موبائل فون ٹاوروں پر حملے کیوں؟

صریر خالد
اس وقت جبکہ وادی کشمیر کے حالا ت میں قدرے ٹھہراو سا ہے اور لوگ ایک اچھے سیاحتی سیزن کی امید کے حامل ہیں نامعلوم افراد نے شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں موبائل فون سروس پر پابندی عائد کرتے ہوئے یہاں ایک بحرانی صورتحال پیدا کر دی ہے۔یہ محض کھوکھلی دھمکیاں نہیں ہیں بلکہ خفیہ ہاتھ ابھی تک کم از کم دو افراد کا قتل کر چکے ہیں اور تین کو شدید زخمی جو اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔دھمکیاں جاری ہیں اور سو الزمات کی جنگ بھی۔نتیجتاََ شمالی کشمیر کے ایک وسیع علاقے میں نہ صرف یہ کہ خوف و حراس کا ماحول ہے بلکہ مواصلاتی سہولیات تقریباََ ٹھپ ہوکے رہ گئی ہیں۔

شمالی کشمیر میں مواصلاتی کمپنیوں کو دھمکیاں دئے جانے کی خبریں دو ایک ہفتے قبل سُننے میں آئی تھیں تاہم ان پر خود ان کمپنیوں نے کوئی دھیان دیا اور نہ ہی عوام نے اس میں کوئی سنجیدگی پائی اور معاملہ آیا گیا ہوگیا۔تاہم سوموار کو دوپہر کے قریب نا معلوم بندوق بردار سوپور قصبہ میں بس اڈہ کے قریب ایک مواصلاتی کمپنی کے مقامی دفتر میں آدھمکے اور اندھا دھند گولیاں چلانے لگے۔اس موقعہ پر یہاں افراتفری کا ماحول بنا اور لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے اور اسکے ساتھ ہی حملہ آور بھی رفو چکر ہو گئے۔بعدازان جائے واردات پر مذکورہ دفتر کے تین ملازمین کو خون میں لت پت پایا گیا جن میں سے بعدازاںمحمد رفیق نام کے ایک نوجوان کی موت واقع ہوئی۔یہ ایک اچانک اور غیر متوقع حملہ تھا کہ جس میں کسی پرائیویٹ دفتر پر یوں ہلہ بولدیا گیا ہو اگرچہ ریاستمیں گذشتہ قریب تین دہائیوں کے دوران کتنے ہی سرکاری و پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین سرکاری فورسز یا نا معلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں مارے جاتے رہے ہیں۔پولس نے اس واقعہ کو لیکر ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ تحقیقات شروع کی گئی ہے تاہم اندازہ ہے کہ یہ حملہ اُن دھمکیوں سے تعلق رکھتا ہے کہ جو مواصلاتی کمپنیوں کو ملتی رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یوں ایک دفتر پر دن دہاڑے ہوئے حملے سے خوف و حراس پھیل گیا اور مواصلاتی کمپنیوں سے وابستہ افراد غیر یقینیت کی صورتحال کا شکار ہو گئے۔معاملہ تب اور بھی پیچیدہ ہو گیا کہ جب اگلے ہی دن نامعلوم بندوق برداروں نے سوپور کے ہی ڈورو علاقہ میں ایک مواصلاتی کمپنی کو ٹاور کے لئے کرایہ پر زمین دینے والے شخص غلام حسن ڈار کو اُنکے گھر میں گولی مار کر جاں بحق کر دیا۔ذرائع کے مطابق غلام حسن اپنے گھر میں تھے کہ جب نا معلوم افراد نے اُنہیں پکارا اور پھر بات چیت شروع کرنے کے ساتھ ہی اُن پر گولیوں کی بوچھاڑ کی اور اُنہیں موقعہ پر ہی ٹھینڈا کر دیا۔ڈار کے بیٹے تنویر احمد نے بتایا”ہم گھر میں ہی تھے کہ تین نامعلوم افراد آکر والد کے بارے میں پوچھنے لگے،وہ اُنسے ملے تو اُنہوں نے دھمکی آمیز انداز میں پوچھا کہ ہمارے یہاں کا موبائل ٹاور ابھی کام کیوں کر رہا ہے“۔تنویر کا مزید کہنا ہے”میرے والد ابھی جواب دینے والے ہی تھے کہ انہوں نے بندوق تان لی اور پے درپے کئی گولیاں چلا کر اُنہیں موقعہ پر مار ڈالا“۔تنویر نے انکشاف کیا ہے کہ اس سے چند روز قبل اُنہیں دھمکی ملی تھی اور کہا گیا تھا کہ موبائل ٹاور کو بند کر دیا جانا چاہیئے۔وہ کہتے ہیں”نا معلوم افراد یہ دھمکی دے گئے تھے کہ ہم ٹاور بند کریں جو ہم نے کیا بھی لیکن بعدازاں کمپنی کی جانب سے دباو ہوا اور ہم ٹاور کو دوبارہ چالو کرنے پر مجبور ہوگئے یہاں تک کہ میرے والد کو قتل کر دیا گیا“۔سوپور واقعہ کے چند ہی گھنٹوں کے بعد پیش آمدہ اس دوسرے واقعہ نے پہلے سے قائم خوف و حراس کے ماحول میں اور بھی اضافہ کیا اور اس نے اپنا اثر بھی دکھانا شروع کیا۔

منگل کو بارہمولہ ضلع میں با العموم اور سوپور و ملحقہ جات میں با الخصوص مواصلاتی کاروبار سے وابستہ سبھی شوروم اور دیگر ادارے بند رہے اور ساتھ ہی دکانداروں نے ”پری پیڈ فون“کو ریچارج کرنے کا کام بھی بند کردیا۔سوپور کا دورہ کرنے پر یہاں تقریباََ سبھی متعلقہ دکانیں اور دفاتر بند تھے اور انکے باہر ان دکانوں یا اداروں کے بند ہونے کے پیگامات والے بینر آویزاں کئے گئے تھے۔سوپور میں ایک نجی مواصلاتی کمپنی کے ملازم نے کہا”میرے خیال میں ایک انسان کے لئے اپسکی جان سے زیادہ کچھ بھی عزیز نہیں ہو سکتا ہے لہٰذا جب آپ کی جان پہ بن آئے تو آپ کیا کریں گے“۔اُنہوں نے مزید کہا”ہم نے شوروم بند کر دیا ہے اور ہم سبھی ملازمین گھر بیٹھے ہوئے ہیں“۔ووڈا فون کے ایک ملازم کا کہنا تھا”خالی دھمکیوں کا معاملہ ہوتا تو شائد نظرانداز کرتے ہوئے کام جاری رکھا جا سکتا تھا لیکن جب آپ کے سامنے آپ کے جیسے لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہو تو ہمت کہاں سے آئے گی،ہم نے تو کام بند کر دیا ہے“۔حالانکہ سرکاری کمپنی بھارت سنچار نگم لمیٹڈ(بی ایس این ایل)کے ایک ملازم نے کہا”ہم نے ابھی کوئی تبدیلی نہیں کی ہے اور ہم لگاتار کام جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اتنا صاف ہے کہ کاروبار پر بُرا اثر ہوا ہے“۔اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ بی ایس این ایل کے پاس سرکار کی سکیورٹی کا متبادل ہے، اور ویسے بھی بی ایس این ایل کی بیشتر تنصیبات پر سی آرپی ایف وغیرہ کا پہرہ ہے،تاہم خوف کاماحول ضرور ہے ۔اُنہوں نے کہا”ہم محسوس کر سکتے ہیں کہ صارفین سے زیادہ وہ دکاندار ڈرے ہوئے ہیں کہ جو صارفین کے فون ریچارج کر کے ہمیں کاروبار دیتے ہیں لہٰذا ہمیں بھی بڑی پریشانیاں لاحق ہیں۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں موبائل فون بہت عام ہے اور یہاں بی ایس این ایل کے علاوہ تقریباََ سبھی معروف کمپنیوں کا کاروبار جاری ہے جن میں ائرٹیل قریب آٹھ لاکھ صارفین کے ساتھ سب سے آگے ہے۔

صارفین کا کہنا تھا کہ خوف و حراس کے ماحول میں کوئی بھی دکاندار ریچارج کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہے جسکی وجہ سے بیشتر صارفین کے فون ناکارہ ہوکے رہ گئے ہیں۔جیسے کہ امرگڈھ سوپور کے بشیر احمد نے کہا”میرے فون میں پیسے ختم ہو گئے ہیں اور صبح سے میں علاقے میں کئی دکانداروں کے یہاں سے ہوکے آیا ہوں لیکن سبھی نے کہا کہ اُنکے یہاں ریچارج نہیں ہے،کئی جگہوں پر مجھے لگا کہ دکانداروں کے پاس ریچارج کرنے کے لئے پیسے تو تھے لیکن اُنکی ہمت نہیں ہو رہی تھی“۔نصیر احمد نامی ایک کالج طالب علم نے کہا”حالانکہ یہ ایک طرح سے عجیب لگتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ پورے علاقے میں کوئی ریچارج کرنے پر آمادہ نہیں ہے اور اچانک ہی ایسے لگنے لگا ہے کہ جیسے دکاندار سے ریچارج نہیں مانگتے ہوں بلکہ دن دہاڑے کسی نشہ آور چیز کا مطالبہ کر رہے ہوں“۔ صورتحال کو ابھی سمجھنا ممکن بھی نہیں ہو پا رہا تھا کہ بدھ کی شام کو شمالی کشمیر کے ہی پٹن علاقہ میں ایک اورر موبائل ٹاور رکھنے والے کے گھر حملہ ہوا۔ذرائع کے مطابق نا معلوم بندوق برداروں کا ایک گروہ آرم محلہ پٹن میں علی محمد نذرو کے گھر داخل ہوکر اندھا دھند فائرنگ کرنے لگا جس سے نذرو کے بیٹے امتیاز احمد ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔نذرو کے یہاں بھی ایک مواصلاتی کمپنی کا ٹاور ہے جسکے لئے اُنہوں نے زمین کرایہ پر دی ہوئی ہے۔اس واقعہ نے پہلے سے قائم خوف و حراس میں اور بھی زیادہ اضافہ کر دیا ہے اور شمالی کشمیر میں تقریباََ اُن سبھی لوگوں نے کہ جنکے یہاں موبائل فون کے ٹاور قائم ہیں متعلقہ کمپنیوں سے مذکورہ ٹاورہٹا لینے کی درخواست کی ہے۔

جموں و کشمیر میںجاری جنگجوئیت کی وجہ سے 2003تک مرکزی سرکار نے یہاں موبائل سروسز کے لئے اجازت نہیں دی تھی۔سرکاری ایجنسیوں کو موبائل فون کے جنگجوو¿ں کے لئے کام آسان کرنے کا کدشہ لاحق تھا تاہم 12برس قبل سرکار نے اس سروس کی اجازت دی تو نتائج توقعات کے برعکس آئے۔چناچہ ریاست مین موبائل فون بہت عام ہوا اور پھر پولس اور دیگر سرکاری ایجنسیاں کئی بار یہ بات ”آن ریکارڈ“کہہ چکی ہیں کہ جرائم یا جنگجوئیت کے کئی اہم معاملوں کا سُراغ لگانے میں موبائل فون نے مدد دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران سرکاری ایجنسیوں نے جتنے بھی اہم جنگجو کمانڈر پکڑے یا مار گرائے اُنکے پہنچنے میں موبائل فون نے بڑی مدد دی ہے تاہم اس سب کے باوجود بھی جنگجووں نے کبھی بھی اس سروس میں خلل ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔تاہم سکیورٹی کو وجہ بتاتے ہوئے مرکزی سرکار نے کم از کم دو بار موبائل فون کی کدمات پر پابندی عائد کردی جو تاہم بعدازاںواپس لی جاتی رہی۔

جموں و کشمیر جیسے کسی بھی شورش زدہ حساس علاقہ میں منظر عام پر دکھائی دینے والی چیزوں کے پیچھے اصل میں کون ہوتا ہے اس بارے میں حتمی طور کچھ کہنا مشکل ہوتا ہے۔ریاست میں جنگجوئیت کا آغاز ہونے سے لیکر ابھی تک قتلِ عام،فرضی ،جھڑپوں،تسلسل کے ساتھ ہونے والی سنگبازی اور نہ جانے کیا کیا واقعات ایسے ہیں کہ جن میں بظاہرایک طاقت ملوث دکھائی دیتی رہی ہے تاہم بعدازاں کسیہوئے انکشافات نے سوچ کی سمت بدلنے پر لوگوں کو مجبور کیا۔اس حوالے سے بل کلنٹن کے بحیثیتِ امریکی صدر ہندوستان کا دورہ کرنے کے وقت جنوبی کشمیر میں سکھوں کے قتلِ عام اور پھر اس واقعہ میں ملوث بتاکر قتل کئے گئے ”پاکستانی دہشت گردوں“کے نام پر مارے گرائے جانے والوں کی مثال پیش کی جاسکتی ہے کہ جو بعدازاں عام شہری ثابت ہوئے۔یا یہ کہ سابق فوجی چیف وی کے سنگھ پر عمر عبداللہ کی سرکار کے خلاف سازش رچانے اور اس پر مسٹر سنگھ کی جانب سے زرِکثیر خرچ کئے جانے کا انکشاف ہوا تھا جبکہ عمر کا کبھی فوج کی جانب شک بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ جہاں تک شمالی کشمیر میں مواصلاتی سروسز پر زبردستی پابندی لگائے جانے کے لئے ہورہی خونی سازشوں کا تعلق ہے پولس سے لیکر عام لوگوں تک کسی کے پلے کچھ بھی نہیں پڑ رہا ہے۔چناچہ سوپور میں پہلا حملہ ہونے کے چند ہی منٹوں بعد بزرگ لیڈر سید علی شاہ گیلانی نے اسے دہشت گردی کا ایک واقعہ بتاتے ہوئے اسکی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔دلچسپ ہے کہ اُنکے مذمتی بیان کے بعد بھی حملے جاری ہیں اور دھمکی آمیز پوسٹروں کی تقسیم بھی۔پولس میں ذرائع کا کہنا ہے کہ سوپور واقعہ سے چند دن قبل ایک غیر مانوس جنگجو تنظیم ”لشکرِ اسلام“نے پوسٹر چسپاں کرکے مواصلاتی صنعت سے وابستہ حلقوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُنہیں اپنا کاروبار سمیٹ لینا چاہیئے۔پوسٹر ،جسکی نقل سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر بھی دیکھی گئی،میں درج عبارت کے مطابق جنگجووں کو لگتا ہے کہ موبائل فون کی وجہ سے اُنکے کئی کمانڈروں اور ساتھیوں کو پکرا یا مارا جا چکا ہے لہٰذا وہ اس سروس پر پابندی لگانے کا فیصلہ لے چکے ہیں جسے وہ کسی کا قتل کرنے تک کا انتہائی اقدام کر کے بھی نافذ کر سکتے ہیں۔جہاں تک اس گروپ کا تعلق ہے اسکا نام اس سے قبل کبھی کہیں نہیں سُنا گیا ہے اور نہ ہی پولس یا فوج کے پاس اسکے بارے میں کوئی خبر ہے۔ پھر دلچسپ یہ بھی ہے کہ ان پوسٹروں کے سامنے آتے ہی ریاستمیں سرگرم سب سے بڑی جنگجو تنظیم حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے، جو جنگجو تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ بھی ہیں،ایک بیان جاری کرتے ہوئے لشکرِ اسلام کو خفیہ ایجنسیوں کی پیداوار بتاتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ اسکے ذرئعہ ”مجاہدین اور عوام“کے مابین فاصلہ پیدا کرنے اور ”مجاہدین“کے تئیں عوام میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سوپور میں ایک کمپنی کے ملازم کے قتل کے بعد بھی صلاح الدین یہ بیان دہرا چکے ہیں جبکہ سید علی گیلانی بھی کئی بار اپنے مذمتی بیان کو دہرا نے کے علاوہ مواصلاتی کمپنیوں کے خلاف ہو رہے حملوں کو سلیقے سے وزیرِ دفاع منوہر پاریکر اور وزیرِ داخلہ راجناتھ سنگھ کے ان بیانات کے ساتھ جوڑنے لگے ہیں کہ جن میں ان لیڈروں نے ”دہشت گردی“کا مقابلہ دہشت گردی سے ہی کرنے اور کشمیرمیں ”ٹارگٹ کلنگ“کرنے کے فیصلوں کا اظہار کر چکے ہیں۔ایک بیان میں سید گیلانی نے کہا ہے” قاتلوں کے بارے میں وثوق کے ساتھ ابھی کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے، البتہ بھارتی وزیر دفاع مسٹر منوہر پاریکر کا یہ بیان کہ کشمیر میں ٹارگیٹ کلنگ کی جائے گی‘کئی سوالات اور کئی طرح کے شکوک وشبہات کو جنم دیتا ہے اور اس کے تناظر میں اس امکان کو بھی کلیتاً مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یہ کشمیر میں خوف ودہشت کا ماحول پیدا کرنے اور کشمیریوں کی پُرامن اور جائز جدوجہد پر دہشت گردی کا لیبل چڑھانے کی ایک دانستہ کوشش ہو“۔ اُنہوں نے مزید کہا ہے” ٹیلی کیمونیکیشن پوری دنیا میں لائف لائن کی شکل اختیار کرگئی ہے اور آج کی تیز تر زندگی میں اس کی عدم موجودگی مسائل اور پیچیدگیوں کی باعث بن جاتی ہے۔ اس ادارے میں کام کرنا کوئی جُرم نہیں ہے کہ یہ کسی کو قتل کرنے کی وجہ بن سکتا ہو۔ سوپور میں چُن چُن کر موبائل کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد پر حملے ہورہے ہیں اور یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے اور ان کے پیچھے کون لوگ اور کون سے محرکات کارفرما ہیں؟“۔تاہم اُنہوں نے جنگجو تنظیموں پر بھی زور دیا کہ” کہیں اُنکی صفوں کالی بھیڑیں ان میں شامل ہوکر جدوجہد کو نقصان تو نہیں پہنچانا چاہتی ہیں“۔

ترقی کی رفتار اور اس میں مواصلات کے کردار کو دیکھتے ہوئے حالانکہ اس بات کا تصور تک کرنا محال ہے کہ کسی علاقے میں موبائل فون سروس کی سہولیات دستیاب نہ ہوں اور اگر ہوں تو انہیں بند کرادئے جانے کے لئے انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہو….کشمیر میں مگر سب کچھ ویسے ہی کہاں چلتا ہے کہ جو باقی دُنیا کی ریت ہے۔چناچہ قریب تیس سال سے چلے آرہے تشددانہ دور میں کشمیر اور کشمیریوں نے سب کچھ جیسے روایات و رواج کے خلاف ہی ہوتے دیکھا ہے اور انہونی کا یہ عالم قائم ہے۔چناچہ کبھی سرکاری ایجنسیاں امن و قانون کے نام پر بلا اعلان کرفیو نافذ کر کے لوگوں کو زبردستی اُنکے گھروں کی چار دیواری میںقید کئے رکھتی ہے اور ایسا اتنا عام ہو گیا ہے کہ اسکی اب کوئی خبر بھی نہیں بنتی ہے تو کبھی نامعلوم ہاتھ مواصلات جیسی آج کل کی دنیا کی بنیادی ضرورت کو چھین کو لوگوں کو پتھر کے زمانہ میں پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔کشمیر یونیورسٹی میں سماجیات کے ایک اُستاد کہتے ہیں”شورش زدہ علاقوں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہاں ہر چیز متاثر ہوکے رہ جاتی ہے “۔ وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ قریب تیس برسوں میں کشمیر میں مشاہدہ کیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر نام کی پریشانی نت نئی اشکال کے ساتھ سامنے آکر لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیتی ہے اور یہ سب شائد تب تک جاری رہے گا کہ جب تک اس مسئلے کو ایک ہی بار اور حتمی طور حل نہیں کیا جاتا۔(بشکریہ عالمی سہارا)

(یہ مضمون پہلے جون ٢٠١٥ کو شائع ہوا تھا)

Exit mobile version