کرنا کو ن سا مشکل امر ہے جبکہ آج پوری ہندوستانی ریاست آر ایس ایس کے لئے ایک لونڈی سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے ۔

کشمیری مسلمانوں کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اگر چہ یہ معاملہ خالصتاََقانونی نوعیت کاہے مگر جن طاقتوں نے اس کو چھیڑنے اور ختم کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے وہ اس کو قانونی ظلم یا ریاستی جبر کے طور پر سمجھنے کے بجائے ”تین طلاق“کے مسئلے کی طرح خالصتاََ مسلمانوں کا مسئلہ سمجھتے ہو ئے ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔جہاں تک عمر عبداللہ کے اس بیان کا تعلق ہے کہ اس کے دفاع کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ پنتیس اے کو قائم رکھنا چاہتے ہیں وہ بھارت کے ساتھ الحاق پر یقین رکھتے ہیں ایک طرح کا تجاہل عارفانہ ہے جو سیاستدان عموماََ برتتے ہو ئے ساری دنیا کو بیوقوف سمجھتے ہیں ۔عمر عبداللہ بخوبی واقف ہے کہ دراصل آزادی پسند عوام اور لیڈر شپ صرف اس دفعہ کا دفاع اس لئے کر رہے ہیں کہ اس کے ختم ہو نے سے ہم سیاسی طور پرفی الحال اور کمزور ہو سکتے ہیں لہذا بحالتِ مجبوری حریت لیڈران اس کا دفاع کرنے پر مجبور ہیں اس لئے کہ وہ جس آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آزادی بھارتی عوام کے اختلاط سے کئی حوالوں سے مشکل تصور کی جائے گی اور پھر آزادی پسند لیڈران اور عوام ان کے جموں و کشمیر سے بھگانے میں ہی مصروف ہو کر کافی عرصہ تک مقامی اور اندرونی مسائل میں پھنس جائیں گے ۔مین اسٹریم کبھی بھی کوئی بھی ایسا موقع کھونا نہیں چاہتے ہیں جس سے بھارت کی مرکزی سرکار کو یہ یقین نہ ہو جائے کہ دراصل یہ لوگ کھلی فضاوں میں سوچنے والے لیڈر یا لوگ ہیںعمر عبداللہ کا بیان اس کی ٹھیک عکاسی کرتا ہے ۔

کشمیری مسلمان بزرگوں اور نوجوانوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ہم ایک بہت ہی چھوٹی سی قوم ہیں، الگ قانون اور مخصوص شناخت کی وجہ سے ہی ہم آج تک الگ شناخت کے ساتھ زندہ ہیں نہیں تو بھارت جہاں انسانی سمندر آباد ہے ہمیں اپنے اندر سمو تے ہو ئے صرف تاریخ کے اوراق تک محدود کردیا ہوتا ۔ میں سمجھتا ہوں اور میری یہ رائے صحیح اور غلط ہو سکتی ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے الحاق ہند سے ہمارے جذبات بے شک مجروح کئے تھے مگر الگ قانون اور شناخت دیکر اس نے ہمیں بھارت کے انسانی سیلاب سے ضرور بچائے رکھا ہے اس کے بعد ان دفعات میں جتنی بھی کتر بیونت ہوئی وہ سب کی سب کشمیری مسلمان حکمرانوں کی بے ضمیری کا نتیجہ تھا اکیلے دہلی کی کارستانی نہیں ۔ہمیں ان دفعات کا دفاع ہر محاذ اور ہر طریقے پر کرتے ہو ئے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ہماری مجبوری ہی نہیں بلکہ یہ ہمارا فرض بھی ہے اور قرض بھی ۔فرض اس لئے ہے کہ ہم جس سامراج کے ساتھ سات دہائی قبل زبردستی کی شادی میں باندھے گئے تھے وہ مکمل طور پر اپنے عزائم اور ارادوں میں ننگے اورعریاں ہو چکا ہے ۔وہ اپنی تمام تر ہیبت اوروحشتناکی کے ساتھ ہمیں مٹانے کی تیاری کر چکا ہے وہ اس کے لئے سپریم کورٹ کو استعمال کرتے ہو ئے ہمیں بھارت میں ضم کر کے ذلتناک مقام پر پھینک کر نشان عبرت بنانا چاہتا ہے ۔ہم بحیثیت مسلمان اس ذلت میں جینے کے لئے تیار تو نہیں ہیں پر ہمیں اپنے لیڈران سے پوچھ لینا چاہیے کہ آخر جس بھارت کے سیکولر ازم ،جمہوریت اور اہنسا کے تم لوگ گیت گاتے رہتے ہو وہ ہمیں آخر فنا کرنے کے لئے ایک جٹ کیوں ہو چکے ہیں اور رہے آپ دہشت گردی کے نام پر ایک لاکھ جانوں کے اتلاف کے باوجود بھی آپ شکم سیر نہیں ہو ئے ہیں ۔آپ کو اب بھی بھارت میں ہی تمام تر خوبیاں نظر آتی ہیں آسام کا بے یار و مددگار مسلمان نہیں ۔اور تو اورآپ کی زندہ ضمیری کا عالم یہ ہے کہ آپ کو مرحوم صدر ہند فخر دین علی احمد اور اس کے خاندان کو گھس پیٹھی قرار دینا بھی نظر نہیں آتا ہے نا ہی وہ بھارتی فوج کے مسلمان سپاہی جو آسام میں صدیوں سے آباد ہو نے کے بعدNRCکی زد میں آنے کے بعد اپنی شناخت اور شہریت کے لئے دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کئے جا چکے ہیں ۔

طویل المدت پروگرام کے تحت یہاں سینکڑوں غیر ریاستی باشندوں کی کالونیاں تعمیر ہوں گی جو مسئلہ کشمیر کے حل تک یہاں رہتے ہو ئے لاکھوں بچوں کو جنم دیکر پشتنی باشندگی کا سرٹفکیٹ حاصل کر کے ہمارے تناسب کو ختم کردیں گے اور ایک وقت میں پھر ہندوستان بڑے دھوم کے ساتھ اقوام متحدہ جاکر استصواب رائے دینے کا اعلان کراکے کشمیری قوم کو قانونی غلامی میں جھکڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے برباد کر کے ساری وادی کو پاکستان اور چین کے خلاف ایک نئی فوجی کالونی میں تبدیل کر دے گا ۔

مین اسٹریم لیڈران اپنے گریبان میں جھانک کر ٹھنڈے پیٹوں غور کریں کہ ان کے رویے سے قوم کو دکھ درد اور تباہی کے علاوہ کیا ملا؟35A کا دفاع اس لئے مشکل محسوس ہو رہا ہے کہ آ پ نے بھارت کے ساتھ ہری سنگھ کے عارضی اور مشروط الحاق کو اپنی اصل شکل میں بحال کرنے کا بھی مطالبہ نہیں کیا ۔آپ کو اگر آزادی نہیں چاہیے اور سچائی بھی یہی ہے کہ آپ لوگوں کے نزدیک یہ ایک لا حاصل جنگ ہے مگر جس بھارت کے ساتھ آپ لوگ الحاق کے وکیل ہو وہ بھارت اب ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانا کے لئے چند ایک دفعات کو ختم کر کے ایک غلام قوم کی طرح رکھنے کا من بنا چکا ہے اور آپ کی آواز نقار خانے میں طوطے کی رٹ ثابت ہو رہی ہے آخر آپ اپنی قوم کے لئے بال ٹھاکرے اور اس کے بیٹے کی طرح بھی نہیں سوچتے ہو کیوں؟کیا آپ کا ضمیر اس سطح تک آ چکا ہے کہ صرف اقتدار ہی چاہیے وہ بھی ہمارے ہی ووٹ سے ؟تاکہ آپ آنے والی سات پیڑیوں کے لئے قارون کی طرح دولت کما کے رکھو جن کو بھارت کے ساتھ جوڑنے کے بعد نام و نشان بھی نہیں مل سکتا ہے ۔آخر آپ اپنی نئی نسلوں کے لئے بھی اتنے فکر مند کیوں نہیں ہیں جتنی فکر مندی نریندر مودی میں نظر آتی ہے ۔ اقتدار اور پیسہ ہی سب کچھ کیوں ہے ؟ دفاع کے بجائے راست اقدام کرتے ہو ئے آ پ مرکز سے صدرریاست،وزیر اعظم اور سپریم کورٹ کی بحالی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے ہیں ؟تاکہ اتنا تو پتہ چلے کہ جس مشروط الحاق کو بھارت نے قبول کیا ہے آپ اس کو اپنی اصل شکل میں بحال کرانے کے لئے اس لئے مخلص ہیں کہ نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد آپ کو سچ میں اپنی شناخت اور حقوق سے محرومی کا درد ستانے لگا ہے نہیں تو اس کا سیدھا مطلب کشمیر کی نئی پود یہی لیتی ہے کہ آپ بھارت کے ساتھ ایک خفیہ ایگریمنٹ کے تحت یہ شور شرابہ کرتے ہو ئے ایک طرح کی جعلی بے بسی اور بے کسی کا اظہار تب تک کرتے رہو گے جب تک دفعہ 35Aاوردفعہ370کا عملی طور پر خاتمہ کیا جا ئے گا اور پھر دوسری قسط میں اگلے ستر برس تک آپ بھارت کی مرکزی سرکار کے ظلم و ستم کا رونا روتے رہوگے ۔جس کا پھر کوئی فائدہ کشمیریوں کو حاصل نہیں ہوگا۔

بحیثیت قوم کشمیر کے ہر فرد بالخصوص نوجوانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ حالات سے باخبر رہتے ہو ئے یہ سمجھ لیں کہ ان کی سرزمین پر آر ایس ایس کے ایجنڈے کے تحت ایک نیا نظام مسلط کرنے کے لئے ”وطن عزیز“کی قانونی حیثیت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوششیں عروج پر ہیں ۔اس روکاوٹ کو دور کرتے ہی آر ایس ایس ہمیں دوسری ریاستوں کے مقام پر لاکھڑا کر دے گی ۔پھر ہماری تعلیم پر شب خون مارتے ہو ئے نئی نسل کے ذہنوں کو ناسورزدہ کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ہماری تہذیب و ثقافت کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا ۔ہمیں بہ یک وقت آٹھ دس تہذیبوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ایک نئے تصادم کی طرف دھکیلا جائے گا ۔پھر ہمارے دریاو¿ں اور جنگلات پر ایک نئی تہذیب کا پہرہ بٹھا دیا جائے گا ۔ہماری زمینیںکچھ خرید کراور کچھ غصب کر کے ان پر تجارتی مراکز اور عالیشان محلات تعمیر کئے جائیں گے ۔مجبور اور غریب لوگ اچھی قیمت میں زمینیں بیچ کر فلسطینیوں کی طرح آپ اپنے پاو¿ں پر کلہاڑی مار کر وطن عزیز کو ایک کالونی میں تبدیل کرنے میں عملی معاونت کریں گے ۔ہماری نئی نسلوں کو صدیوں تک ذلت اور غلامی کی نئی منحوس صورت میں تباہ کردیا جائے گا ۔طویل المدت پروگرام کے تحت یہاں سینکڑوں غیر ریاستی باشندوں کی کالونیاں تعمیر ہوں گی جو مسئلہ کشمیر کے حل تک یہاں رہتے ہو ئے لاکھوں بچوں کو جنم دیکر پشتنی باشندگی کا سرٹفکیٹ حاصل کر کے ہمارے تناسب کو ختم کردیں گے اور ایک وقت میں پھر ہندوستان بڑے دھوم کے ساتھ اقوام متحدہ جاکر استصواب رائے دینے کا اعلان کراکے کشمیری قوم کو قانونی غلامی میں جھکڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے برباد کر کے ساری وادی کو پاکستان اور چین کے خلاف ایک نئی فوجی کالونی میں تبدیل کر دے گا ۔آج جس ریاست میں آٹھ لاکھ فوجیں مقیم ہیں کل اس دفعہ کے ختم ہو تے ہی ہماری پوزیشن کیا ہو جائے گی کوئی ناقابل تصور معاملہ نہیں ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری ریاست کے سبھی لوگ سیاسی اور لسانی اختلافات کو فی الوقت بالائے تاک رکھتے ہو ئے اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہو کر مقابلہ کرتے ہو ئے اس کو ہر ہر محاذ پر ہمیشہ کے لئے شکست اور ذلت کا شکار بنا دیں ۔
(مضمون میں ظاہر کردہ آراء صاحبِ مضمون کی ہے، لازمی نہیں ہے کہ ادارہ تفصیلات اُنکے ساتھ کُلی یا جزوی طور اتفاق رکھتا ہو)

Exit mobile version