اُف،یہ اندھا کرنے والا پیلٹ گن!

پیلٹ گن کا شکار ہوئے ایک بچے کی فائل فوٹو

صریر خالد

حامد نذیر نامی کمسن کو مزید علاج کے لئے بیرونِ ریاست لئے جانے کی خبر اخبار میں پڑھکر وہ مغموم ہے اور ایک اور غریب گھر کو اپنا سب کچھ ہار جانے کے راستے چلنے کو مجبور دیکھتے ہوئے وہ اپنے درد کو تازہ ہوتے محسوس کرتے ہیں لیکن ندیم احمد حامد کے لئے دعا گو بھی ہیں۔حامد پولس کی چھرے دار بندوق(پیلٹ گن)کے شکار درجنوں بد نصیب کشمیریوں کی فہرست میں تازہ اضافہ ہیں اور ندیم قریب چار سال سے ایک بدترین زندگی جینے والے اس ”غیر مہلک ہتھیار“کے شکار کئی لوگوں کی ایک مثال۔

حامد نذیر نام کے کمسن کے لئے زندگی 21مئی تک بس ایک کھیل تھا،ایک معمول اور ایک خواب کہ جس میں اُنہیں اچھی پڑھائی،اچھے نمبرات سے کامیابی اور سب اچھا ہی اچھا دکھائی دیتا تھا اور وہ اپنے چھوٹے چھوٹے خوابوں کی تکمیل کی پہلی منزل کے بطور میٹرک کے امتحانات تک محدود تھا کہ آن کی آن میں سب کچھ بدل گیا۔گو کہ وہ اب بھی زندہ ہیں،سانسیں ابھی باقی ہیں اور خواب تو بند آنکھوں سے بھی دیکھے جاسکتے ہیں لیکن اُنکی تعبیر دیکھنے کے لئے درکار آنکھیں اب شائد باقی نہ رہی ہیں….ظاہر ہے کہ خواب بکھر گئے ہیں سو حامد بھی گویا ٹوٹ کر کچھ اور ہو گئے ہیں۔

21مئی کو حُریت کانفرنس کے چیرمین مولوی عمر فاروق کے والد مولوی محمد فاروق کی اور ایک کابینہ وزیر سجاد غنی لون کے والد عبدالغنی لون کی برسی تھی اور حُریت کی کال پر کشمیر بند کہ جب16سال کے حامد کی آنکھیں،شائد ساری زندگی کے لئے،بند ہوگئیں۔شمالی کشمیر کے پٹن علاقہ میں پلہالن کے مقام پر مذکورہ بالا اشخاص کی برسی کے حوالے سے ہڑتال تھی اور بعض نوجوان احتجاجی مظاہروں کی اجازت نہ ملنے پر پولس کے ساتھ لُکا چھُپی کھیلنے میں مصروف کہ جب پولس نے تاو میں آکر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکنے کے علاوہ چھرے دار بندوقوں کی دہانے کھولے۔جیسا کہ حامد کے لواحقین کا کہنا ہے اور عینی شاہدین کی گواہی ہے حامد نہ احتجاج میں شریک تھے اور نہ کسی اور ہنگامے میں لیکن پولس کی چھرے دار بندوق نے اُنہی کو اپنا نشانہ پایا اور وہ چھلنی ہوگئے۔

حامد کے زخمی ہونے کے اگلے دن اسپتال کے ایک ماہرِ امراضِ چشم کا کہنا ہے”ہم نے ان کا آپریشن کیا ہے لیکن سچ پوچھئے تو ابھی کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے،میرے خیال میں یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہوگاکہ اگر مریض کی آنکھیں بحال ہو پائیں“۔اُنہوں نے مزید کہا کہحامد کی داہنی آنکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اسکا پوری طرح ٹھیک ہونا یا نہ ہونا ابھی واضح نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا”ابھی تو ہم نے ایک آپریشن کیا ہے لیکن سب کچھ ٹھیک رہنے کی صورت میں اگلے دنوں مزید کئی آپریشن کرنا پڑ سکتے ہیں“جراحی کے عمل میں شریک رہے ایک تھیٹر اسسٹنٹ نے بتایا کہ حامدکے سر کے آس پاس درجنوں چھرے لگے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ چھلنی ہو گئے ہوں۔اُنکا کہنا تھا”مجموعی طور اس بچے کو تقریباََ ایک سو چھرے لگے ہیں جن میں سے اب بھی کئی چھرے اُنکے بدن کے مختلف حصوں میں موجود ہیں“۔

حامدکے چچاکا کہنا ہے ”یہ(حامد)تو کسی مظاہرے میں بھی شامل نہیں تھا بلکہ اُسوقت وہ یہ دیکھنے کے لئے باہر گیا تھا کہ اسکا ٹیوشن سنٹر بند ہے یا کھلا ہے کہ علاقے میں وادی کے دیگر علاقوں کی ہی طرح ہڑتال تھی“۔اُنہوں نے کہا کہ اسی دوران وہ پولس کے راستے میں آکر چھرے دار بندوق کا شکار ہو کر زخمی ہوگئے اوراُنہیں سرینگر پہنچایا گیا۔اُنہوں نے کہا کہ پولس اور فورسز نے راست فائرنگ کی ہے ورنہ ٹانگوں کو بھی زخمی کیا جا سکتا تھا۔اُنکا مزید کہنا ہے”بچے کے دوستوں نے بتایا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی ایسی کوئی حرکت نہیں کر رہا تھا کہ جسکے لئے اس پر بندوق تانی جا سکتی تھی لیکن نہ جانے کیوںایک معصوم بچے کے ساتھ یوں بڑا ظلم کیا گیا“۔ کئی دنوں تک اسپتال میں رہنے کے بعد اُنکے لواحقین نے حامد کو بیرونِ ریاست منتقل کرنے کا فیصلہ لیا ہے کہ مقامی طور ڈاکٹروں نے اگرچہ صاف لفظوں میں انکار بھی نہیں کیا لیکن وہ حامد کو پھر سے دُنیا کی رنگینیاں دیکھ پانے کی ضمانت بھی نہیں دے پائے۔اور اب جبکہ حامد کا غریب خاندان امرتسر یا اندور میں امراضِ چشم کے اسپتالوں کی خاک چھاننے نکلا ہے،ندیم احمد(جنکا اصل نام کچھ اور ہے اور ندیم نجی وجوہات کے لئے اپنی شناخت مخفی رکھنا چاہتے ہیں)مایوس ہیں۔

سرینگر میں علیٰحدگی پسند مظاہروں کے دوران سرکاری فورسز کا پیلٹ یا چھرہ لگنے سے اپنی آنکھیں کھو چکے ندیم احمد کہتے ہیں”میں نے جب حامد کے بارے میں سُنا کہ اُنہیں اب باہر لیجایا جا رہا ہے تو یقین مانئے کہ مجھے بڑا دُکھ ہوا،ہوتا بھی کیسے نہیں کہ میں خود اُن راستوں سے مایوس لوٹ آیا ہوں اور اتنا ہی نہیں بلکہ آنکھوں کی روشنی واپس پانے کی جستجو میں میرے خاندان نے مانو سب کچھ کھو دیا ہے“۔وہ کہتے ہیں”2013میں ،تب میں ترکاریاں کریدنے نکلا تھا کہ جب پولس اور احتجاجی مظاہرین کی جھڑپ ہوگئی تھی اور پولس اسے دستیاب ہر طرح کے ہتھیار چلا کر گویا جنگ کا سماں باندھ چکے تھے“۔وہ مزید کہتے ہیں”افراتفری کے عالم میں جیسے کچھ سوجھ ہی نہیں رہا تھا اور میں بھاگ رہا تھا کہ اچانک ایسا لگا کر میرے چہرے پر شدید تیکھی مرچوں کی پھوار چھوٹی ہو،میں ایک دم گر گیا اور پھر لوگ مجھے اسپتال لے گئے جہاں میرے جسم کے کئی حصوں کے ساتھ ساتھ میری آنکھوں کو بھی زخمی پایا گیا“۔وہ کہتے ہیں کہ پہلے سرینگر میں اور پھر امرتسر اور اندور میں کئی جگہوں پر علاج کرانے کے باوجود بھی اُنکی بینائی بحال نہ ہو سکی بلکہ علاج و معالجہ کے اخراجات کے لئے اُنکے گھرانے کو گھر یلو اشیاءتک بیچنا پڑیں۔وہ کہتے ہیں”میری دعا ہے کہ حامد اچھے بھلے ہوکر لوٹیں اور معمول کی زندگی گذار سکیں لیکن سچ پوچھئے تو مجھے بہت اُمید نہیں ہے“۔

یہ اکیلے ندیم احمد ہی نہیں ہیں بلکہ سرینگر کے پائین علاقہ کے دانش احمد،ریاض اور نصیر جیسے کمسنوں،جن کی عمر 15سے 17کے بیچ ہے،کا بھی کہنا ہے کہ اُنہیں اپنی بصیرت واپس پانے اور نہ ہی حامد نذیر کے لئے بہت زیادہ اُمید ہے۔جیسا کہ دانش کہتے ہیں”میں ایک غریب گھر سے ہوں میری ایک آنکھ پیلٹ سے ناکارہ ہوگئی ہے اور میں نے اپنے جیسے کئی لڑکوں کو باہر ہوآتے دیکھا لیکن کسی کو فائدہ نہ ملاپھر میں نے سوچا کہ باہر جانے کا فائدہ کیا ہے؟ایک تو میں کسی کام کا نہ رہا اوپر سے گھر والوں کو قرضہ لینے پر مجبور کیوں کروں“۔دانش کے والد پھیری لگا کر مشکل سے روزگار چلاتے ہیں جبکہ ایک سمجھدار بچے کی طرح دانش نے اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ اپنے والد کو گھر چلانے میں مدد دینے کے لئے فقط 9سال کی عمر سے ہی چھوٹا موٹا کام کرنا شروع کیا تھا۔وہ کہتے ہیں”پیلٹ لگنے کے بعد سب کچھ بدل گیااب تو میں خود کو بھی ٹھیک سے نہیں سنبھال پاتا ہوں گھر والوں کے لئے مجھ سے کیا ہوسکتا ہے،پولس والوں کو پیلٹ مارنا ہی تھا تو ٹانگوں پر مارتے شائد زندگی ہمیشہ کے لئے رُک سی نہیں جاتی“۔

2010کی عوامی تحریک کے دوران سوا سو افراد،جنہیں بیشتر بچے اور کمسن نوجوان شامل تھے،کے مارے جانے کے بعد حکومت نے احتجاجی مظاہرین نے ایک ”غیر مہلک“ہتھیار کے بطور چھرے دار بندوق متعارف کی تھی تاہم یہ ہتھیار مقابلتاََ اور بھی خطرناک ثابت ہوئی ہے۔چناچہ ابھی تک اس ہتھیار کا شکار ہوکر کئی نوجوان آنکھوں کی روشنی کھو چکے ہیں جبکہ کئی ایسے ہیں کہ جو نہ جانے کتنے ہی چھرے جسم میں لیکر گھومنے پر مجبور ہیں۔ چھرے دار بندوق در اصل جانوروں کا شکار کھیلنے کا ایک ہتھیار ہے کہ جس میں چھوٹے چھوٹے (آہنی)ریزے ہوتے ہیں جو بندوق کا گھوڑا دبانے پر ایک فوار کی طرح چھوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔اس ہتھیار کا اصول یہ ہے کہ شکار زخمی ہوجائے اور اسے آسانی سے پکڑا جا سکے لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ نزدیک سے کیا جانے والا فائر زخمی کرنے کی بجائے مار دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پھر جب معاملہ انسانوں کا ہو تو یہ ہتھیار بھلے ہی موقعہ پر جان نہیں لیتا ہوکئی اعضاءکو زخمی کرکے آہستہ موت بھی مار سکتا ہے۔جیسا کہ سرینگر کے ہی ایک نوجوان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اُنکے جسم میں کئی چھرے باقی رہ گئے ہیں جو نہ صرف اُنہیں مختلف طرح کی تکلیف دے رہے ہیں بلکہ ہوائی اڈوں یا دیگر حساس مقامات پر ایکسرے یا سکیورٹی سے متعلق دیگر مشینوں سے گذرنے پر اُنکا تب مذاق بنتا ہے کہ جب اُنکے جسم میں موجود یہ آہنی ذرے مشینوں کے الارم بجانے کی وجہ بنتے ہیں۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں چھرے دار بندوق کا شکار ہوکر دونوں آنکھوں کی بینائی کھو کر برباد ہو چکے عامر بیگ کو دیکھ کر کلیجہ منھ کو آتا ہے۔عامر کی حالتِ زار پر ایک مفصل رپورٹ لکھ چکے صحافی پرویز مجید کہتے ہیں کہ کس طرح ایک خوبرو اور بارہویں جماعت کے زیرک طالبِ علم عامر بیگ کی دُنیا ایک دم سیاہ رات کی طرح ہوگئی ہے۔عالمی سہارا کے ساتھ بات کرتے ہوئے پرویز مجید نے کہا”عامر کو دیکھ کر تو خود پر قابو رکھنا محال ہوتا ہے،ایک خوبرو نوجوان جو تب بارہویں جماعت کا تیز لڑکا رہا ہے اب ایسے ایک چھوٹی کوٹھری میں پڑا ہے کہ جیسے ہمیشہ سے نا بینا رہا ہو“۔وہ کہتے ہیں”جیسا کہ عامر نے مجھ سے کہا وہ تب اپنی بیمار ماں کو اسپتال لی گیا تھا اور جونہی اسپتال سے باہر آیا سی آر پی ایف کے جوانوں نے اُس پر کسی اشتعال کے بغیر پیلٹ فائر کیا اور وہ آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگیا“۔ عامر کے والدعبدالکبیر بیس سال قبل ضلع کے ایک دوردراز علاقہ سے اپنے چار بچوں کو بہتر تعلیم دلانے کے خواب کے ساتھ ہجرت کرکے بارہمولہ آئے تھے جہاں ٹھیلہ لگا کر وہ ترکاریاں بیچ کر کرایہ کے ایک کمرے میں گذارہ کرتے آرہے ہیں۔بچے پڑھ رہے تھے اور بیگ کو بس اُس شب کی سحر قریب ہی لگ رہی تھی کہ جب وہ اپنے خواب کی تعبیر دیکھتے لیکن ….! دوست احباب سے مدد لے لیکر اور قرضے پہ قرضہ اُٹھاکر بیگ نے عامر کو علاج کے لئے کہاں کہاں نہ لیا لیکن عامر کی دُنیا روشن نہ ہوسکی۔وہ کہتے ہیں”عامر کی دونوں آنکھوں میں چھرے لگے تھے ،دونوں ہی آنکھیں ضائع ہوچکی ہیں ،باپ ہوں نا میں ہارنا نہیں چاہتا لیکن سچ پوچھئے تو بہت زیادہ اُمید بھی نہیں ہے“۔

کئی طلباءسمیت درجنوں کی آنکھوں کا نور چھیننے والے چھروں کے شکار افراد کی فہرست میں نوہٹہ سرینگر کے قریب50سال کے مشتاق احمد نجار بھی ہیں جو 2013کے اُس دن کو کوستے ہیں کہ جب وہ علاقہ میں پولس اور علیٰحدگی پسند مظاہرین کے بیچ جھڑپوں سے بے خبر رسوئی کا سامان خریدنے نکلے تھے۔وہ کہتے ہیں”مجھے معلوم ہوتا کہ حالات خراب ہیں تو شائد باہر نہ آتا لیکن میں جونہی بازار میں آیا یہاں شور تھا اور میں نے پولس کو مظاہرین کے تعاقب میں دیکھا اس سے قبل کہ میں کسی گلی میں جاکر امان پاتا پولس نے پیلٹ گن چلایا اور…. بس“۔وہ کہتے ہیں کہ اُنکی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہے اور دو سال گذرنے کے باوجود بھی اُنہیں اب بھی درد رہتا ہے جسکی وجہ سے پوری طرح کام بھی نہیں کرپاتے اور گھر کے واحد کفیل ہونے کی وجہ سے گھر کی حالت قابلِ رحم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وادی میں ایسے درجنوں افراد ہیں کہ جو چھرے دار بندوق کا شکار ہوکر ”الگ طرح“سے زخمی ہیں اور کئی کئی سال سے علاج کرواتے آرہے ہیں۔2013میں سرینگر کے دو بڑے اسپتالوں نے حقِ اطلاعات کے تحت اطلاعات فراہم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اکتوبر 2013تک انکے یہاں چھرے دار بندوق کے شکار165افراد کا علاج ہوا تھا جن میں سے درجن بھر کی آنکھیں چلی گئی ہیں۔انسانی حقوق کے لئے مقامی طور سرگرم تنظیموں اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ چھرے دار بندوق کا انسانوں پر استعمال عالمی ضوابط کے مخالف ہے۔چناچہ حامد نذیر کے واقعہ سے پیلٹ گن کے استعمال کے ایک بار پھر خبروں میں آنے کے ردِ عمل میں ایمنسٹی نے ایک مفصل بیان جاری کرتے ہوئے ایک بار پھر اس مہلک ہتھیار کے استعمال پر مکمل یا جزوی پابندی کا مطالبہ کیا۔ ایمنسٹی کے ہندوستان میں پروگرامز ڈائریکٹر شمیر بابونے اپنے بیان میں کہاہے”پیلٹ گن کا استعمال طاقت استعمال کرنے سے متعلق بین الاقوامی طریقہ کار سے میل نہیں کھاتاہے،پولیس کو مخصوص نشانہ پانے والے دیگر آلات کے ذریعے اپنے اہداف کم نقصان دہ طریقے سے حاصل کرنے چاہئے ، جن سے زیادہ جانی نقصان کا احتمال نہ ہو“۔بیان میں حامد نذیر کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اُن کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی ہے جبکہ وہ احتجاجی مظاہرے میں شامل بھی نہیں تھے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں امراضِ چشم کے ڈاکٹر سجاد کھانڈے نے ایمنسٹی کو بتایاہے کہ اُنہوں نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران چھرے دار بندوق سے شدید زخمی ہوئے افراد کا علاج کیا ہے اور پایا ہے کہ اس سے آنکھوں کی بینائی جاسکتی ہے اور آنکھیں خراب ہوسکتی ہیں۔ شمیر بابونے ریاست کے سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں استعمال ہونے والے پیلٹ گن کاٹریج میں 400سے500 پیلٹ ہوتے ہیں جو بال بیرنگ سے ملتے ہیں لہٰذا”راہگیروں اوردیگر لوگوں کو سنگین چوٹ آنے کے خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے پیلٹ گن کی قانون نافذ کرنے کے عمل میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے“۔شمیر بابو نے بتایاکہ یلٹ فائرنگ شاٹ گن کے ذریعے مہلک چھرے وسیع دائرے میں پھیل جاتے ہیں اور خود کشمیر پولس کے انسپکٹر جنرل جاوید گیلانی کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فائر کرنے پر پیلٹ گن کی کوئی مخصوص سمت نہیں ہوتی ہے۔ ریاستی ہائی کورٹ کو تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرح پیلٹ گن ”مہلک“نہیں لگتا ہے کہ اسکے خلاف دائر کی گئی ایک عرضی کو یہ کہکر خارج کردیا گیا ہے کہ یہ (پیلٹ گن)مہلک نہیں ہے۔حالانکہ عرضی گذار نے اس اپیل کومزید واقعات کے حوالہ جات کے ساتھ واپس عدالت کے گوش گذار کیا ہے جہاں یہ عرضی ابھی تک التوا میں ہے۔

حالانکہ پولس نے اس ہتھیار کی تباہی کو دیکھتے ہوئے اسے شاذ ہی استعمال کرنے کی یقین دہانیاں کرائی تھیں لیکن حامد نذیر کی تباہ آنکھیں بزبانِ حال کہتی ہیں کہ پولس یا فورسز کی جانب سے چھروں کو اُڑانا بھی جاری ہے اور انکا نشانہ بننے والے بد نصیبوں کی اُمیدوں اور تماناوں کا اُڑ جانا بھی۔جیسا کہ حامد نذیر کے ایک پڑوسی،جو حامد کو دیکھنے کے لئے جہلم ویلی اسپتال آئے ہوئے تھے کہ اِس نمائندے کو اُن سے ملاقات کا موقعہ ملا،کہتے ہیں”ہمارے علاقے میں اس سے پہلے بھی پیلٹ گن سے کئی لوگ بُری طرح زخمی ہو گئے ہیں،اس سے تو اچھا ہے کہ لوگوں پر براہِ راست گولیاں چلا کر اُنہیں ایک ہی بار ختم کر دیا جائے،باربار مرنے کے لئے چھوڑنے کا فائدہ کیا“۔وہ کہتے ہیں”ہمارے یہاں کے ایک لڑکے کے گھروالوں کو اُسکے علاج پر قریب تین لاکھ روپے کا خرچہ آیا اور اب یہ بچہ ہے….کیا کیجئے گا“۔

ریاست کی موجودہ حکمران جماعت کی صدر محبوبہ مفتی کو سالِ رفتہ کے اوائل میں پیلٹ گن کے استعمال کے خلاف اسمبلی کا بائیکاٹ کرکے نکلنے پر اپنا فوٹو سیشن کراتے دیکھا گیا تھا اور اب اُنہی کی پولس وہی ہتھیار چلا کر وہی سب کرتی پھر رہی ہے کہ جس پر میڈم کو تب اعتراض تھا….آج وہ مجبور ہیں اور عمر عبداللہ بھی کہ جو تب سرکار تھے اور آج پیلٹ گن چلوانے کا داغ لیکر گھومنے والے ایک” غیر سرکاری“شخص،علیٰحدگی پسند بولتے تو اُن کا ہر بول ”قومی مفاد“کے خلاف ہے اور ”پاکستانی پروپیگنڈا“ …. کشمیریوں کو اندھا کردینے والے ہاتھوں کو کون روکے گا….!جون-۱۷-۲۰۱۵-وقت-۰۹:۴۸

(یہ مضمون پہلے جون ٢٠١٥ کو شائع ہوا تھا)

Exit mobile version