امریکی لالی پاپ اور دلی کی جھوٹی خوشیاں!

حزب کمانڈر کے علاوہ صلاح الدین جہاد کونسل کے سربراہ بھی ہیں

ہندوستانی میڈیا اور مختلف دانشور امریکیوں کی طرف سے UJCسربراہ سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کو نہ صرف ہندوستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی بلکہ پاکستان کیلئے سیاسی دھچکہ قرار دے رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکی دورے کے موقع پر امریکی انتظامیہ کا سید صلاح الدین کے حوالے سے دیا گیا بیان نئی دلی کیلئے خارجی محاذ پر بلاشبہ حوصلہ افزاہو سکتا ہے لیکن ہندوستانی قیادت یہ بات بھول رہی ہے کہ اس سے نہ تو زمینی سطح پر کوئی تبدیلی کشمیر میں آ سکتی ہے اور نہ ہی پاکستان کو کشمیریوں کی ہر محاذ پر حمایت کرنے میں کوئی فرق آ سکتا ہے ۔ اگر یوں کہا جائے کہ پاکستان اب زیادہ کھل کر کشمیریوں کی حمایت میں کھڑا ہوا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ویسے بھی امریکہ یا کسی اور کی کشمیر مسئلہ کے حوالے سے 1990ءسے اب تک مجرمانہ خاموشی اور اس سے ہند پاک کے درمیان دوطرفہ مسئلہ قرار دیتے رہنے کے نتیجے میں عالمی برادری کا رول نہ ہونے کے برابر رہا ہے ۔

نئی دلی کے لئے اگر چہ امریکی بیان حوصلہ افزا ہے لیکن اس سے یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہئے کہ امریکیوں کے لئے پاکستان کو نظر انداز کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے ۔ ہندوستانی کوتاہ نظر دانشوروں کا ہر بار یہ دعویٰ کرنا کہ پاکستان کا کُل رقبہ ہندوستا ن کے پانچویں حصے کے برابر ہے اور ایک ارب سے زیادہ آبادی والے ہندوستان سے پاکستان کا کوئی موازنہ بھی نہیں کیا جا سکتا بے حد مضحکہ خیز دلیل ہے۔ اگر یہی چیزیں معیار ہوتی تو اسرائیل کا وجود بھی دنیا کے نقشہ سے کب کا مٹ جانا چاہئے تھا لیکن عیاں وجوہات کی بناءپر ایسا ممکن نہیں بلکہ اسرائیل نے پوری دنیا کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ پورے خطہ میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اس کو پوری دنیا کیلئے ہندوستان سے کئی گنا زیادہ منفرداور ممتاز بنا دیتی ہے۔ ہندوستان اگر چہ پوری دنیا کے لئے بہت بڑی تجارتی منڈی ہونے کا دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہے لیکن باقی دنیا کے ساتھ اس کا زمین رابطہ صرف چین اور پاکستان سے ہو کر ہی ممکن ہے لیکن ان دونوں ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کسقدر خراب ہیںیہ کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کے بر عکس پاکستان نہ صرف ایشاءبلکہ یورپ تک بھی راہداری حاصل کر سکتا ہے جس کی اہم مثال CPECکی تعمیر اور آزاد کشمیر سے بر منگھم کے درمیان بس سروس کا متوقع قیام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی امریکیوں کی طرف سے سید صلاح الدین کے متعلق دئے گئے بیان کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ چین نے پاکستان کے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی زبردست ستائش کی ۔ ظاہر سی بات ہے کہ مذکورہ بیان امریکہ اور بھارت دونوں کیلئے واضح پیغام تھا کہ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی پورے خطہ میں بدلتے ہوئے رشتوں کی ایک اور کڑی یہ بھی ہے کہ روس، چین اور پاکستان ملکر امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لئے وسیع تر تعاون کرنے پر بہت سنجیدہ نظر آ رہے ہیں اور ایسے حالات میں امریکی بلا شبہ اپنے دیرینہ اور اہم اتحادی پاکستان سے رشتہ توڑنے کی حماقت کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے اور وہ بھی صرف ہندوستان کی خوشنودی کیلئے ۔

نئی دلی کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہوگی کہ امریکیوں کیلئے ان کا دنیا بھر میں مطلوب ترین شخص اسامہ بن لادن پاکستان میں پایا گیا ۔ کون نہیں جانتا کہ اسامہ کی ہلاکت کو لیکر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کس قدر پنی کامیابی کا جشن منایا لیکن ابھی تک بھی امریکیوں نے کبھی براہ راست پاکستان سے یہ سوال نہیں کہا کہ آخر اسامہ پاکستان میں کیا کر رہا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ امریکیوں اور پاکستانیوں کے تعلقات کی مضبوطی وقتی نہیں ہے

نئی دلی کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہوگی کہ امریکیوں کیلئے ان کا دنیا بھر میں مطلوب ترین شخص اسامہ بن لادن پاکستان میں پایا گیا ۔ کون نہیں جانتا کہ اسامہ کی ہلاکت کو لیکر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کس قدر پنی کامیابی کا جشن منایا لیکن ابھی تک بھی امریکیوں نے کبھی براہ راست پاکستان سے یہ سوال نہیں کہا کہ آخر اسامہ پاکستان میں کیا کر رہا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ امریکیوں اور پاکستانیوں کے تعلقات کی مضبوطی وقتی نہیں ہے اگر چہ ان تعلقات میں مختلف اوقات پر اتار چڑھاﺅ آتے رہتے ہیں اور ایسا ہونا فکری بات ہے ۔ اگر یو ںکہا جائے کہ CIAاور ISIآپس میں جڑواں بہنوں کی طرح ہیں تو شائد بے جا نہ ہوگا ۔جہاں کشمیر کی تحریک مزاحمت کے نام پر بیرون ریاست دنیا کے مختلف ممالک میں کام کرنے والی تنظیموں کو اس سوال کا جواب اپنی قوم کو دینا ہی ہوگا کہ 27برسوں کے دوران وہ اپنی قوم کے لئے اپنے سیر سپاٹے کے علاوہ کچھ بھی کچھ بھی کیوں حاصل نہیں کر سکے وہاں ہندوستانیوں کو یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہئے کہ امریکہ اپنے دوست اور اپنی ترجیحات اپنی ضروریات کے مطابق بدلتا رہتا ہے اور ساتھ ہی اس حقیقت سے بھی انکار کرنا غلط ہوگا کہ اگر امریکہ دنیا میں واحد سپر پاﺅر ہے تو اس کی ذمہ داریاں بھی پوری دنیا کے تئیں سب سے زیادہ ہیں۔ دنیا میں اگر چہ بیشتر مسائل امریکہ کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ امریکی اپنے فرائض کے تئیں بالکل ہی غافل ہیں ۔ اسرائیل کی پیٹھ کے پیچھے کھڑا رہنے والا امریکہ اسرائیلیوں کے ہر گناہ کی پردہ پوشی کرنے کے باوجود فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے مذاکرات کو لیکر کافی سرگرم رول نبھاتا آیا ہے ۔ یہ بات ہمیں نہیں بھولنی چاہئے کہ فلسطینی آزاد مملکت کے قیام کو لیکر کئی بار امریکہ اسرائیل تعلقات میں کافی کچھاﺅ پیدا ہو ا ہے ۔ خود نئی دلی یہ بات بھول رہی ہے کہ نریندر مودی کو امریکہ کا ویزا گجرات کا وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود کئی برسوں تک نہیں مل سکا ۔غرض جہاں امریکہ کا رویہ کچھ بین الاقوامی معاملات کو لیکر جانبدارانہ رہا ہے وہاں امریکی دنیا کے ہر خطہ میں تنازعات کو طول دینے کے خطرات مول نہیں لے سکتا ۔ ایسے دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ اگر امریکیوں نے سید صلاح الدین کو دہشت گرد کہہ بھی دیا تو وہ بلا شبہ کہانی کا آدھا ہی حصہ ہے اور اسی کو لیکر نئی دلی اچھل رہی ہے ۔ درپردہ کہانی کے خد و خال یہ بتانے کیلئے کافی ہیں کہ امریکیوں نے مودی جی کو صاف صاف بتا دیا ہوگا کہ اب کشمیر کے تنازعہ کو اور زیادہ دیر کیلئے لٹکائے رکھنا نا ممکن ہے اور نہ سود مند ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سارا کھیل پاکستان کی مشاورت سے کھیلا جا رہا ہے ہو کیونکہ آخرنئی دلی کی سخت گیر مرکزی سرکار کو امریکی مداخلت کیلئے کوئی بہانہ بھی ہاتھ میں آنا چاہئے تاکہ ملکی سطح پر مودی جی کسی ممکنہ خفت سے بچ جائیں ۔

اگر صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد کہنے سے ہندوستان کو کشمیر مسئلہ سے نجات ملتی تو پھر ریاستی سرکار صلاح الدین کی طرف سے برہان وانی کی برسی کے سلسلے میں دئے گئے کلینڈر سے گبھراکر پوری ریاست میں گرمائی تعطیلات کا اعلان نہیں کرتی۔ سرکار کی طرف سے گھٹنے ٹیکنے کے بعد اگر یوں کہیں کہ اس نئی لڑائی کا پہلا راﺅنڈ صلاح الدین جیت چکے ہیں تو بے جانہ ہوگا ۔ دلی کوخوش فہمیوں میں رہنے کے بجائے اس زمینی حقیقت کو مد نظر رکھنا ہوگا کہ عسکریت پسندوں کو وسیع تر عوامی حمایت حاصل ہے اور جب ہندوستان جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتے کہتے تھکتا نہیں ہے تو اس سے یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ پوری ریاست کے لوگوں کی غالب اکثریت نئی دلی کےخلاف ہے لہذا یہاں کی زمین پر قبضہ جمانے اور صلاح الدین سمیت عسکریت پسندوں کی کردار کشی سے جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیں بن سکتا۔ ریاست تب ہی ریاست کہلائی جاتی ہے جب اس کے اندر بسنے والے لوگ اس سے محبت کریں اور اس کے اداروں کی عزت کریں اگر ایسا نہیں ہوگا تو اس ریاست کی تمام بنیادیں کھوکھلی رہ جاتی ہیں۔ کہیں نئی دلی خود ہی مسئلہ کشمیر کو لیکر بیرونی مداخلت کا سامان پیدا تو نہیں کر رہی ہے ۔ زیر زمین تنظیمیں جس بھی مقصد کیلئے بنائی جائیں اس کیلئے انہیں کسی سے بھی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے لہذا صلاح الدین کو دہشتگرد قرار دینے کی محض علامتی اہمیت ہے ۔آج نہیں تو کل ہندوستان کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہی ہوگا اور اس وقت صلاح الدین اور دیگر عسکری لیڈروں کا رول کسقدر اہم ہوگا اس کا اندازہ نئی دلی کو بھی ہے اور اس کے آقاﺅں کو بھی ۔جسقدر جلدی نئی دلی اس حقیقت کو سمجھے کہ جہاں رشتے اور دوست بھی بدلے جا سکتے ہیں وہاںہمسایوں کو بدلنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے اسی قدر خود نئی دلی کیلئے سود مند بات ثابت ہوگی ۔

Exit mobile version