کہیں یہ شہداءکی تذلیل تو نہیں ہے؟

صریر خالد
13 جولائی کی تاریخ کسی کے لئے کلینڈر کے دیگر اندراجات کی طرح ہی محض ایک تاریخ ہو سکتی ہے لیکن ریاستِ جموں و کشمیر کے لئے یہ دن زبردست اہمیت کا حامل ہے ۔اس دن کو نہ صرف یہ کہ کشمیر کی سرزمین کو اپنے کئی محب ثپوتوں نے گرم لہو سے سینچا تھا بلکہ اس دن ایک تحریک کی شروعات ہوئی تھی۔13 جولائی 1931 ءکو کشمیریوں نے اپنی غیرت کا یوں ثبوت دیا کہ جسے رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہے گا۔13جولائی کو،جسے اب یومِ شہداءکے بطور بنانے کا رواج بن چکا ہے،کشمیر کے جیالے ثپوتوں نے غلامی کی زلت آمیز زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہوئے ظالم کے سامنے اس طرح گردن اٹھائی کہ ظالم حواس باختہ ہوگیا اور مذکورہ بہادروں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔

گو وہ صاحبانِ شجاعت تو موقعہ پر ہی ہمیشہ کے لئے بظاہر چُپ ہوگئے اور انہیں گردن اُٹھانے کی سزا گردن زنی کی شکل میں دی گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ انکے گردن نہ جھکائے جانے کے طفیل ہی انکی قوم کی گردنیں اب بھی کسی حد تک اُٹھی ہوئی ہیں ۔انہوں نے خدا نخواستہ گردنیں جھکائی ہوتیں تو آج ہم یومِ شہداءنہیں منا رہے ہوتے اور نہ ہی شائد ہمیں وہ فخریہ احساس ہی حاصل ہوتا کہ جسکی وجہ سے آج ہم دنیا کو کہتے ہیں ” آزادی کے لئے ہم نے جان نچھاور کرنے کی تاریخ بنائی ہے“۔چناچہ سنٹرل جیل سرینگر کے احاطے میں پیش آمدہ واقعہ میں کشمیریوں کے اس اجتماعی قتلِ عام کو لیکر دہائیوں سے 13جولائی کویومِ شہداءمنا یا جاتا ہے اور اُن شہداءکو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

شہید لفظ بذاتِ خود اتنا عظیم اور میٹھا ہے کہ اس لفظ کے نوکِ زبان پر آتے ہی عزت و احترام اور عقیدت کا احساس ہو جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے شہید کے ساتھ،چاہے اسکے ساتھ کوئی خونی یا سماجی رشتہ نہ بھی ہو،اپناہیت کا رشتہ ہو۔شہید کوئی گمنام شخص ہی کیوں نہ ہو لیکن اسکے ساتھ قدرتی طور ایک اُنس ہوتا ہے اور ہر درد مند اور با حس انسان اس احساس کی دولت سے مالا مال رہتا ہے۔اس محبت و عقیدت کی وجہ یہ ہے کہ شہید ایک پاکیزہ مقصد کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہوتے ہیں اور وہ ذاتی مفاد و مقاصد سے بالاتر ہوکر اپنے ملک و قوم اور انسانیت کے لئے فکر مند ہوتے ہیں۔ 13 جولائی کے شہید بھی اسی طرح پاک مقصد کے لئے یعنی قومی غیرت اور آزادی کے لئے قربان ہوگئے۔انہوںنے اپنے لوگوں کو آزادی کی سانسیں لینے کا موقع دینے کے لئے اپنی جانیں پیش کردیں۔گو کشمیر کے بازار و گلی کوچے آج بھی شہیدوں کے خون سے رنگے جا رہے ہیں بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ سرزمینِ کشمیر خونِ شہداءسے ہمیشہ ہی تر رہتی ہے لیکن 13 جولائی 1931 کے شہداءکو ہر سال اہتمام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔

13 جولائی کو یومِ شہداءکے حوالے سے کئی تقاریب کا اہتمام رہتا ہے۔جلسے اور جلوس نکالے جاتے ہیں،تقاریر کی جاتی ہیں ،خراجِ عقیدت کے پیغامات دئے جاتے ہیں اور نہ جانے کن کن چیزوں کا اہتمام رہتا ہے۔حالانکہ اس چیز کی جوازیت بھی ہے اور ضرورت بھی ۔ شہید ذاتی شہرت کی لالچ اور دیگر ذاتی مقاصد نہیں رکھتے ہیں،تاہم یہ چیز خود قوموں کی بقا کے لئے لازمی ہے کہ وہ اپنے” ہیروز“ کو یاد کریں ،اور اپنی اولاد کو یہ بتائیں کہ جس قوم میں وہ جنم لے رہے ہیں اُسکی عزت کن کی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔پھر شہداءسے بڑھکر قومی ہیرو تو کوئی ہو نہیں سکتے ہیں لہٰذا لازم بنتا ہے کہ وقت وقت پر شہیدوں کو اور انکی قربانیوں کو یاد کیا جائے لیکن کیا مزاروں پر کسی مخصوص دن کو گلباری کرنا ہی سب کچھ ہے ،کیا کسی خاص دن کو مزارِ شہداءپر جاکر پھول چڑھانے اور رسمی فاتحہ پڑھنے سے ہی شہداءکے تئیں قومیں اپنا فرض پورا کر سکتی ہیں؟یہ ایک سوال ہے جسکا جواب فقط نا میں ہی دیا جاسکتا ہے۔

13 جولائی کشمیر کے کلینڈر میں ایک ایسا دن ہے کہ جسے یہاں کی ہر چھوٹی بڑی سیاسی پارٹی اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔حالانکہ یومِ شہداءمنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ قوم ان شہداءکے تئیں وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن مقاصد کو جانچتی کہ جن کے لئے شہداءنے اپنی زندگی قربان کر دی تھی۔شہداءکے مشن کو سمجھتے ہوئے اسکی آبیاری کے لئے کسی بھی قربانی کے لئے تیار رہنے اور اپنے آپ کو اس سلسلے میںثابت کرکے ہی کوئی قوم اپنے شہیدوں کو سلام پیش کر سکتی ہے ۔شہیدوں کو سلام کرنے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ خود غرضی،دھوکہ دہی،اور اجارہ داری کی بدترین ذہنیت سے بالاتر ہوکر شہداءکے مشن کی تکمیل کی فکر کی جاتی لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوتا ہے۔

گذشتہ کئی سال سے ایک نئی بدتمیزی یہ شروع ہوئی کہ مختلف مین سٹریم سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر سبقت لینے کے لئے انتہائی اوچھے طریقوں کا استعمال کرتی ہیں۔ان لوگوں کے نزدیک یومِ شہداءکا واحد مقصد یہ رہا ہے کہ اس دن بلند و بالا قراقلیاں پہن کر مزارِ شہداءپہنچا جائے اور وہاں رشوت کے پیسے سے پھول خرید کر شہداءکی پاک قبروں پر چڑھائے جائیںاور پھر اخباروں میں اپنی تصاویر کے ساتھ ”خراجِ عقیدت“کے پیغامات چھپوائے جائیںاور بس۔ایسا کرکے یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے شہدا پر احسانِ عظیم کیا ہے۔

قومی درد سے عاری اور خود غرضی کی بیماری کے شکار مکار سیاستدانوں کے پھول ،یقیناََ شہداءکی قبروں پر ایک ایسا بوجھ ہے کہ جن کے مرجھا جانے تک ان پاک شہداءکی روحیں تڑپتی رہتی ہوں گی۔اس طرح سے یومِ شہداءمنانا خود ان عظیم شہیدوں کے ساتھ کسی بھونڈے مذاق سے کم نہیں ہے۔اگر شہداءکی قبروں پر پھول چڑھانے والے سیاستدانوں کو واقعی اس بات کا اعتماد ہے کہ شہید کی موت قوم کی حیات ہوتی ہے،اور اگر انہیں واقعی شہداءکے اُس مشن کا احترام ہے کہ جسکے لئے انہوں نے اپنا لہو بہا دیا تھا تو پھر انہیں مکاری چھوڑ کر حقیقی معنوں میں قومی مفاد کی فکر کرنی چاہئے تاکہ شہداءکی قوم انکی شہادت کا اصل فیض بھی حاصل کر سکے اور خود ان شہداکی روحوں کو سکون بھی مل سکے۔بصورتِ دیگر شہداءکی قبروں کو سیاستگری کے لئے استعمال کرنا شہداءکے لئے کوئی خراجِ عقیدت نہیں بلکہ ان شہیدوں کی تذلیل ہے۔ایسے میں کچھ ”لیڈر“وقتی طور فائدہ تو لےسکتے ہیں لیکن کچھ حاصل نہیں کر سکتے….!

اے ملکِ کاشمیر کے مظلوم شہیدو
کردار کے اے غازیو، غیور شہیدو
آتے ہو انہیں تیرہویں کو یاد اچانک
چلتی تمہارے صدقے جنکی دُکان شہیدو
(صریر خالد)
(یہ مضمون پہلے جولائی ٢٠١٥ کو شائع ہوا تھا)

Exit mobile version