قتل ہا در سوپور…یہ ماجرا کیاہے؟

 

صریر خالد
ماحول میں عجیب سا خوف،سڑکوں پر جگہ جگہ پولس اور فورسز کے ناکے،ریزر لگی تارکے جگہ جگہ بچھائے ہوئے جالے اورگلی کوچوں کی جانب ایک الگ انداز سے جھانک رہے پولس اور سی آر پی ایف کے اہلکار….ہم سوپور میں ہیں۔ہاں….سوپور،جو جنگجووں کی جنت،علیٰحدگی پسند تحریک کا گڈھ ،بزرگ لیڈر سید علی شاہ گیلانی کا آبائی قصبہ ،سیبوں کی کاشت کی وجہ سے معاشی طور خوشحال ایک زمانے کا چھوٹا لندن تھا۔گذشتہ کچھ دنوں سے جاری” ٹارگٹ کِلنگ“کی وجہ سے سوپور کا جیسے تعارف ہی بدل گیا ہے اور ابھی گوگل کیجئے تو یہ وادی کے سب سے خوفناک علاقہ کے بطور متعارف ہوگا۔

نا معلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں قتل ہونے والوں میں عام لوگ بھی ہیں اور علیٰحدگی پسند تحریک کے ساتھ باالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق رکھنے والے بھی اور یہی چیز ہے کہ جو سلسلہ وار قتال کو اور بھی زیادہ پُراسرا بنائے ہوئے ہے۔آخر سوپور میں موت بن کر دندنانے والے کون ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے ،اس بارے میں دعویداریاں تو بہت ہیں لیکن سچ بات یہ ہے کہ کچھ واضح نہیں ہو پا رہا ہے۔حالانکہ جموں وکشمیر میں علیٰحدگی پسند تحریک کے شروع ہونے کے بعد سے ابھی تک جموں و کشمیر کی حدود میں اتنا قتلِ عام ہوا ہے کہ درجن بھر لوگوں کا قتل بھی معمول کا ایک واقعہ لگتا ہے لیکن جس انداز سےاور جن حالات میں سوپور میں ابھی لوگوں کی ”ٹارگٹ کِلنگ“ہورہی ہے وہ ڈرادینے والی بھی ہے اور چونکا دینے والی بھی۔چناچہ یہی وجہ ہے کہ جہاں علیٰحدگی پسند قیادت اور مسلح جنگجووں کی سبھی تنظیمیں زیرِ تبصرہ واقعات کی مذمت کر رہی ہیں وہیں ریاست کی مرکز نواز سیاسی جماعتوں سے لیکر خود مرکزی سرکار بھی ایک سلسلہ کے بطور ہورہے قتال(سیرئیل کِلنگ)کی مذمت کر رہی ہے۔

یہ سلسلہ 9جون کو تب شروع ہوا کہ جب نامعلوم بندوق برداروں نے الطاف احمد شیخ ولد محمد یوسف کو گولی مار کر جاں بحق کردیا۔الطاف محکمہ صحت میں دواساز ہونے کے ساتھ ساتھ سید علی شاہ گیلانی کی تحریکِ حُریت کے سرگرم کارکن تھے اور اُنہیں علاقے میں خاصی پہچان حاصل تھی۔چناچہ اپنے گھر کے نزدیک ہی واقعہ سب ضلع اسپتال سوپور میں شبانہ ڈیوٹی کرنے کے بعد الطاف صبح گھر لوٹ رہے تھے کہ ایک گلی میں دو نامعلوم افراد اُنکے تعاقب میں لگ گئے اور اُنہوں نے موقعہ پاتے ہی مذکورہ کو گولی مار کر موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ الطاف کے والد محمد یوسف کہتے ہیں”اُس دن الطاف اسپتال سے باہر آئے تو اُنہوں نے گھر کو آنے کے راستے کے بیچوں بیچ پولس کے خصوصی دستہ کی ایک بڑی گاڑی کھڑا دیکھی،ان لوگوں سے بچنے کے لئے الطاف نے ایک الگ راستہ لیا کہ جہاں سے عام حالات میں وہ شاذ ہی گذرتے تھے“۔وہ کہتے ہیں کہ جو نہی الطاف ایک گلی میں داخل ہوئے دو نامعلوم افراد،جنہیں وہ سرکاری ایجنٹ بتاتے ہیں،اُنکے تعاقب مین لگ گئے اور پھر اپنہوں نے الطاف کو گولی مار دی“۔وہ کہتے ہیں کہ اُنکے بیٹے کو مارنے کی یہ ایک ”گہری سازش“تھی۔عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے محمد یوسف شیخ کہتے ہیں”مالطاف کی حملہ آوروں سے ہلکی جھڑپ بھی ہوئی ہے اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اُنہیں گولی مار دی گئی تو وہ اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے گر گئے“۔اُنہیں ”یقین“ہے کہ یہ کام سرکاری ایجنسیوں نے کیا ہے۔وہ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں ؟شیخ یوسف کہتے ہیں”اس سے کئی دن قبل الطاف کو پولس اور فوج پکڑ کے لے گئی تھی،اُنہیں کئی دنوں بعد رہا کیا گیا تو اُنہوں نے مجھے بتایا کہ اُنہیں اپنے سیاسی نظریات چھوڑ دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور بصورتِ دیگر نتیجہ بھگتنے کو تیار رہنے کے لئے کہا گیا ہے“۔وہ کہتے ہیں”الطاف کو شہید کیا گیا تو اسپتال کے باہر دیکھی گئی پولس گاڑی فوری طور یہاں سے نکل کر چلی گئی“۔شیخ یوسف ہی نہیں بلکہ اُنکی بیگم بھی اسی خیال کی حامل ہے کہ اُنکے بیٹے کو سرکار کی خفیہ ایجنسیوں نے محض اسلئے قتل کیا ہے کہ وہ علیٰھدگی پسندانہ خیالات رکھتے تھے۔وہ کہتی ہیں”مجھے یقین ہے کہ یہ ایک ٹارگٹ کِلنگ تھی ،حالانکہ میں مطمعین ہوں کی میرا بیٹا شہید ہوگیا ہے“۔

یہ نہ صرف ایک شخص کا قتل تھا بلکہ سید علی شاہ گیلانی کے سرگرم کارکن کو مار دئے جانے کا سنسنی خیز واقعہ۔سید گیلانی اور دیگر سبھی چھوٹے بڑے علیٰحدگی پسندوں نے اس واقعہ کو سرکاری ایجنسیوں کے ذمہ ڈالا اور کہا کہ مذکورہ کو ”چُن کرقتل کیا گیا ہے۔علیٰحدگی پسندوں کا الزام ہے کہ مذکورہ کو سید گیلانی پر رعب جمانے کے لئے قتل کیا گیا ہے۔چناچہ اس واقعہ کا شدیدردِ عمل سامنے آیا اور سید گیلانی نے شمالی کشمیر میں احتجاجی ہڑتال کروائی۔ الطاف کے گھر ابھی پُرسہ دینے والوں کا تانتا بندھا ہی تھا اور اس قتل سے متعلق طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہو ہی رہی تھیں کہ سوپور قصبہ کے مضافات میں بومئی کے مقام پر 12جون کی شام کو ایک اور قتل ہوا۔اس بار نامعلوم بندوق برداروں نے پیشے سے دکاندار اور مقامی تاجروں کی ایک انجمن کے صدر خورشید احمد بٹ کو نشانہ بنایا اوت ٹھیک اُسی انداز میں قتل کیا کہ جس طرح الطاف احمد کاخون کیا گیا تھا۔کورشید کے بھائی طارق احمد کہتے ہیں”بھائی دکان چلا رہے تھے اور مقامی تاجروں کی انجمن کے صدر بھی تھے،وہ تحریکِ آزادی کے زبردست حامی تھے“۔طارق کا کہنا ہے کہ اُنکے بھائی کا قتل ہونے سے قبل علاقے میں سکیورٹی فورسز کی غیر معمولی نقل و حمل تھی اور ایک ماروتی کار کو بھی مشکوک حالت میں گشت کرتے دیکھا گیا تھا۔وہ کہتے ہیں”ایسا لگتا ہے کہ بھائی کو کچھ شک ہو گیا تھا کہ قتل ہونے سے محض سات منٹ قبل اُنہوں نے ہمارے چھوٹے بھائی کو فون کرنے کی کوشش کی ہے تاہم حملہ آور نہ جانے کہاں سے آئے اور اُنہوں نے میرے بھائی کو دکان سے گھسیٹ کر ایک کونے میں لیجا کر گولی مار دی“۔وہ کہتے ہیں کہ اُنہوں نے قاتلوں کو ایک ماروتی کار میں فرار ہوتے دیکھا ہے اور بھاگنے سے قبل قاتل مقتول کے پاس موجود پیسے،اے ٹی ایم کارڈاور دیگر اشیاءیہاں تک کہ جوتے تک لے گئے۔وہ کہتے ہیں”میں گھر میں بیٹھا تھا کہ گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں،اندھیرے میں کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا تاہم میں دوڑ کے اپنی دکان کی جانب گیا جہاں میں نے دیکھا کہ سی آر پی ایف کے جوان میرے بھائی کے،جو خون میں لت پت گرا پڑا تھا، ارد گرد خاموش کھڑے تھے،میرا سوال ہے کہ گولیاں چلتے ہی فورسز اہلکار جائے واردات پر کیسے پہنچ گئے،وہ دراصل قاتلوں کو ڈھال فراہ کر رہے تھے اور اُنہیں بھاگنے کا موقعہ دے رہے تھے،میرے بھائی کو کسی اور نے نہیں بلکہ سرکاری ایجنسیوں نے چُن کر مروایا ہے“۔

محض دو دن کے وقفے کے بعد سوپور کے ہی ایک گاوں بادام باغ میں اسی طرح کا ایک اور قتل ہوا۔اب کے نشانے پر معراج الدین ڈار تھے جو نوے کی دہائی میں جنگجو بننے کے فوری بعد گرفتار ہوئے اور جیل سے چھوٹنے کے بعد اپنے کاروبار کے ساتھ مصروف ہوگئے تھے۔ابھی مرغ فروشی کا کام کرکے گھر چلا رہے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ معراج بھی گھر کے باہر ہی واقعہ دکان پر تھے کہ جب دو نامعلوم بندوق بردار آکر اُن پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے چلے گئے۔اُنکے ایک پروسی غلام محمد میر کہتے ہیں”میں نے گولیوں کی آواز سُنی تو گھر سے باہر آیا اور یہ دیکھ کر سکتے میں آیا کہ دینا(معراج الدین کو دوست احباب دینا کہکر پکارتے تھے)سڑک پر تڑپ رہا ہے جبکہ تھوڑا ہی فاصلے پر فوج کی دو گاڑیاں کھڑا تھیں“۔اُنکے ایک اور پڑوسی اور واقعہ کے چشم دیدمحمد احسن کہتے ہیں”میں نے دیکھا کہ معراج الدین ٹرپ رہا ہے اور میں نے نزدیک جانے کی کوشش کی تھی تاہم فوج نے علاقے کو محاصرے میں لے لیا تھا اور وہ آگے بڑھنے کی کسی کو اجازت نہیں دے رہے تھے،حالانکہ کئی لوگ جمع ہوئے اور ہم نے محاصرہ توڑ کر معراج الدین کو اُٹھانا چاہا لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی“۔مقتول کے والد عبدالرشید کہتے ہیں”یہ بھی ایک ٹارگٹ کِلنگ ہے میرے بچے کو کیوں مارا گیا ہے نہیں معلوم لیکن اتنا طے ہے کہ یہ کام سرکاری ایجنسیوں نے کیا ہے“۔اُنکا سوال ہے”اگر فوج اتنی قریب تھی کہ گولیاں چلتے ہیں جائے واردات پر پہنچ گئی تو پھر کسی جنگجو کے لئے علاقے میں آکر گولی چلانا کیسے ممکن ہو سکتا ہے،دراصل فوج قاتلوں کو ڈھال فراہم کرنے کے لئے نزدیک موجود تھی اور قاتل جو فرار ہوئے تو فوج نے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے جائے واردات کو گھیر لیا“۔

دینا کے مارے جانے کے اگلے ہی دن سوپور کے منڈجی گاوں میں ایک اور سابق جنگجو کو نشانہ بنایا گیا۔اعجاز احمد ریشی گھر کے پاس ہی تھے کہ نامعلوم افراد نے آکر اُن پر گولیوں کی بوچھاڑ کی اور اُنہیں جاں بحق کردیا۔اعجاز ریشی کے گھر والے چشمِ دید گواہ رکھنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قاتلوں نے پاس کھڑی ایک فوجی گاڑی میں پناہ لی اور پھر یہاں سے رفو چکر ہو گئے۔ریشی کے چچا الطاف حُسین کہتے ہیں”فوج نے اس واقعہ سے قبل ہی علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا تھا،ایسے میں جنگجووں کا یہاں آنا کیسے ممکن ہو سکتا تھا پھر کچھ لوگوں نے تو قاتلوں کو ایک فوجی گاڑی میں ہانپتے ہوئے بھی دیکھا تھا،یہ ایک ٹارگٹ کِلنگ تھی“۔

پولس کا کہنا ہے کہ پُراسرار قتل کی یہ وارداتیں جنگجووں کا وہی گروپ انجام دے رہا ہے کہ جو اس سے قبل موبائل فون سروسز کو بند کرانے کے لئے دو لوگوں کا قتل کر چکا ہے اور کئی موبائل فون ٹاوروں پر حملے کے دوران کئی لوگوں کو زخمی کر چکا ہے۔پولس میں ذرائع نے کہا”یہ در اصل حزب المجاہدین کا ایک منحرف گروہ ہے جو تنظیم کی قیادت سے ناراض ہے اور بوکھلاہٹ میں یوں عام لوگو کا قتل کرتا پھر رہا ہے“۔چند روز قبل پولس چیف کے راجندرا کُمار نے ایک انٹرویو کے دوران یہاں تک دعویٰ کیا تھا کہ قاتلوں کی نشاندہی ہو چکی ہے اور اُنہیں میڈیا کے سامنے لایا جا رہا ہے تاہم اسکے بعد کئی قتل ہوئے ،کئی دن گذرے لیکن ڈائریکٹر جنرل آف پولس اپنی دعویداری کو سچی ثابت نہیں کر پائے۔ہاں سوپور اور یہاں کے مضافات میں دو مقامی جنگجووں کے پوسٹر چسپاں کئے گئے ہیں جن پر انہی کے قاتل ہونے کا دعویٰ ہے اور ان کے سر پر 20لاکھ روپے کا انعام رکھ کر لوگوں سے انکی گرفتاری میں مدد دینے کی اپیل کی گئی ہے۔مقامی لوگ تاہم پولس کی اس کہانی سے بہت زیادہ متاثر نہیں ہیں۔

کیا واقعی حزب المجاہدین یا اسکا کوئی منحرف گروہ قتل کی سلسلہ وار وارداتوں میں ملوث ہے ،حتمی طور کچھ بھی کہنا نا ممکن ہے تاہم کچھ سوالوں کے جواب تلاش کئے جائیں تو سوچ کو ایک سمت ضرور مل جاتی ہے۔حالانکہ حزب المجاہدین نے پولس کی دعویداری کو سرے سے رد کر دیا ہے لیکن اگر فرض کریں کہ اسکا کوئی منحرف گروہ ہے تو وہ ایسی حرکات کیوں کرے گا کہ جس سے پوری وادی اسکی دشمن ہو جائے۔آخر حزب المجاہدین جیسی بڑی طاقت سے انحراف کرکے اپنی پہچان بنانے والا کوئی چھوٹا موٹا گروہ یوں قتلِ عام کیوں کرے گا کہ جس سے نہ صرف اسکی تھو تھو ہو جائے بلکہ پورا زمانہ اسکے خون کا پیاسا ہو جائے ۔یہ بات سکیورٹی سے وابستہ ادارے بھی مانتے رہے ہیں کہ جموں و کشمیر یا کسی بھی علاقہ میں گوریلاوں کا تب تک باقی رہنا ممکن ہی نہیں ہے کہ جب تک نہ اُنہیں اُس بستی کے لوگوں کا ساتھ حاصل ہو۔گوریلاوں کے لئے اُنکے دائرہ کار کے لوگوں کی حیثیت وہی ہوتی ہے کہ جو مچھلی کے لئے پانی کی سو ایک بڑی طاقت سے الگ ہوکر اپنی پہچان بنانے اور اپنے لئے زمین ہموار کرنے والے کسی بھی گروہ سے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ خوف و دہشت کا ماحول قائم کرے اور اُنہی گھروں کے دئے بجھادیں کہ جہاں وہ پناہ لیتے رہے ہوں یا پناہ لینے پر مجبور ہوں۔جموں و کشمیر کی ملی ٹینسی کے حوالے سے جانکاروں کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہاں کا کوئی بھی ملی ٹینٹ گروہ خود کو خوف و دہشت کے بل بوتے پر لوگوں کے لئے قابلِ قبول نہیں بنا پایا ہے بلکہ اگر کشمیری سماج میں علیٰحدگی پسند جنگجووں کو جگہ ملی بھی ہے تو یہ سب جذباتی وابستگی کی بنیاد پر ہی ممکن ہو پایا ہے۔چناچہ فوج نے اپنی طرفسے نوے کی دہائی میں ”اخوان“نام کا جنگجو گروہ تیار کیا تو اس نے خوف و دہشت کی وہ داستانیں رقم کیں کہ جن کے تذکرے آج بھی ہوں تو انسان تھرا اٹھتا ہے تاہم ان جنگجووں کے لئے کشمیر سماج میں جذب ہونا ممکن نہیں ہو پایا یہاں تک کہ وہ لوگ مارے گئے اور فوج و دیگر ایجنسیوں کو بھی،ظاہری طور،اُنکے سر سے ہاتھ کھینچ لینا پڑا۔

تو کیا سوپور کی صورتحال واقعی سرکاری ایجنسیوں کی تخلیق ہے،اس بارے میں بھی وثوق کے ساتھ کچھ بھی کہنا ممکن نہیں ہوگا البتہ بعض تجزیہ نگار سلسلہ وار قتال کو وزیرِ دفاع منوہر پاریکر کے حالیہ بیان کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔واضح رہے کہ منوہر پاریکر نے ایک انٹرویو میں کھلے عام کہا ہے کہ وہ ”دہشت گردوں“کے مقابلے کے لئے دہشت گردوں کو استعمال کرنے کی حکمتِ عملی بنا رہے ہیں۔اُنکے اس بیان سے لوگوں نے مذکورہ بالا ”اخوان“کے احیاءکا مطلب لیا ہے اور تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ مرکزی سرکار فوج کے پالتو جنگجو کھڑا کرکے جموں و کشمیر میں خوف و دہشت کا ماحول کھڑا کرنا چاہتی ہے۔علیٰحدگی پسندوں کا ماننا ہے کہ سوپور کی صورتحال یہ بات منوانے کے لئے کافی ہے کہ پاریکر کے بیان پر عمل درآمد شروع بھی ہو چکا ہے۔جیسا کہ بزرگ لیڈر سید علی شاہ گیلانی کہتے ہیں”ایسا لگتا ہے کہ اخوانیوں کو دوبارہ سامنے لانے کی حکمتِ عملی پر عمل در آمد بھی شروع ہوا ہے لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اسکے بیانک نتائج ہوسکتے ہیں“۔سید گیلانی ہی نہیں بلکہ سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ بھی گذشتہ دنوں ایک ریلی سے خطاب کے دوران اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اخوان کو بحال کیا جانے لگا ہے۔عمر عبداللہ نے یہاں تک کہا”منوہر پاریکر کے بیان کے بعد ہی سوپور میں قتل ہونے لگے ہیں“۔یہ الگ بات ہے کہ عمر عبداللہ نے ٹارگٹ کِلنگ کی گرمی سے اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش میں الزام لگایا ہے کہ یہ سب وزیرِ اعلیٰ مفتی سعید کی بدولت ممکن ہو رہا ہے تاہم اہم ہے کہ وہ بھی منوہر پاریکر کے بیان اور سوپور کی صورتحال میں رابطہ دیکھنے لگے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ راجیہ سبھا میں حزبِ اختلاف کے قائد غلام نبی آزاد نے بھی ایک بیان میں مرکز سے یہ بات واضح کرنے کے لئے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کے بیان اور سوپور کی صورتحال میں کیا رشتہ ہے۔

دلچسپ ہے کہ کئی طرح کے سوال اُٹھنے کے باوجود بھی مرکزی سرکار کی جانب سے ابھی تک کوئی ٹھوس بیان سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی بات کا بتنگڑ بناکر اپنا ٹی آرپی بڑھاتی رہی ٹیلی ویژن چینلوں نے ہی اس معاملے کو لیکر ایسا کوئی ہنگامہ کیا ہے کہ جس سے مجبور ہوکر مرکزی سرکار کا کوئی معتبر حاکم معاملات کی وضاحت کرنے پر مجبور ہوجاتا۔سبز ہلای پرچم لہرا کر ”کشمیری جوانوں کو گمراہ کرنے والوں“کو لیکر یہی ٹیلی ویژچن چینل کئی کئی گھنٹوں کے خصوصی پروگرام چلا کر ایسی ہوا کھڑا کرتے ہیں کہ خود ٹیلی ویژن دیکھنا خوفناک لگنے لگتا ہے ۔لیکن جب کشمیر کے انہی جوانوں کے قتل کا پُراسرار سلسلہ جاری ہو تو اسکے لئے چند ساعتیں مخصوص کرنا بھی ان چینلوں کے لئے ممکن ہوتا ہے اور نہ ہی سرکار کو کسی وزیرِ کو ریاست کے دورے پر روانہ کرنے یا کوئی ٹھوس بیان لیکر سامنے آنے کی ضرورت ہی محسوس ہوتی ہے۔

معاملہ بہر حال پُر اسرار بنا ہوا ہے ،الزامات ہیں،جوابی الزامات ہیں اور دعویداریوں کا تبادلہ لیکن اس سب سے جو بڑھکر ہے وہ یہ کہ اہلیانِ سوپور خود کو ایک پُراسرار جنگ سے نبردآزما پاتے ہیں جس نے ان میں اس قدر خوف بٹھا دیا ہے کہ کبھی اپنی رنگینیوں کے لئے مشہور اس قصبہ کے لوگ خود اپنے سائے سے ڈرنے لگے ہیں۔یہ سلسلہ کہاں رُکے گا،سوپور کی صورتحال میں کوئی فوری تبدیلی بھی آئے گی کیا یا پھر ابھی کچھ دیر کے لئے” زندہ دلانِ سوپور“مردوں کا شمار کرنے پر مجبور ہونگے….آنے والا کل ہی بتا پائے گا!!!(بشکریہ عالمی سہارا)

(یہ مضمون پہلے جون ٢٠١٥ کو شائع ہوا تھا)

Exit mobile version