صریر خالد
گو قریب دو ہفتے کی ”پُر اسرار غیر حاضری“کے بعد اب وہ واپس اپنی کُرسی پر دکھائی دینے لگے ہیں تاہم جموں کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ مفتی سعید کی صحت کے حوالے سے افواہیں تھم جانے کی بجائے پھیلتی ہی جارہی ہیں۔خبر ہے کہ قریب اسی برس کے مفتی سعیدکسی ”تشویشناک بیماری “میں مبتلا ہیں اورچند دنوں یا ہفتوں میں قریب چھ دہائیوں پر محیط اپنے سیاسی کیرئرسے سبکدوش ہوکر اپنی صاحبزادی کے لئے کُرسی خالی کرینگے۔اِس طرح کی خبروں کے مطابق جموں کشمیر کی پی ڈی پی-بی جے پی سرکار میں جلد ہی قیادت کی تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے اور محبوبہ مفتی وزیرِ اعلیٰ بننے کے ساتھ ساتھ حکمراں جماعت پی ڈی پی ،جسکی وہ ابھی صدر ہیں،کی بھاگ ڈور مکمل طور اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہیں۔کیا یہ خبریںدرست ہیں؟کیا ریاست میں واقعی وزیرِ اعلیٰ کا تبادلہ ہونے والا ہے؟اور کیا مفتی سعید جیسے سیاستدان ان حالات میں اپنے سیاسی سفر کا اختتام کریں گے کہ جب اُنکی شہرت کا گراف صفر کی سمت جھُکا ہوا اور مسلسل گرتا جارہا ہے،یہ کئی اہم سوالات ہیں۔ لیکن ان سب سوالات سے اہم یہ کہ کیا مفتی سعید کی پارٹی صدر صاحبزادی محبوبہ مفتی پی ڈی پی کو ایک جھُٹ رکھتے ہوئے اُسی طرح اہم بنائے رکھ سکیں گی کہ جس طرح محض ڈیڑھ دہائی قبل معرضِ وجود میں آنے کے بعد یہ پارٹی اپنی اہمیت منوا چکی ہے؟۔
کئی پے در پے ناکامیوں کا منھ دیکھنے کے باوجود بھی ایک چالاک،شاطر ،مظبوط اور ہوشیار سیاستدان کی پہچان رکھنے والے مفتی سعید گو کہ چھ دہائیوں سے ریاست کی سیاسی شطرنج پر شہ اور مات کا کھیل کھیلتے اور دیکھتے رہے ہیں تاہم پہلے مرکزی وزیرِ داخلہ اور پھر 2002میں وزیرِ اعلیٰ بننے پر وہ ریاست کی سیاست میں نمایاں رہے۔حالانکہ سیاسی پنڈت گذشتہ سٹھ سال کی کشمیر کی سیاست میں مفتی کا کہیں نہ کہیں درپردہ کردار دیکھتے ہیں تاہم وہ مذکورہ دو حیثیتوں میںہی ریاستی عوام میں اپنی ،اچھی یا بُری، پہچان بناچکے ہیں۔بھاجپا کی حمایت سے ابھی دوسری بار ریاست کے وزیرِ اعلیٰ ہیں اور ایک ”پُر پیچ “مخلوط سرکار کی قیادت کر رہے ہیں جس کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران وہ خود کو ”وہ“ثابت کرنے میں بُری طرح ناکام ہوئے ہیں کہ ”جو“اُنہیں سمجھا جاتا رہا ہے یا جس شکل میں وہ خود کو پیش کرتے رہے ہیں۔حالانکہ بھاجپا کے ساتھ ”غیر متوقع“اور نا قابلِ سمجھ اتحاد کے حوالے سے لوگوں کے ایک بڑے طبقے کا ماننا ہے کہ چونکہ مفتی اب بوڑھے ہو چکے ہیں اور،غالباََ، آخری انتخاب لڑ چکے ہیں ،وہ کسی بھی طرح زندگی کی شام ہونے سے پہلے اقتدار کی ایک لمبی باری کھیلنا چاہتے تھے۔ایسا سوچنے والے مفتی کے بھاجپا مخالف ووٹ لینے کے بعد خود بھاجپا کے ساتھ اتحاد کی یہ ایک بڑی وجہ سمجھتے ہیں۔لیکن اب جبکہ لوگوں کی ناراضگی اور طعن و تشنیع کے باوجود وہ ،بظاہر،چھ سال کے لئے کُرسی اقتدار پر ہیں،اُنکے بیمار ہونے اور بیٹی محبوبہ کے لئے جگہ خالی کرنے کو تیار ہونے کی افواہیں ہیں جنکی حالانکہ پی ڈی پی نفی کررہی ہے۔
مفتی سعید کی گِرتی صحت کے بارے میں خود اُنکی دستِ راست صاحبزادی محبوبہ مفتی سے سُنا گیا ۔ جذبات میںبہہ کر اُنکا سُنایا ہوا مژدہ برف کے ایک گولے کی طرح افواہوں کے بازار میں لڑھکتے لڑھکتے اتنا بڑا ہوگیا ہے کہ سرکار میں تبدیلی کی خبریں سُنی جانے لگی ہیں۔ریاست میں حکومت بننے کے فوری بعد اچانک اور معنیٰ خیز انداز میں منظر سے غائب ہونے کے بعد حال ہی نمودار ہونے والی محبوبہ مفتی نے، جنوبی کشمیر میں اپنے آبائی قصبہ بجبہاڑہ سے دو ایک میل دور کھنہ بل میں ،پارٹی کارکنوں سے خطاب کے دوران اپنے والد اور وزیرِ اعلیٰ مفتی سعید کا تذکرہ کیا تو اُنکی زبان گنگ ہوگئی۔محفل میں موجود رہے ذرائع نے بتایا کہ جونہی محبوبہ نے اپنے والد کا نام لیا اُنہیں جذبات نے یوں مغلوب کیا کہ اُنکی آنکھیں نم ہوگئیں اور زبان جیسے ساتھ چھوڑ گئی۔اُنہوں نے کہا”اُن(مفتی سعید) صحت اچھی نہیں ہے،اُنہوں نے آپ کے لئے سلام بھیجا ہے“۔گلوگیر آواز میں اُنہوں نے اپنے والد کی خرابی صحت کے بارے میں خبر دی ، پھر تھوڑے توقف کے بعد تقریر جاری رکھی اور سینئر مفتی کے لئے نیک خواہشات اور درازی عمر کے لئے دعائیں طلب کیں۔ظاہر ہے کہ محبوبہ مفتی کی موجودگی میں ہی چمہ گوئیاں شروع ہوئیں اور کانا پھوسی میں یہ کہا جانے لگا کہ کیا مفتی سعید حکومت چلانے کے قابل نہیں رہے ہیں؟اور یہ کہ کیا وہ محبوبہ مفتی کے لئے جگہ خالی کر رہے ہیں؟۔
محبوبہ کے مفتی کی خرابی صحت کا عقد کھولنے کےچند ہی دن بعد مفتی سعید کسی اعلان کے بغیر بیرون ریاست چلے گئے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مفتی سعید کا ممبئی کے ٹاٹا میموریل اور بنگلورو میں قریب دو ہفتے تک علاج چلتا رہا جسکے بعد وہ یکم ستمبر کو واپس وادی لوٹ آئے۔دوسری جانب کئی ماہ تک ایک طرح سے روپوش ہوکر منظر پر آچکی محبوبہ مفتی نے اپنی سرگرمیاں تیز کیں اور کئی اضلاع میں پارٹی کنونشنوں سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ تعمیرو ترقی،جو کہیں دکھائی ہی نہیں دیتی ہے،کے تازہ وعدے کرنا شروع کئے۔ایسے میں افواہیں تیز ہوکر ،چمہ گوئیوں سے ہوتے ہوئے ،اندازوں،تبصروں اور بحث و مباحثوں تک پہنچ گئیں اور کئی اخبارات نے یہاں تک لکھا کہ مفتی سعید کسی خطرناک بیماری کا شکار ہیں اور اُنکا اقتدار چھوڑ کر اپنی بیٹی کو آگے کرنا طے ہے۔ایسا ہوا تو یہ مفتی سعید کے قریب چھ دہائیوں پر محیط طویل سیاسی کیرئر کا ہی نہیں بلکہ اپنے اندر بہت کچھ رکھنے والے ایک بڑے سیاسی باب کا بھی خاتمہ ہوگا۔
مفتی سعید 12جنوری1936ءکوجنوبی کشمیر کے مشہور قصبہ بجبہاڑہ کے بابا محلہ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کرنے کے بعد اُنہوں نے سرینگر کے تاریخی سری پرتاپ(ایس پی) کالج سے گریجویشن کی اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ عربی تاریخ میں ماسٹرس کیا،واپس لوٹے اور مختصر عرصہ کے لئے وکالت کا پیشہ اپنایا۔1950ءکی دہائی میں نیشنل کانفرنس کے ساتھ وابستہ ہوکر اُنہوں نے سیاسی دنیا میں داخلہ لیا تاہم اُنہوں نے جلد ہی نیشنل کانفرنس چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیارکی۔وہ اُن چند لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ریاست میں نیشنل کانفرنس کے خلاف کانگریس کو ایک قوت کے طور متعارف کرانے میں اہم رول ادا کیاہے۔1962ءمیں و ہ بجبہاڑہ حلقہ انتخاب سے ریاستی اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے جبکہ1975ءمیں اُنہیں کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر منتخب کرنے کے علاوہ ریاستی کانگریس کا صدربنایا گیا۔1971ءمیں کانگریس کی حکومت میں وزیرِ مملکت بنے تاہم اس کے بعد مسلسل چناو ہارتے چلے گئے اوراُن کے سیاسی کیرئر میں ٹھہراوآیاتاہم اُنہوں نے ہمت نہیں ہاری اور انتخاب جیتے بغیر بھی سیاسی داو پیچ کھیلتے رہے۔
1984ءمیں نیشنل کانفرنس کی حکومت کا تختہ پلٹ ہونے میں مفتی سعید کا کلیدی کردار مانا جاتا رہا ہے جبکہ اُنہیں اس واقعہ کے” ضمنات“ کے لئے بھی ذمہ دار مانا جاتا ہے۔1986ءمیں اُنہیں راجیو گاندھی کی حکومت میں سیاحت کے محکمہ کا وزیر بنایا گیاتاہم اس کے بعد ان کی کانگریس کے ساتھ وابستگی برقرار نہ رہ سکی اور اُنہوں نے کانگریس سے علیٰحدگی اختیار کرکے1987میں وی پی سنگھ کی سربراہی والے جن مورچہ میں شرکت کی جس کے بعد2دسمبر1989ءکو وہ ہندوستان کے پہلے مُسلم وزیرِ داخلہ بن گئے اور10نومبر1990ءتک اس عہدے پر فائض رہے تاہم بعد میں پی وی نرسمہاراو کے دور میں کانگریس میں شامل ہوکر ”گھر واپسی“ کی ۔
اِس دوران اُنہوں نے اپنی بیٹی محبوبہ مفتی کو سیاست میں متعارف کرایا جو ممبرِ اسمبلی اور اسمبلی میں کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی لیڈر ہوگئی تھیں۔1998ءمیں مفتی سعید نے،اپنی بیٹی سمیت، ایک بار پھر کانگریس سے الگ ہونے کا اعلان کیا اور اب کی بار اپنی علیٰحدہ پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی کی بنیاد ڈالی۔ایک عرصہ سے اسمبلی ممبر بننے کا خواب پورا نہ کر پانے والے مفتی سعید کی اس پارٹی کے بننے پر شائد کسی کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ محض تین سال کے بعد یہ پارٹی جموں کشمیر میں برسرِ اقتدار آئے گی لیکن سیاست کی دنیا میں مفتی سعید نے یہ ”چمتکار“کر ہی دکھایا اور ریاست کے اقتدار کو اپنی جاگیر کی طرح لینے والی نیشنل کانفرنس کے سامنے ایک چلینج کھڑا کیا۔
سال2002کے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی کو 16 نشستیں حاصل ہوئیں اور اس نے کانگریس کے ساتھ مل کر ریاست میں مخلوط سرکار کا قیام عمل میں لایا ۔دونوں پارٹیوں کے مابین ایک معاہدے کے تحت مفتی سعید اس مخلوط سرکار کے پہلے تین سال کے لئے 2 نومبر 2002 ءسے 2 نومبر 2005ءتک وزیرِ اعلیٰ بنے۔بعدازاں غلام نبی آزاد نے مخلوط سرکار کی کمان سنبھالی تو ریاست میں امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین فروخت کئے جانے پر ہنگامہ ہوا اور پی ڈی پی نے کشمیریوں کے جذبات کے تیز بہاو میں اپنی ناو پار لگانے کی غرض سے اچانک ہی کانگریس کی حمایت واپس لیکرریاست میں گورنر راج کی مجبوری پیدا کی۔2008ءکے اواخر میں انتخابات ہوئے تو پارٹی کو پانچ سیٹوں کا فائدہ تو ہوا لیکن کانگریس نے اسے سبق سکھانے کے لئے اسکی بجائے نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد کیا اور مفتی سعید چھ سال تک اقتدار سے دور ہو گئے۔مفتی نے تاہم اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپنی پارٹی کو یوں متعلق بنائے رکھا کہ 2014ءمیں 87نشستوں والی اسمبلی میں پی ڈی پی28کے ہندسہ کے ساتھ اول رہی۔یہ الگ بات ہے کہ اور باتوں کے علاوہ انتخابی مہم کے دوران مفتی نے کشمیریوں میں بھاجپا کے ریاست پر ”میلی نظر“رکھنے کا ڈر بٹھاکر بھاجپا مخالف ووٹ لینے کے باوجود اسی فرقہ پرست پارٹی سے ہاتھ ملاکر کشمیریوں کو جھٹکا دیا لیکن یکم مارچ کو پورے چھ سال کے لئے ریاست کے 12ویں وزیرِ اعلیٰ کے بطور حلف اُٹھایا۔
اب جبکہ مفتی سعید کی بیماری کی افواہیں یا خبریں عام ہیں اور ریاست میں انتقالِ اقتدار کے اعلان کو کسی بھی وقت متوقع بتایا جاتا ہے،محبوبہ مفتی نے اپنے پہلے بیان کا کوئی حوالہ دئے بغیر کہا ہے ”اللہ کے فضل سے سب ٹھیک ہے،اب لوگ قیاس کریں تو میں اُنہیں روک نہیں نا سکتی ہوں“۔ تاہم ”دِی ہندو“نے ریاست کی نوکر شاہی میں اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی پی قائدین مفتی سعید کی سبکدوشی کے لئے ذہناََ تیار ہو چکے ہیں اور پہلے ہی محبوبہ مفتی کو بطورِ وزیرِ اعلیٰ قبول کرنے پر آمادگی جتا چکے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی،جن کے پاس ابھی براہِ راست کوئی سرکاری ذمہ داری نبھانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے،بھی گورننس میں خاصی دلچسپی دکھا رہی ہیں۔ان ذرائع کے مطابق تاہم محبوبہ مفتی موجودہ کابینہ کے ساتھ کام نہیں کر پائیں گی کیونکہ ،بقولِ ان ذرائع کے،بیشتر وزراءمفتی سعید کی توقعات پر کھرا نہیں اُتر پائے ہیں۔ان ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی وزیرِ اعلیٰ بن گئیں تو سرکار میں کئی اہم تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں جبکہ وہ پارٹی کے دو سینئر لیڈروں،طارق قرہ اور مظفر حسین بیگ،کو ،جو ابھی ممبرانِ پارلیمنٹ ہیں،سرکار میں اہم مقام پر رکھنے والی ہیں۔ریاست کے ایک معتبر سیاستدان نے عالمی سہارا کو بتایا”عجب نہیں ہے کہ رواں ماہ کے دوران ہی ایک بڑا سیاسی فیصلہ دیکھنے میں آئے اور مفتی سعید سرگرم سیاست سے کنارہ کرتے ہوئے اپنی بیٹی کے لئے جگہ خالی کریں“۔لیکن کیا محبوبہ مفتی پی ڈی پی کو ایک پارٹی کے بطور چلانے اور اپنے والد کی طرح ہی اس(پارٹی)کی” اہمیت“کو بنائے رکھنے میں کامیاب ہونگی؟یہ ایک دلچسپ سوال ہے جسکے کسی بھی جواب کے جموں کشمیر کی سیاست پر یقینی طور اثرات ہو سکتے ہیں۔
مفتی سعید کا خواب رہا ہے کہ جموں کشمیر کی سیاسی تاریخ کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ رکھنے والی نیشنل کانفرنس کو ایک مظبوط متبادل سے ختم کریں جیسا کہ سابق ”راء“چیف امر جیت سنگھ دُلت نے بھی اپنی کتاب میں وضاحتاََ کہا ہے کہ کس طرح مفتی سعید نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے مقابلہ کرتے اور اُنہیںپچھاڑنے کے خواب دیکھتے آئے ہیں۔نیشنل کانفرنس،جو 1938ءمیں بنی ہے ،پوری طرح سے فاروق عبداللہ کے خاندان کے قابو میں ہے اور پارٹی میں ایسا ایک بھی لیڈر نہیں ہے کہ جو فاروق عبداللہ یا اُنکے بیٹے عمر عبداللہ کی برابری کرسکتا ہو۔البتہ 1999ءمیں جنم لینے والی پی ڈی پی محض 16سال پُرانی پارٹی ہے جس میں ایسے کئی لیڈر ہیں کہ جو محدود ہی سہی لیکن خود اپنی پہچان بھی رکھتے ہیںلیکن مفتی سعید نے انہیں ایک بڑے درخت کی طرح یوں اپنے سائے میں لے لیا کہ دور سے فقط ایک بڑا درخت نظر آتا رہا ۔دو ایک چھوٹے موٹے واقعات کو چھوڑ کر پی ڈی پی کو اپنے سولہ سال کے سفر میںکسی بڑے داخلی بحران سے دوچار نہیں ہونا پڑا اوریوںپارٹی کو ،باوجود اسکے کہ یہ کوئی نظریاتی پارٹی نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف الخیال پارٹیوں کے لوگ آکر جمع ہو گئے ہیں،ایک جھُٹ رکھنا اُنکی بہت بڑی کامیابی قرار پا سکتا ہے۔پھر یہ بھی کہ 1996میں،جب پی ڈی پی کا جنم بھی نہیں ہوا تھا،ریاستی اسمبلی میں 56نشستیں رکھنے والی نیشنل کانفرنس کے سامنے ایک بڑے چلینج کے بطور کھڑا ہوکر مفتی سعید نے 2014کے انتخابات میں اسے محض 15نشستوں تک محدود کرکے تقریباََ ختم ہی کردیا جبکہ خود پی ڈی پی کو 28نشستوں پر کامیابی ملی جبکہ مزید15نشستوں پر اس نے محض1500ووٹوں کے معمولی فرق سے ہارا۔حالانکہ مفتی سعید کے وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد پی ڈی پی کی شہرت کے آسمان چھو جانے اور نیشنل کانفرنس کے نابود ہونے کا منظر بڑی حد تک بدلتے دکھائی دے رہا ہے۔
اپنے والد کے برعکس محبوبہ مفتی ،مختصر دورانیہ میں کافی شہرت حاصل کرنے کے باوجود بھی براہِ راست سرکار چلانے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتی ہےں کہ وہ کبھی وزیر بنیں اور نہ ہی اُنہوں نے کسی اور سرکاری عہدے پر کام کیا ہے۔ اگرچہ پی ڈی پی کو عوام میں متعارف کرانے میں اُنکا بہت بڑا رول ہےتاہم وہ ایک من موجی لیڈر مانی جاتی ہیں جو ایک خاص انداز سے ”جذباتی سیاست“کا داو¿ کھیلتی رہی ہیں۔چناچہ امرناتھ شرائن بورڈ کے تنازعہ کے دوران غلام نبی آزاد کی حکومت گرانے کا فیصلہ محبوبہ مفتی کے ہی کھاتے میں جمع بتایا جارہا ہے جو اُنہوں نے سیاست میں ایک بڑی چھلانگ لگانے کی غرض سے لیا تھا لیکن چھ سال تک اقتدار سے بے دخل ہونے کی صورت میں پارٹی کو یہ فیصلہ بہت بھاری پڑا تھا۔
علیٰحدگی پسند جنگجووں کی نعشوں پر بین کرنے،سبز عبا پہننے اور اس طرح کی جذباتی سیاست سے مشہور ہونے والی محبوبہ مفتی کے بارے میں مبصرین کا یقین ہے کہ وہ پارٹی کے لئے ہجوم اکٹھا کرسکتی ہیںاوربنیادی سطح پر زمین ہموار کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہیں ۔لیکن اگر اُنہیں اپنے والد کی جگہ بٹھایا گیا تو کیا وہ بھاجپا جیسی پارٹی کے ساتھ قائم مخلوط سرکار کو چلاسکتی ہیںاور کیا وہ پارٹی کو ایک جھُٹ رکھنے میں اپنے والد کی ہی طرح کامیاب ہوسکتی ہیں؟وہ بھی تب کہ جب پی ڈی پی اپنے انتخابی منشور اور پالیسی سے اقتدار میں آنے کے چھ ماہ کے دوران ہی کوسوں دور جاتی نظر آرہی ہے اور اس پارٹی کے تئیں لوگوں کی سوچ مایوسی کے ساتھ تیزی سے بدلنے لگی ہے۔یہ سب دیکھنے والی باتیں ہونگی لیکن اتنا یقینی ہے کہ یہ سب ریاست کی مین اسٹریم سیاست کے علاوہ علیٰحدگی پسند سیاست کو بھی بڑی حد تک ،کسی بھی سمت میں،متاثر کر سکتا ہے۔(بشکریہ عالمی سہارا،دلی)
(یہ مضمون پہلے ستمبر ٢٠١٥ کو شائع ہوا تھا)