کشمیر … مودی کا دوراہا !

ابھی حال ہی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جموں کشمیر کا ایک اور دورہ کرکے یہاں جموں-سرینگر شاہراہ پر ناشری کے مقام پر قریب دس کلومیٹر لمبی سرنگ(ٹنل)کا افتتاح کیا۔یہ جموں کشمیر یاہندوستان میں ہی نہیں بلکہ پورے ایشیاءمیں کسی بھی سڑک پر بنی سب سے لمبی ٹنل ہے جو ایک طرف ریاست کے ان دونوں شہروں کے مابین اور پھر وادی¿ کشمیر کے بیرونی دنیا کے ساتھ رابطے میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی حامل ہے اور دوسری جانب اپنے آپ میں جدید فن تعمیر کا ایک شاہکار ہونے کی وجہ سے سیاحوں کے لئے بھی ریاست میں ایک نئی دلچسپی ثابت ہوسکتی ہے۔مودی جی نے اس سرنگ کا افتتاح کرتے ہوئے جو تقریر کی اسکا لب لباب بھی کچھ یہی تھا کہ وہ جموں کشمیر کو اقتصادی طور ترقی دیکر یہاں کے دیرینہ مسئلے کو” حل “کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے ریاست میں بے روزگاری کی طرف اشارہ کیا اور پھر کشمیری نوجوانوں کے سامنے ”سیاحت یا دہشت گردی“کے محض دو راستے رکھے کچھ اسی طرح کہ جس طرح امریکہ بہادر نے کبھی ”ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف“کا نعرہ دیکر دنیا کو ڈرادیا تھا ۔لیکن کیا کشمیریوں کے سامنے سیاحت اور دہشت کے محض دو راستے کھلا چھوڑکر انہیں واقعی سفر پر ڈالا جاسکتا ہے اور کیا کشمیر کو ”اقتصادی آزادی“دئے جانے سے ہندوستان دھیرے دھیرے ناسور بنتے جارہے مسئلہ کشمیر سے پنڈ چھڑاسکتا ہے،یہ ایک اہم سوال ہے۔
حالانکہ سیاحت، اقتصادیات،کاروبار اور اس طرح کی باتیں کرنے والے مودی جی اکیلے نہیں ہیں بلکہ اب تو خود وادی¿ کشمیر میں بھی اس طرح کی باتیں ہورہی ہیں اور باضابطہ اس بات پر بحثیں ہورہی ہیں کہ کیا مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈتے ڈھونڈتے کشمیریوں کو اپنے اقتصادی مسائل نظر انداز کردینے چاہیئں۔یہ باتیں فقط محلوں کے چوراہوں پر گپیں لڑانے والے دوستوں کے درمیان ہی نہیں ہورہی ہیں بلکہ حریت کانفرنس اور دیگر علیٰحدگی پسند اداروں میں بھی اس طرح کی باتیں زیرِ بحث آتے سنیں جانے لگی ہیں لیکن شائد یہ کہنے کی پوزیشن کسی کی بھی نہیں ہے کہ ہاں اقتصادی ترقی،کاروبار کی روانی اور ذرائع روزگار کی فراوانی سے ہی مسئلہ کشمیر کو حل کیا جاسکتا ہے یا کم از کم وادی¿ کشمیر میں حالات کو قابو کیا جاسکتا ہے۔دراصل ان چیزوں کو کئی بار آزمایا بھی گیا اور پھر دنیا نے انہیں ناکام بھی ہوتے دیکھا ہے،حالانکہ اقتصادی معاملات نے یقیناََ جموں کشمیر،با الخصوص وادی کو،گھیرا ہوا ہے۔
جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال سے متعلق دستاویزِ ہذا کے لئے جس وقت یہ سطور تحریر کی جارہی تھیں وادی¿ کشمیر میں کئی دنوں کے بعد اگرچہ تازہ ہڑتال کھل چکی تھی تاہم کئی علاقوں،جہاں 9اپریل کو پولنگ کے دوران سرکاری فورسز کے ہاتھوں آٹھ نوجوان مارے گئے ہیں،میں کہیں ہڑتال تو کہیں کرفیو جیسی صورتحال ہے۔خود حریت کانفرنس نے کئی بار اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے صرف کشمیریوں کو ہی نقصان پہنچتا آرہا ہے لیکن احتجاج کا متبادل طریقہ کیا ہوسکتا ہے اس سوال کا انہیں ابھی تک کوئی جواب نہیں مل پایا ہے۔پھر یہ فقط گزشتہ بیس یا تیس سال کے دوران ہی نہیں ہے کہ جب کشمیریوں نے احتجاج کے بطور ہرتال کو واحد ہتھیار کے بطور اپنایا مگر اس سے کسی مسئلے کا حل نکل آںے کی بجائے خود انہیں ہی نقصان ہوتا آیا۔
ریاست کی سیاسی غیر یقینیت،افراتفری،بے چینی اور اس طرح کی چیزوں کو لیکر یہاں کی اقتصادیات پر بن آنا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ایسا دہائیوں سے نہیں بلکہ صدیوں سے ہوتا آیا ہے۔چناچہ جموں کشمیر کی تاریخ کا سرسری بھی جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے 1865میں یہاں کے ریشم خانہ کے مزدوروں نے احتجاج کے بطور ہڑتال اور دوسرے ذرائع آزمانا شروع کئے اور پھر 1931میں مہاراجہ ہری سنگھ کی تاناشاہی کے خلاف احتجاج ہوا اور جواب میں انسانی جانوں کے زیاں کا سلسلہ بھی چل پڑا۔تاناشاہی کا بعدازاں خاتمہ ہوا،بر صغیر کی تقسیم ہوئی اور ہندوستان کا بٹوارہ ہوکر اسکی کوکھ سے پاکستان نے جنم لیا ،دونوں ممالک کے عوام کو آزادی کی خوشیاں نصیب ہوگئیں مگر کشمیریوں کی بد نصیبی نے گویا ایک نیا رنگ اور روپ دھارن کر لیا کہ جو آج تک یہاں کے لوگوں کو ڈراتا آرہا ہے۔
اسی کے عشرے کے اواخر میں جب یہاں کے بھوسے میں دبی چنگاری سے آگ بھڑکانا شروع کی تو ایک ایسا دور شروع ہوگیا کہ جو قریب تین دہائیاں گزر جانے پر بھی نہ صرف یہ کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ آگ اور زیادہ بھیانک ہوتی جارہی ہے۔علیٰحدگی پسند تحریک کے مسلح ہوجانے پر مارا ماری کا دور چل پڑا،لاکھوں انسانی جانیں تلف ہوئیں اور ظاہر ہے اربوں کھربوں روپے مالیت کی املاک تباہ ہوگئیں،زمانہ ترقی کی راہوں پر دوڑنے لگا مگر اس صورتحال کی وجہ سے کشمیر پچھڑتا چلا گیا ۔ایسا نہیں تھا کہ یہاں کے لوگ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ زمانہ ترقی کی شاہراو¿ں پر رواں دواں ہے اور ایسا بھی نہیں کہ یہاں کے لوگ ترقی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔بلکہ ابھی تک خود وزارت داخلہ کی جانب سے کرائی گئی کئی سرویز میں یہ بات وضاحتاََ سامنے آچکی ہے کہ کشمیری عوام ترقی پسند بھی ہیں اور ان میں ترقی کرنے کا مدہ بھی موجود ہے لیکن اسکے باوجو دریاست کی سیاسی غیر یقینیت کو لوگ پیچھے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
امریکہ میں 9/11ہوجانے کے بعد جہاں پوری دنیا کی صورتحال بدل گئی وہیں پاکستان نے بھی امریکہ کی”ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف“پالیسی سے مرعوب ہوکر کشمیر کے مسلح گروہوں کو گویا کنارے لگانا شروع کردیا اور پھر چند ہی سال میں ہم نے جموں کشمیر کی مسلح شورش کو دم توڑتے پایا۔البتہ نئی دلی میں پالیسی سازوں کو اس موقعہ کا صحیح استعمال کرنا نہیں آیا یا پھر انہیں اسکی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔کشمیر کے مسلح گروہوں نے حالانکہ کسی سرنڈر کا اعلان تو نہیں کیا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس حد تک لاغر اور ناکارہ ہوچکے تھے کہ فوج و دیگر ایجنسیوں نے انکے نابود ہونے کا اعلان کیا اور اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔کشمیریوں میں مایوسی،تھکاوٹ اور شائد احساسِ شکست کا عالم یہ ہونے لگا تھا کہ خود علیٰحدگی پسند حریت کانفرنس نہ صرف خانوں میں بٹ گئی بلکہ ایک دھڑے نے تنقید کو خاطر میں لائے بغیر مرکزی سرکار سے بات چیت شروع کی اور صاف صاف تاثر دیا کہ وہ اپنے ”اصل مطالبات“سے کم پر بھی ”راضی“ہونے پر آمادہ ہیں۔ مگر کسی کو بھی یہ نہ سوجھی کہ ان حالات میں مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی کے ساتھ ایڈرس کرنے کیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ یہاں کے نوجوانوں کی ہندوستان کے تئیں بے گانگی کو دور کرنے کے عملی اقدامات کئے جائیں۔یہ بات کئی کتابوں میں مان لی گئی ہے کہ اس بدلتی صورتحال میں نئی دلی کے پالیسی سازوں نے موقعہ کا فائدہ اٹھانے کی بجائے کشمیریوں کو مزید پشت بہ دیوار کرنے کی پالیسی اپنائی۔سوچ شائد یہ تھی کہ چونکہ ایک طرف سے کشمیریوں کی توقعات کو ٹھیس لگنا شروع ہوہی گیا ہے تو دوسری جانب انہیں آہنی ہاتھوں سے دبانے کی کوشش ہوجائے تو وہ ہمیشہ کے لئے ”اچھے بچے“بن جائیں گے لیکن یہ پالیسی ”بیک فائر“کرگئی۔
ایک طرف مرکز میں مختلف سرکاریں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدام کرنے کی بجائے کشمیریوں کے نڈھال ہوکر منھ کے بل دلی دربار کی چوکھٹ پر منھ کے بل گر جانے کا انتظار کرتی رہیں اور دوسری جانب کشمیر میں مزاحمت کا ایک نیا دور شروع ہوا۔بدلتے حالات میں یہاں کے عوام نے بندوق سے خود کو بہت دور کرلیا اور چند سال پہلے صورتحال واقعی یہ تھی کہ یہاں گنتی کے چند پاکستانی جنگجو ہی باقی بچ گئے تھے جبکہ مقامی لوگ انسے فاصلہ بنانے لگے تھے تاہم پُر امن احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔یہ ایک طرح سے جمہوریت کی جیت تھی کہ لوگ بندوق کی بجائے جلسے جلوسوں کی جانب راغب ہورہے تھے اور یہ شائد مرکزی سرکار کے سامنے کشمیریوں کا رکھا ہوا ،غیر شعوری طور ہی سہی،دوسرا موقعہ تھا….ضائع ہوگیا۔
2008میں امرناتھ شرائن بورڈ کو قانون و ضابطے کے خلاف زمین فراہم کئے جانے پر تنازعہ کھڑا ہوا تو یہ بھی پہلے ایک پُر امن سلسہ ہی تھا تاہم سرکاری فورسز نے تحمل کا مظاہرہ کئے بغیر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں لوگ مارے گئے۔صورتحال نے پھر پلٹہ کھایا اور ایجی ٹیشن کے چند دن بعد ہی الیکشن ہوئے جن میں پولنگ مراکز کے سامنے قطاریں لگ گئیں،البتہ بھوسے میں دبی چنگاریوں کو بجھانے کی کوئی کوشش نہ ہوئی یہاں تک کہ 2010کی ایجی ٹیشن ہوئی اورسرکار کے سامنے بندوق کی گولیوں کے سوا کشمیریوں کو دینے کے لئے جیسے کچھ بھی نہیں تھا۔سوا سو لوگ مارے گئے جبکہ کسی سرکاری اہلکار کو سزا ہوئی اور نہ ہی سرینگر سے نئی دلی تک کے اربابِ اقتدار نے بار بار کی ان پریشانیوں کی واحد وجہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی یا اسکی ضرورت محسوس کی۔
2010میں مہینوں ہڑتال ہوئی اور پھر 2016میں لگاتار زائد از چارماہ تک سارا کشمیر بند رہااور ایک سرسری اندازے کے مطابق ایک دن کے بند سے کم از کم 130کروڑ روپے کی مالیت کا نقصان ہوتا آرہا ہے۔پھر یہ نقصان یہیں پر ہی نہیں رکتا ہے بلکہ سالِ رفتہ کے دوران دیکھا گیا کہ لگاتار ہڑتالوں کی وجہ سے کئی کاروباری یہاں سے دکان بڑھا کر چلے گئے اور انہوں نے اپنا کاروبار بیرون کشمیر منتقل کردیا۔سیاسی غیر یقینیت کی وجہ سے ویسے تو کشمیر میں کوئی بڑی صنعت قائم ہونے سے رہ گئی ہے لیکناس خطہ کی بے پناہ خوبصورتی کی وجہ سے سیاحت کی جو قدرتی صنعت اسے ملی ہوئی ہے وہ بھی بری طرح متاثر ہوچکی ہے۔حالانکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر وادی¿ کشمیر کی سیاحتی صنعت کو اپنا بھرپور دینے کا موقعہ ملے تو یقیناََ وادی¿ کشمیر نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے ساتھ منسلک کسی بھی ملک کے لئے زر مبادلہ کی بہتات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔لیکن یہاں کے خراب حالات،مارا ماری،افراتفری اور با الخصوص سیاسی غیر یقینیت کی وجہ سے اس صنعت سے اسکی صلاحیت کا چند ایک فی صد بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ محکمہ سیاحت میں ایک اعلیٰ افسر نے،انکا نام نہ لئے جانے کی شرط پر،بتایا”ہم اپنی طرفسے بھرپور کوششیں کرتے ہیں اور ہم کئی ریاستوں سے کچھ لوگوں کو یہاں لانے میں کامیاب بھی ہوتے ہیں لیکن سچ پوچھئے کہ یہاں کے حالات کی وجہ سے ہم غیر ملکی سیاحوں کو یہاں آنے پر آمادہ نہیں کر پارہے ہیں“۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ بیچ میں کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو کشمیر کی سیاحت سے منع کرنے والی ہدایت کو واپس لے لیا تھا لیکن اسکے باوجود بھی مطلوبہ تعداد میں غیر ملکی سیاحوں کو یہاں آنے پر آمادہ نہیں کیا جسکا ہے اور پھر 2016کے بعد سے جو حالات ہیں ان میں کسی اچھائی کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔علیٰحدگی پسندوں کو بھی اعتراف ہے کہ جموں کشمیر کی اقتصادی حالت بری طرح متاثر ہوچکی ہے لیکن انکا ماننا ہے کہ وہ اس حوالے سے چاہتے ہوئے بھی کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔حریت کے ایک لیڈر کا کہنا ہے”ہمیں اندازہ ہے کہ حالات کے ٹھیک رہنے کی صورت میں ہماری اقتصادی حالت بہت شاندار ہوسکتی تھی کیونکہ ہمیں قدرت نے بڑا نوازا ہوا ہے لیکن مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہو جانے تک ان سبھی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوئی صورت ہی نہیں دکھائی دیتی ہے“۔وہ کہتے ہیں کہ جموں کشمیر کی سیاسی غیر یقینیت کی وجہ سے یہ ریاست ہی نہیں بلکہ پورے بر صغیر کی ترقی میں رکاوٹ آرہی ہے۔وہ کہتے ہیں”اس سب کے باوجود بھی ابھی کہ مرکزی سرکار نے کشمیر کی سیاست پر چُپ سادھی ہوئی ہے تو پھر اقتصادی ترقی کیسے اور کیونکر ممکن ہو“۔تاجروں کی ایک تنظیم ”کشمیر اکنامک الائینس“کے چیرمین اور سرکردہ تاجر یٰسین خان کہتے ہیں”ہمارے یہاں کی سیاست کی وجہ سے ہماری اقتصادی حالت سے کون واقف نہیں ہے ،سیاسی مطالبات کے دوران اقتصادی آزادی کی ضرورت و اہمیت مد نظر تو رکھی جانی چاہیئے لیکن جب حکومتیں بات چیت پر آمادہ ہی نہیں ہوں بلکہ مسائل کا اعتراف کرنے پر بھی آمادہ نہ ہوں تو پھر ہم اپنی اقتصادیات کو سدھارنے کی توقع بھی کیسے کریں“۔وہ مزید کہتے ہیں”جہاں جان کے لالے پڑے ہوں ،بچوں کو مارا اور اندھا کیا جارہا ہو وہاں تجارت کو ترجیح کیسے دی جاسکتی ہے“۔
زمینی صورتحال دیکھی جائے تو اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں بچتی ہے کہ مرکز کے کشمیر کی سیاست کو گویا نظرانداز کئے جانے کی وجہ سے نہ صرف یہاں کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں بلکہ یہاں کی اقتصادیات پر بھی چوٹ ہو رہی ہے۔چناچہ 2010کی ایجی ٹیشن کے بعد ہی محسوس کیا جانے لگا کہ یہاں کی نئی نسل مایوس ہوکر خظرناک راستوں پر بھٹکنے کو آمادہ ہورہی ہے۔بعد 2010ہم نے بُرہان وانی جیسے بچوں کو بندوق اٹھاتے اور مظفر وانی جیسے والدین کو اُنکی پیٹھ تھپتھپاتے دیکھنا شروع کیا۔اور آج صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف پڑھے لکھے بچے بندوق اٹھاتے ہیں تو دوسری جانب انکے مارے جانے پر نہ صرف انکے جنازوں میں ہزاروں کے مجمعے لگ جاتے ہیں بلکہ جیسا خود فوجی چیف جنرل بپن راوت نے اعتراف کیا ہے کہ فوج کے محاصرے سے جنگجوو¿ں کو بھگانے کے لئے ہزاروں کشمیری جان جوکھم میں ڈالکر گولیاں کے مقابلے میں سنگ اٹھاتے ہیں اور یہ فوج کے لئے ایک بڑا چلینج ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ خود سرکاری اداروں کے پاس موجود معلومات سے بھی واضح ہے کہ دو ایک سال کے دوران کشمیر میں نہ صرف یہ کہ ملی ٹینسی بڑھتی ہی جارہی ہے بلکہ بیشتر جنگجوو¿ں کی تعداد پڑھے لکھے اور صاحب ثروت گھروں کے بچوں پر مشتمل ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ بُرہان وانی کے جانشین ذاکر موسیٰ کی ایک حالیہ تقریر کو دیکھتے ہوئے یہ بھی محسوس ہوا ہے کہ جنگجوو¿ں کی موجودہ کھیپ اقتصادی مفاد تو کجا خود” کشمیر کی آزادی“پر بھی ”اپنی آخرت“کو ترجیح دینے والی ہے جسکا مطلب پالیسی سازوں کے لئے سمجھنا بہت زیادہ مشکل نہیں ہو سکتا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ نئی دلی کو اپنے آپ پر بہت زیادہ اعتماد کرنے کی بجائے کشمیر کی زمینی صورتحال کو سمجھنا چاہیئے اور ترقی ترقی کی مالا جپنے کی بجائے کچھ ایسا کرنا چاہیئے کہ کشمیریوں کو ترقی سب سے پہلی ترجیح لگنے لگے۔کشمیر یونیورسٹی کے ایک استاد کا کہنا ہے”دیکھیں صورتحال یہ ہے کہ اب عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے لوگ بھی یہ کہنے لگے ہیں کہ اقتصادی پیکیج، سرکاری نوکریاں اور اس طرح کی چیزیں کسی کام کی نہیں ہیں تو پھر آپ ایک عام کشمیری کو ترقی کی اہمیت کیا سمجھا سکتے ہیں۔آپ ایک عام نوجوان کو یہ حالات دیں کہ وہ جب جہاں چاہے آئے اور جائے، اسے بے موت مارے جانے کا ڈر نہیں ہو تو پھر وہ خود بخود ایک اچھی اور چوڑی سڑک اور اس طرح کی چیزوں کا شوق کرنے لگے گا“۔
مودی جی نے ناشری کی ٹنل کا افتتاح کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں کے سامنے ”سیاحت یا دہشت“کا جو دوراہا چھوڑا ہے ،حالات بتاتے ہیں کہ یہاں کے بہت زیادہ لوگ سیاحت کے راستے جانے پر آمادہ نہیں ہیں۔اس بیان کے ردعمل میں یہاں کئی جماعتوں نے برملا کہا بھی ہے کہ کشمیری نہ سیاحت کے خلاف ہیں اور نہ ہی دہشت کے ساتھ بلکہ وہ اپنے سیاسی حقوق کی بات کرتے ہیں۔بلکہ بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ بات خود ریاست کی ترقی میں ایک رکاوٹ ہے کہ ترقی کو سیاست کے ساتھ جوڑ دیا جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ کشمیریوں کو ترقی کے لئے ”سرنڈر“ہونا ہوگا۔اور پھر اگر سرینگر-بڈگام کی پارلیمانی نشست پر ہوئے انتخاب کے حشر ،محض چھ فی صد ووٹ پال ہوئے جبکہ ایک ہی دن میں سرکاری فورسز نے آٹھ نوجوانوں کو مار ڈالا ہے،میں بھی مودی جی کے سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے تو بہت زیادہ سر کھپانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے۔

Exit mobile version