کیا کشمیری بھاجپا کو قبول کر چکے؟

صریر خالد
جموں و کشمیر ،با الخصوص وادی،کے لئے ویسے  بھارتیہ جنتا پارٹی(بھاجپا) کوایک ایسے پیڑ کی مانند مانا جاتا رہا ہے کہ جسکے لئے یہاں کی سرزمین اسی طرح غیر موافق ہے کہ جس طرح دلی کی سرزمین کشمیر کے چنار کے لئے ناکارہ۔تاہم مفتی سعید کی مدد سے ریاست میں سرکار بنانے کے بعد اب بھاجپا کا دعویٰ ہے کہ ہندو اکثریت والے جموں صوبہ کے علاوہ اس نے وادی کشمیر میں بھی اپنی بنیاد مضبوط کرنا شروع کی ہے۔پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس نے وادی میں لاکھوں لوگوں سے رکنیت کے فارم بھروائے ہیں اور اب یہ پارٹی کشمیر یوں کی نئی پسند ہے۔لیکن کیا واقعی کشمیر کی سرزمین کی تاثیر اس قدر بدل گئی ہے کہ یہاں کنول کھلنے لگے؟

جموں و کشمیر کی تاریخ سے معمولی بھی شناسائی رکھنے اور وادی کشمیر کے لوگوں کی نبض جاننے والے شائد ہی کبھی یقین کر پائیں لیکن بھاجپا کا دعویٰ ہے کہ اس نے اکیلے سرینگر شہر کے پائین علاقہ میں 50ہزار ارکان شامل کر لئے ہیں۔پارٹی کو دعویٰ ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام تیزی کے ساتھ بھاجپا کے جھنڈے تلے جمع ہو رہے ہیں اور یہ سب مودی کی شخصیت اور اُنکے سب کا ساتھ سب کا وکاس والے نعرے کی بدولت ہو رہا ہے۔بھاجپا کی جانب سے چند ایک روز سے یہ بے پر کی خبر اُڑائی جا رہی ہے کہ چند دنوں تک وادی میں اسکے بنیادی ارکان کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر جائے گی اور اسکے پاس ان سبھی ارکان کے فارم موجود ہیں جنکے ذرئعہ اُنہوں نے بقول بھاجپا کے رکنیت کے لئے استداعا کی ہے۔پارٹی کے ایک ”سینئر لیڈر“الطاف ٹھاکر کہتے ہیں”ہم نے وادی میں 28فروری سے30اپریل تک رکنیت کے اندراج کی ایک مہم چلائی ہے جس میں ہمیں بڑا ہی مثبت اور غیر متوقع ردِ عمل دیکھنے کو ملا ہے۔ابھی تک ہم نے زائد از تین لاکھ ارکان شامل کئے ہیں اور ان سبھی کے پُر فارم ہمارے دفتر میں جمع ہیں،میرا خیال ہے کہ یہ تعداد ابھی بڑھ جائے گی کیونکہ کئی علاقوں میں جمع فارم ابھی ہمارے پاس پہنچ رہے ہیں“۔وہ کہتے ہیں کہ پارٹی کے لئے اس سب میں سب سے حوصلہ افزاءبات یہ ہے کہ اکیلے سرینگر کے پائین شہر میں 50ہزار نفوس نے اپنا اندراج کرواکے بھاجپا کی بنیادی رکنیت حاصل کی ہے اور ان میں سے قریب 60فیصد نوجوان ہیں۔وہی پائین شہر کہ جہاں آئے روز احتجاجی مطاہرے ہوتے ہیں اور سنگ بازی کے وہ معرکے کہ جو پولس سے لیکر سکیورٹی کی دیگر سبھی ایجنسیوں کے لئے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ہاں وہی پائین شہر کہ جہاں نیشنل کانفرنس یا پی ڈی پی کے مقامی لیڈروں کو دورہ کرنا ہو تو کرفیو جیسے حالات پیدا کئے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا ہے….بھاجپا کو 50ہزار ممبران دے تو یہ بہر حال بڑی خبر ہے۔

بھاجپا کے مذکورہ ”سینئر لیڈر“کی مانیں تو سرینگر میں علیٰحدگی پسند سرگرمیوں کے گڈھ پائین شہر میں اب اسکے پاس قریب 30ہزار ایسے نوجوان ہیں کہ جن کی عمر 20سے28سال کے درمیان ہے اور یہ بہر حال ایک بڑی طاقت ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ بنیادی ارکان کے علاوہ اسکے پاس وادی میں ایک ہزار سرگرم کارکنوں کی ایک فوج بھی ہے اور ان میں سے ہر ایک رکن دیگر سو ارکان کو سنبھالے ہوئے ہے اور پارٹی کے لئے زمینی سطح پر بہت کام ہو رہا ہے۔مذکورہ کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام اب باقی سبھی پارٹیوں کی روایتی سیاست سے اُکتا چکے ہیں اور حالیہ انتخابات میںوادی بھر سے کل48ہزار ووٹ حاصل کرنے والی بھاجپا کی جانب دیکھنے لگے ہیں۔وہ کہتے ہیں”مودی صاحب کے سب کا ساتھ سب کا وکاس والے نعرے نے بڑا اثر قائم کیا ہے اور مودی جی نے چونکہ دیوالی کشمیر میں منائی تھی لہٰذا اس سے بھی پارٹی کے لئے ایک اچھا ماحول بنا ہے،یہاں تک کہ رکنیت کے حوالے سے ہم اپنے مقرر کردہ اہداف سے تجاوز ہوتے دیکھ رہے ہیں“۔وہ کہتے ہیں کہ سرینگر میں بھاجپا کا دفتر بڑا مصروف ہے اور یہاں لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔

جموں و کشمیر اور بھاجپا دو الگ الگ چیزیں ہیں اور چشمِ بینا سے دیکھنے پر ایسا ماننے میں کسی کو کوئی دیر نہیں لگنی چاہیئے کہ یہ دو چیزیں شائد ہی کبھی مل کر ایک دوسرے میں ضم ہو سکتی ہیں۔وادی تو دور خود ہندو آبادی والے جموں صوبہ میں بھی پارٹی کو کبھی اپنے بال و پر پھیلانے کا موقع نہیں ملاتھا یہاں تک کہ 2008میں ہوئے امرناتھ زمین تنازعہ کے دوران جموں کی جانب سے کشمیریوں کا اقتصادی بائیکاٹ ہوا اور اس ماحول کو ہوا دیکر بی جے پی نے پہلی بار اسمبلی میں11سیٹوں پر قبضہ جمالیا۔ایسا پہلی بار ہورہا تھا کہ پارٹی کو مسلم اکثریت والی ریاست کے ہندو آبادی علاقے میں اس قدر پذیرائی مل رہی تھی۔نفرت کی سیاست کو ہوا دیکر پارٹی نے یہ ”چمتکار“ضرور کیا تھا لیکن اس رجحان کے مظبوط ہونے یا کم از کم بنے رہنے کی کوئی ضمانت نہیں تھی کہ ریاستی اسمبلی کے ایوانِ بالا کے لئے ہوئے انتخابات میں پارٹی کے 11میں سے 7ممبران نے بغاوت کرکے ،مبینہ طور پیسے کے عوض،حکمران نیشنل کانفرنس کے حق میں ووٹ کیا اور یوں پارٹی کی پوزیشن خراب کر دی۔پارٹی کے سابق مرکزی صدر راجناتھ سنگھ نے ان سبھی ”باغیوں“کو پارٹی سے معطل بھی کر دیا تھا جسکی وجہ سے ظاہر ہے پارٹی کے لئے وہ پوزیشن برقرار رکھنا محال ہو رہا تھا کہ جو امرناتھ شرائن بورڈ تنازعہ کے بطن سے اسکے لئے پیدا ہو چکی تھی۔سیاسی دنیا میں مگر کب کیا ہو جائے کوئی وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا ہے بلکہ سیاسی پنڈتوں کی مانیں تو سیاست نا قابلِ فہم واقعات و امکانات کا ہی نام ہے۔چناچہ سیاسی دنیا کے اسی ناقابلِ پیشگوئی مزاج کے تحت ہی جب لوک سبھا کے انتخابات میں مودی نام کی لہر اُٹھی تو پہلی بار ایسا لگا کہ اس ہوا نے کسی نہ کسی طرح جموں و کشمیر میں بھی اثرات چھوڑ دئے ہیں۔اچانک ہوئی اس تبدیلی کا ہی نتیجہ ہے کہ بی جے پی کے حوصلے یوں بلند ہیں کہ جس ریاست (جموں و کشمیر)میں اسے کبھی کھاتہ کھولنے کی فکر ہوا کرتی تھی وہاں اس نے اپنے بل پر” سرکار بنانے “تک کے خواب دیکھنا شروع کئے تھے اگرچہ نیند توٹنے پر خود بھاجپا کو ماننا پڑا کہ وہ مونگیری لال کے اُس دنیا میں رہنے لگی تھی کہ جہاں بہت حسین سپنے دیکھے تو جا سکتے ہیں لیکن اُنکے پورا ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی ہے۔

تمام تر دعویداریوں ،انتخابی مہم میں پیسے کی ریل پیل،ہوشربا اخراجات و تشہیری مہم اور اس سب کے باوجود بھی بھاجپا کے لئے وادی میں ایک بھی سیٹ حاصل کرنا ممکن نہیں ہو پایا اگرچہ جموں میں اس نے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کا تقریباََ صفایا کر دیا۔مفتی سعید کے تراشیدہ”جمہوریت کے معجزہ“کا کیا کیجئے گا کہ وادی میں منہ کی کھانے کے باوجود بھاجپا ابھی مسٹر سعید کو آگے رکھتے ہوئے ریاست کی سرکار چلا کر اہلیانِ وادی کا منہ چِڑھا رہی ہے۔ظاہر ہے کہ اب پارٹی سرکار میں ہیں اور اسکے حوصلے انتخابات میں ملی بد ترین شکست کے باوجود بھی بلند ہیں۔

تو کیا سرکار میں آنے کے بعد کشمیریوں نے واقعی بھاجپا کے لئے دل کھول دئے ہیں اور وہ واقعہ اسے گلے لگانے پر آمادہ ہیں؟یہ ایک اہم سوال ہے۔لوک سبھا کے انتخاب میں پہلی بار شکست کھانے کے بعد تقریباََ سیاسی دنیا سے سنیاس لے چکے نیشنل کانفرنس کے صدر داکٹر فاروق عبداللہ کو نہیں لگتا ہے کہ سرکار بنانے کے باوجود بھی بھاجپا کے لئے وادی میں کچھ بدلا بھی ہے۔مدوجذر والے سیاسی سمندر میں ڈوبنے کو تیار نیشنل کانفرنس کی نیّا کو پار لگانے کی کوششوں میں جُٹے داکٹر فاروق عبداللہ اپنے مخصوص انداز میں کہتے ہیں”بی جے پی والے آسمان سے کود کر بھی آئیں کشمیریوں کو قبول نہیں ہو سکتے ہیں….نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو گا کہ کشمیری عوام بھاجپا کو اپنالیں“۔وہ کہتے ہیں کہ رکنیت کے حوالے سے بھاجپا کی تعداد مشکوک ہے اور اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ بھاجپا سے پیسے ہڑپنے کے لئے کچھ لوگ اسکی طرف لپک سکتے ہیں اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ہاں انہیں اس بات کا اعتراف ہے کہ بھاجپا نے بہر حال وادی میں داخلہ لیا ہے اور اسکے لئے مفتی سعید راستہ ہموار کر چکے ہیں۔وہ کہتے ہیں”مفتی نے بھاجپا کے لئے کشمیر میں راستہ بنایا ہے“۔

نیشنل کانفرنس کے ستاروں کو ڈوبتے دیکھتے ہی پارٹی چھوڑ کر پی ڈی پی میں ،یہ کہہ کر کہ مفتی سعید اکیلے ایسے سیاستدان ہیں کہ جو جموں و کشمیر میں بھاجپا کا راستہ روک سکتے ہیں،شامل ہوئے اور اب پارٹی کے ترجمان اعلیٰ ڈاکٹر محبوب بیگ کہتے ہیں”ہم نے پی ڈی پی اور بی جے پی کے حق میں لوگوں کے منڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے سرکار بنائی ہے،ہم ثابت کرکے دینگے کہ یہ سرکار ریاستی عوام کے حق میں بہتر ہے“۔تاہم کانگریس کے ایک سرگرم لیڈر عبد الغنی وکیل کہتے ہیں”کانگریس بطورِ ایک سکیولر پارٹی کے بھی حالیہ انتخابات میں فقط چند ایک نشستیں حاصل کر پائی ہے،بھاجپا کی تو بات ہی نہیں ہے۔میرے خیال میں کشمیر میں ایک بھی نشست حاصل کرنے کا بھاجپا کا خواب اس دنیا میں تو پورا نہیں ہو سکتا ہے“۔وہ کہتے ہیں ”اگرچہ جموں میں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دیکر اور اس طرح کی سیاست سے بھاجپا نے میدان مار لیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جموں کے لوگ جلد ہی تائب ہوکر اس پارٹی کی مطلق العنانیت اور فرقہ واریت پر مبنی سیاست کو رد کر دینگے“۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(ایم)کے کشمیر میں اکیلے لیڈر یوسف تاریگامی کہتے ہیں”ہمارا موقف ہے کہ بھاجپا ایک عوام دشمن پارٹی ہے اور کشمیر جیسے علاقے میں اسے کوئی قبولیت حاصل نہیں ہو سکتی ہے“ .

علیٰحدگی پسند حریت کانفرنس کا کہنا ہے کہ بھاجپا کی جانب سے لاکھوں لوگوں کے پارٹی میں شامل ہونے کی باتوں میں کسی قسم کا دم تو نہیں ہے البتہ اسے بھاجپا کے وادی میں داخلہ لینے سے بھی پریشانی ہے۔اُنکا نام نہ لئے جانے کی شرط پر حریت میں ذرائع نے بتایا کہ بھاجپا کی وادی میں سرگرمیوں میں کچھ تیزی تو آئی ہے جو بہر حال ”فکر مندی“کی بات ہے۔ البتہ اُنکا کہنا ہے”اسکے لئے پارٹی کی سطح پر پیسہ خرچ کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی وزارتِ داخلہ بھی ایک بڑے گیم پلان کے تحت بھاجپا بلکہ آر ایس ایس جیسی فرقہ پرست تنظیموں کے وادی میں نشان چھوڑنا چاہتی ہے،یہ ایک مشکل صورتحال ہے“۔وہ کہتے ہیں”لاکھوں لوگوں کا شامل ہونا تو بہر حال محض ایک جھوٹ ہے لیکن کشمیر چونکہ ایک لمبے عرصہ سے تباہی دیکھتا آرہا ہے اور یہاں گربت پھیلی ہوئی ہے ہوسکتا ہے کہ پیسے کی لالچ میں آکر کچھ لوگوں نے اسکا مطلب سمجھے بنا بھاجپا کو فارم بھر کے دئے ہوں،حالانکہ یہ بھی پریشانی کا باعث ہے“۔

حریت کانفرنس کے بزرگ لیڈر سید علی شاہ گیلانی نے سابق علیٰحدگی پسند اور موجودہ سرکار میں وزیرِ حیوانات سجاد غنی لون کی جانب اشارے کے ساتھ گذشتہ دنوں ایک بیان میں کہا ہے کہ شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں فرقہ پرستوں کو بیس کیمپ فراہم کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سجادلون نے انتخابات سے قبل ہی وزیرِ اعظم مودی کے ساتھ ملاقات کرکے اُنہیں اپنا بڑا بھائی بتایا تھا اور بھاجپا کے اتحادی ہونے کا اعلان کیا تھا۔اسکے علاوہ سید گیلانی نے سرینگر کے مضافات میں نارہبل کے مقام پر ایک معصوم طالبِ علم سہیل صوفی کے فورسز کے ہاتھوں قتل ہونے کے موقعہ پر لوگوں سے شکوہ کیا تھا کہ اُنہوں نے نہ صرف حریت کا بائیکاٹ کال کے باوجود ووٹ دیا بلکہ پہلی بار بھاجپا کو بھی وادی میں کچھ ووٹ ملے۔

کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے ایک پروفیسر کہتے ہیں”کشمیر میں بھاجپا کو عوامی حمایت ملنا تو بہر حال دیوانے کا خواب ہے،کشمیر ایک حساس علاقہ ہے اور یہاں کی سیاست کسی بھی طرح بھارت کی کسی بھی ریاست کی سیاست کے مشابہ نہیں ہے“۔مودی کے سب کا سب کا وکاس کے نعرے سے کشمیریوں کے متاثر ہونے سے متعلق بھاجپا کی دعویداری پر پوچھے جانے پر اُنہوں نے بتایا”یہ بات بھاجپا کو بھی معلوم ہے کہ کشمیر میں تعمیرو ترقی کے نام کی سیاست چلتی ہی نہیں ہے،سچ پوچھئے تو یہاں اس حوالے سے لوگوں کے بڑے خواب ہیں اور نہ ہی یہ انکی ترجیحات میں ہے بلکہ کشمیر کی سیاست مسئلہ کشمیر کو محور بناتے ہوئے چلتی ہے اور یہاں کا سارا سیاسی کاروباراسی مسئلہ کی ضمنات سے متعلق ہے“۔وہ کہتے ہیں کہ چونکہ بھاجپا کو ایک سخت گیر اور مسلم مخالف شکل میں پہچانا جاتا ہے اور کشمیر کے حوالے سے اسکے دفعہ370کے پیچھے ہونے کا بچے بچے کو علم ہے لہٰذا اس پارٹی کا کشمیر میں مقبول ہونا ممکن ہی نہیں ہو سکتا ہے۔اُنکا مزید کہنا ہے”سیاست میں معجزات تو ہوتے ہیں لیکن انہوں اور معجزات میں فرق ہے“۔البتہ اُنکا کہنا ہے کہ ایک شورش زدہ علاقہ ہونے کی وجہ سے کشمیر جیسے علاقہ میں پیسے کا بڑا دخل رہتا ہے لہٰذا ہو سکتا ہے کہ لالچ میں آکر کچھ لوگ بھاجپا کو غلط فہمی کا شکار کر گئے ہوں۔

کشمیر یونیورسٹی کے ہی ایک ریسرچ اسکالر منیر احمد کا کہنا ہے”کشمیر میں مقبول ہونے کے لئے تو بھاجپا کو اپنی پوری سیاست کا رُخ ہی بدل دینا ہوگا جو کہ اسکے لئے ممکن نہیں ہے اور اگر فرض کریں ایسا ہوتا بھی ہے تو اپنی نئی سیاست کو متعارف کرانے اور اس پر لوگوں کو یقین کروانے میں پارٹی کو ایک آدھ صدی لگ جائے گی،تب تک ظاہر ہے ابھی کے کشمیری ہونگے اور نہ انہیں ابھی کی بھاجپا قبول ہوگی“۔طنزیہ انداز میں وہ کہتے ہیں”ہو سکتا ہے کہ ایک آدھ صدی بعد بھاجپا کی سیاست نئی اور اور کشمیر میں ایک نئی پود رہ رہی ہو جو بھاجپا کے ساتھ جُڑنے پر آمادہ ہو“۔
(یہ مضمون پہلے مئی ٢٠١٥ میں شائع ہوا تھا)

Exit mobile version