مفتی کی زیرکی کو سیلاب لے گیا…!

صریر خالد

عمر بھر اپنی زیرکی کے لئے خود کو مشہور کرواتے رہے مفتی محمد سعید کے لئے جہاں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد خود کو واقعتاََ ایک زیرک سیاستدان کے بطور منوانا کچھ مشکل سا معلوم ہو رہا ہے وہیں اُنکی سرکار کے لئے تعمیروترقی کے محاذ پر بھی کوئی” انقلابی اقدامات“کرنا جیسے ممکن ہی نہیں ہو پا رہا ہے۔حالانکہ مفتی کو ریاست کی وزارتِ اعلیٰ سنبھالے ابھی دو ایک ماہ ہی گذرے ہیں اور اتنے میں انکی کارکردگی کا تجزیہ کرنا نادانی کہلائے گی لیکن گذشتہ سال کے سیلاب سے تباہ ہوئے لوگوں کی باز آبادکاری کے لئے ابھی تک کچھ بھی نہ کرپانا مفتی سعید کے تئیں مایوسی کو بڑھانے کی ایک ٹھوس وجہ ہے۔
گذشتہ 7ستمبرکو آئے صدی کے بدترین سیلاب نے کشمیر کو دیکھتے ہی دیکھتے تہہ و بالا کر دیا تھا۔تصور سے بھی زیادہ حد تک ہوئے نقصان سے بے حال ہوئے کشمیریوں نے اس بات کو ایک طرح سے دل پر لیا تھا کہ اُسوقت کی عمر عبداللہ سرکار نے گویا لوگوں کو گہرے پانی میں ڈھوب مرنے کے لئے چھوڑ دیا تھا کہ مصیبت کے کئی دنوں تک سرکار کا کہیں اتہ پتہ بھی معلوم نہ تھا۔نیشنل کانفرنس کی بدترین شکست اور عمرعبداللہ کے اقتدار سے جانے کے لئے ذمہ دار کئی بڑی وجوہات میں ایک یہ بھی شمار کی جاتی ہے کہ سیلاب کے دوران وہ لوگوں کے ساتھ جُڑنے اور اُنہیں سہارا دینے میں بُری طرح ناکام ہو گئے تھے۔پھر موجودہ وزیرِ اعلیٰ مفتی محمد سعید کی پی ڈی پی نے نیشنل کانفرنس کی تجاہل پسندی کا کچھ اس طرح سے ڈھول پیٹا کہ خوفناک اور ڈراونے پانیوں میں اپنا سب کچھ کھو بیٹھے کشمیریوں نے جیسے اس بات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے دل و دماغ میں بٹھا دیا۔
سیاسی محاذ پر کرشماتی کرتب کرنے کو تیار ہونے کی دعویدار پی ڈی پی نے نہ صرف یہ بات زبانی بتائی کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں سیلاب کی بُری یادوں کو تعمیروترقی کی نئی رونقوں سے بدل دیا جائے گا بلکہ پارٹی نے اس وعدے کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کرکے من للچانے والی یہ ”ٹافی“خوب بیچی اور اسے خریدار بھی ملے۔پی ڈی پی کا کہنا تھا کہ سیلاب زدگان کی بھرپور مالی امداد کرنے کے علاوہ وادی کشمیر میں عوامی اہمیت کے ڈھانچے کو بھی سر نو تعمیر کرکے تعمیرو ترقی کی وہ لہریں اُٹھائی جائیں گی کہ جن کی چکا چوند میں گویا کشمیری عوام اپنے وہ سبھی زخم بھول جائیں گے کہ جو اُنہیں اس ریاست کی سیاسی غیر یقینیت کی جانب سے ورثے میں ملے ہیں اور جنہیں سیلاب نام کی مصیبت نے اور بھی گہرا کر دیا ہے۔
حالانکہ کشمیر اور کشمیریوں سے معمولی واقفیت رکھنے والا سیاست کا کوئی عام طالبِ علم بھی اس بات سے منکر نہیں ہو سکتا ہے کہ اس” خطہ خاص“کے باسی مین اسٹریم کے سیاستدانوں سے جُڑے ہیں اور نہ ہی اُن پر بہت زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔تاہم بعض وجوہات کو لیکر مفتی سعید کے حوالے سے ریاست ،با الخصوص وادی میں، ایک طبقے نے ،شائد پہلی بار، کسی حد تک اُمیدیں وابستہ کرنا شروع کی تھیں اور اُن سے چھوٹے موٹے کرشموں کی توقع بھی کی جانے لگی تھی۔اوسط درجے سے نیچے کے طبقہ نے سیلاب زدگان کی بازآبادکاری کے حوالے سے مفتی سعید کے ساتھ اُمیدیں وابستہ کر رکھی تھیں تو اوسط اور اس سے اوپر کے طبقہ میں ایک بڑا حلقہ جموں و کشمیر کی سیاسی غیر یقینیت میں کسی حد تک تبدیلی کےخواب دیکھنے لگا تھا۔مفتی صاحب کے اقتدار کے اولین دو ماہ نے تاہم ان دونوں طبقوں کو مایوسی کی جانب دھکیلنا شروع کیا ہے۔
سرکردہ حریت لیڈر مسرت عالم بٹ کی رہائی اور پھر ماہ بھر بعد ہی مرکزی وزیرِ داخلہ اور ٹیلی ویژن چینلوں کے بنائے ہوئے دباوکی تاب نہ لاکر اُنکی دوباری گرفتاری اور بقیہ قیدیوں کی رہائی پر روک کے جیسے اقدامات نے اُن لوگوں کو اپنی نادانی کا احساس کرادیا ہے کہ جو سابق مرکزی وزیرِ داخلہ رہے مفتی سے من ہی من چاند تاروں کی توقع کرنے لگے تھے۔چناچہ مسرت عالم بٹ کی عدالتی احکامات کے تحت ہوئی رہائی کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ مفتی سعید نے اِن خبروں کو بھی منظرِ عام پر لائے جانے کے اقدامات کئے تھے کہ وہ وادی کشمیر کے سبھی اُن لوگوں کو مقامی جیلوں میں منتقل کرنے جارہے ہیں کہ جو ابھی تہار سے راجستھان اور امپھالا سے جودھپور تک نہ جانے کہاں کہاں بند پڑے ہیں۔کیا کسی قیدی کی رہائی یا ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقلی سے مسئلہ کشمیر حل ہوتا؟یا کیا اس سے کشمیر میں زمینی صورتحال پر کوئی زبردست تبدیلی ہو پاتی؟اس بحث میں الجھے بغیر کہا جا سکتا ہے کہ ان خبروں نے وزیرِ اعلیٰ کو کچھ ”الگ“ثابت کرنا شروع ہی کیا تھا کہ وہ ماضی اور اپنے پیش رووں کی جانب رجوع ہو گئے۔ظاہر ہے کہ جو لوگ اُمیدوں اور توقعات کو بلند کرچکے تھے یا جتنا بلند ان اُمیدوں کو خود مفتی صاحب اور اُنکے حامیوں نے کیا تھا اُتنا ہی دھڑام کے ساتھ یہ عمارت ڈھ گئی اور مفتی صاحب کسی ”الگ ساخت“کی بجائے اُسی گوشت پوست کے انسان نکلے کہ جس قبیل کے کئی لوگ ابھی تک آئے اور کشمیر کی تقدیر بدلے بغیر گمنامیوں کے اندھیروں میں اوجھل ہو گئے۔ ریاستی سرکار کی شریک بھاجپا نے حالانکہ اس قدر دباو اور دست بالا قائم کیا ہوا ہے کہ مفتی محمد سعید سے کسی بڑے اقدام بلکہ کسی اوسط درجے کے ایسے قدم کی توقع کرنا بھی عبس معلوم ہوتا ہے کہ جس سے وہ اپنی زیرکی کی دھاک بٹھا سکیں تاہم اُنکے پاس ابھی، بظاہر ،چھ سال کا طویل عرصہ ہے۔دو ایک ماہ کے اقتدار کو،بھلے ہی اس دوران وزیرِ اعلیٰ مفتی سعید تصور سے بھی زیادہ کمزور نظر آئے ہوں،سامنے رکھتے ہوئے اُنکے سیاسی قدو کاٹھ کی پیمائش کرنا ٹھیک نہیں ہوگا لیکن سیلاب زدگان کی باز آبادکاری میں ،ابھی تک،ناکامی کے لئے شائد کوئی جواز نہیں ہے اور یہ بات واضح ہے کہ مفتی سعید درِ مودی کے ایک ایسے ادنیٰ سائل ہیں کہ جنکی عرضی منظور ہوئی تو ہوئی نہیں تو وہ اسے منظور کروانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے ہیں۔
23دسمبر 2014کو ریاستی اسمبلی کے لئے انتخابات کا نتیجہ آنے کے دو ماہ تک ریاست میں سرکار کی تشکیل ممکن نہیں ہو پائی تھی اور اس دوران مفتی محمد سعید نے مکرر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ محض اقتدار نہیں چاہتے ہیں بلکہ اتنے وسیع اختیارات بھی کہ وہ سیاست سے لیکر تعمیر و ترقی تک ہر محاذ پر جموں و کشمیر کو سیراب کر سکے۔اس دوران ریاستی اخبارات میں ”پلانٹ“کروائی جاتی کہانیوں میں جن دو باتوں پر زیادہ زور دیا جاتا رہا وہ ریاست کی سیاسی صورتحال کو بدل دئے جانے کے اختیار اور سیلاب زدگان کی فوری بحالی کی صورت میں ایک نئے کشمیر کی تعمیر سے متعلق تھیں۔پی ڈی پی کی جانب سے تاثر دیا جاتا رہا کہ مفتی سعید اقتدار پر قبضہ کرنے میں کسی قسم کی عجلت نہ دکھاتے ہوئے در اصل کچھ چیزوں کو لیکر مودی سرکار کی ضمانت چاہتے ہیں جن میں سیلاب زدگان کی بازآبادکاری سر فہرست ہے۔مفتی کے کُرسی پر براجمان ہونے سے چند ایک روز قبل بلکہ یہاں تک لگنے لگا تھا کہ شائد حلف برداری کی تقریب پر ہی وہ سیلاب زدگان کی امداد کا اعلان کریں….ابھی تک ایسا مگر کانوں کے ساتھ کچھ نہ ٹکرایا ہے۔
سیلاب کے دوران لوگوں کے بچاو کو آنے میں بپری طرح ناکام رہنے والی عمر عبداللہ سرکار نے اپنی شام ہوتے ہوتے البتہ مرکزی سرکار کو ایک مفصل منصوبہ سونپتے ہوئے سیلاب زدگان کی باز آبادکاری اور عوامی ڈھانچے کو پہنچے نقصان کی بر پائی کے لئے 44000کروڑ کی امداد طلب کی تھی۔تاہم مرکز نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے بلکہ ریاست میں ہونے والی حالیہ سیاسی سرگرمیوں کے شورو غوغا میں یہ بات شائد بہت سوں کو معلوم بھی نہیں ہے کہ عالمی بنک کی ایک ٹیم نے اپنے طور سیلاب سے ہوئے نقصان کا جائزہ لیکر اسے جموں و کشمیر سرکار کے تخمینہ کے نصف سے بھی کم یعنی21ہزار کروڑ بتایا ہے۔ محکمہ خزانہ میں ایک سینئر اہلکار نے ،اُنکا نام نہ لئے جانے کی شرط پر،بتایا”یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ عالمی بنک نے کونسے پیمانہ سے نقصان کا تخمینہ لگاتے ہوئے اسے نصف سے بھی کم تک پہنچا دیا ہے حالانکہ ریاست کی جانب سے مرکز سے مانگی گئی رقومات میں ابھی تک ایک پیسہ بھی نہیں ملا ہے“۔وہ کہتے ہیں کہ عالمی بنک کی ایک ٹیم نے ریاست کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں ریاست کو سیلاب کی وجہ سے 21197.5کروڑ روپے کا نقصان پہنچنے کی بات کہی ہے۔مذکورہ اہلکار کے لئے حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ریاستی سرکار اس معاملے پر تقریباََ چُپ بیٹھی ہے اور اس حوالے سے مرکز کو آمادہ نہیں کیا جا رہا ہے،بلکہ اسے آمادہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے۔وہ کہتے ہیں مرکز کی جانب سے امداد نہ ملنے کی وجہ سے سیلاب کے تباہ کردہ ڈھانچے کو مزید نقصان پہنچ رہا ہے اور لوگوں مین جو مایوسی ہے سو الگ۔
گئے ستمبر میں آئے بد ترین سیلاب نے گویا کشمیر کو تہ و بالا ہی نہیں کیا تھا بلکہ ماہ بھر کے لئے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اس علاقے کا وجود ہی مٹ گیا ہو۔سرکار نے صورتحال کا اندازہ کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی سطح کی آفت بتاتے ہوئے ایک طرح سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ کشمیر کی بحالی کے لئے کسی عام امداد کی نہیں بلکہ ”آوٹ آف بکس“اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ابتدائی طور نقصان کا تخمینہ ایک لاکھ کروڑ روپے کا لگایا گیا تھا جس میں مکانات کو 30000اورکاروبار و دیگر عوامی ڈھانچہ کو70000کروڑ روپے کا نقصان پہنچنے کی نشاندہی کی گئی تھی۔تاہم بعدازاں سرکار نے نئے سرے سے جائزہ لیتے ہوئے مرکز کے پاس 44000کروڑ کا منصوبہ بھیجا اور امداد طلب کی۔منصوبے کے مطابق سیلاب میں ڈھ گئے پکے مکانوں کے لئے لوگوں کو 9لاکھ اور کچے مکانوں کے مکمل نقصان کے لئے6لاکھ روپے کی امداد دی جانی تھی جبکہ دونوں زمروں کے مکانوں کے جزوی نقصان کے لئے چار لاکھ روپے کی امداد دی جانے والی تھی۔
اندازہ ہے کہ سیلاب کی وجہ سے قریب اڈھائی لاکھ تعمیرات،بشمولِ رہائشی مکانوں کے،تباہ ہو گئے تھے جبکہ سرکاری ڈھانچے اور لوگوں کے کاروبار کو بھی اتنی ہی شدید نوعیت کا نقصان پہنچا تھا۔سرکار کے چُپ رہنے اور رقومات کی واگذاری کی بجائے مختلف ایجنسیوں کی جانب سے نقصان کے تخمینہ کو کم سے کم ظاہر کئے جانے سے ظاہر ہے کہ کشمیر میں مشکلات بھی بڑھتی جا رہی ہیں اور مایوسی بھی۔جیسا کہسرینگر میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جواہر نگر کے ایک دکاندار جاوید احمد کا کہنا ہے”ہمیں لگتا تھا کہ مفتی کی سرکار بننے کے بعد فوری طور امداد دی جائے گی لیکن پتہ چلا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے“۔سیلاب میں جاوید کا گھر ڈھ جانے کے علاوہ انکی دکان بھی تباہ ہو چکی تھی اور وہ کہتے ہیں”گھر کی مرمت کریں یا دکان بحال کریں ،یہ ایک بہت کٹھن صورتحال ہے کہ جس سے ہم دوچار ہیں“۔
تاجر انجمنوں کے اتحادی فورم کشمیر اکنامک الائینس کے چیرمین شوکت چودھری کہتے ہیں”زبانی اعلانات سے آگے سرکار نے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا ہے بلکہ اب کچھ وقت سے اس حوالے سے زبانی بیانات بھی سننے کو نہیں ملتے ہیں“۔وہ کہتے ہیں”یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہی سرکار ،جو کہتی تھی کہ سیلاب زدگان کے لئے امدادی پیکیج حاصل کرنے پر لے دے سرکار بنانے میں دیر کی ایک وجہ ہے ،ابھی تک کوئی پیکیج منطور کیوں نہیں کروا پائی ہے“۔وہ مزید کہتے ہیں کہ اب جبکہ نقصان کا تخمینہ 21ہزار کروڑ تک گھٹا یا جا چکا ہے کسے معلوم ہے کہ کبھی کچھ منطور ہوا بھی تو تب تک موجودہ تخمینہ میں کتنی مزید کمی کی گئی ہوگی۔لالچوک میں ایک معروف شوروم کے مالک نے اُنسے پوچھنے پر بتایا”مفتی سعید نے بھاجپا کے ساتھ اتحاد کرنے کے باوجود کیا حاصل کیا ہے،یہ سوچ کر افسوس ہوتا ہے“۔وہ کہتے ہیں”ویسے تو کشمیر کے بازار پھر سے بحال معلوم ہوتے ہیں لیکن اصل صورتحال یہ ہے کہ یہاں ابھی کوئی تجارت نہیں ہورہا ہے،سرکار کو کود معلوم ہے کہ لوگوں کے پاس پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے لین دین نہ ہونے کے برابر ہو گیا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ ہوئے تو اگلے مہینوں میں بے روزگاری کا مسئلہ دھماکہ خیز صورت اختیار کر سکتا ہے“۔تاجروں کی ہی ایک اور تنظیم کے صدر یٰسینخان کہتے ہیں”مرکزی سرکار کی شریک ہونے کے باوجود بھی ریاستی سرکار سیلاب زدگان کی بحالی میں بپری طرح ناکام ہو گئی ہے اور یہ بات یقیناََ مایوس کُن ہے“۔
ریاستی سرکار میں باز آبادکاری کے وزیر بشارت بخاری کہتے ہیں”یہ سچ ہے کہ مرکز نے ابھی مطلوبہ پیکیج میں سے کچھ نہیں دیا ہے لیکن ہم لوگ سرگرمی سے اپنا معاملہ بیان کر رہے ہیں اور اپمید ہے کہ جلد ہی کوئی اچھی خبر ہوگی“۔جیسا کہ وہ کہتے ہیں ہوسکتا ہے کہ مرکزی سرکار جلد ہی کچھ نہ کچھ اقدامات کرکے سیلاب زدگان کی امداد کے فنڈ میں کچھ پیسہ جاری کرے لیکن یہ بات بڑی حیران کن ہے کہ سال بھر ہونے کے بعد بھی ریاستی سرکار کو اس حوالے سے ”اپنا معاملہ“ابھی تک بیان کرنا پڑ رہا ہے۔امداد کی واگذاری میں لگائی جا رہی بہت زیادہ دیر کی وجہ سے ایک طرف یہ احساس وادی میں گہرا ہوتا جا رہاہے کہ نئی دلی کشمیریوں کے درد کو بر وقت محسوس نہیں کر پاتی ہے اور دوسری جانب یہ بات تقریباََ ثابت ہو رہی ہے کہ کوئی شیخ ہو یا مفتی دلی دربار میں جموں و کشمیر کے کسی بھی وزیرِ اعلیٰ کو کچھ ”الگ“طرح سے دیکھنے کا کوئی اصول نہیں ہے۔امدادی پیکیج کی واگذاری بہر حال ایک انتظامی معاملہ ہے اور مرکزی سرکار شائد اس سے پوری طرح انکار نہ کر سکے لہٰذا ممکن ہے کہ اگلے دنوں سرینگر میں تباہ حال سیلاب زدگان میں ”امداد“تقسیم کی جا رہی ہو جس سے سیلاب کی تباہ کاری کے نشانات متا ئے جا سکیں لیکن اس پورے معاملے پر مرکز کے رویہ اور مفتی سعید کی پوزیشن کو لیکر جو احساس کشمیریوں کو ہوا ہے اسے مٹانا شائد ممکن نہ ہو….آخر احساسات کہاں مٹتے ہیں۔

(یہ مضمون پہلے ٦مئی ٢٠١٥ کو شائع ہوا تھا)

Exit mobile version