چوٹی چوری کی تازہ واردات،چھانہ پورہ سرینگرمیں دن دھاڑے لڑکی کو شکار بنایا

سرینگر// سرینگر میں آج دن دھاڑے ایک لڑکی کی چوٹی کاٹے جانے کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ابھی ابھی چھانہ پورہ کی مائسمہ کالونی میں فلورنس اسپتال کے قریب پیش آیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق ایک نا معلوم شخص مذکورہ اسپتال کے قریب ایک گھر میں داخل ہوکر یہاں ایک نوجوان لڑکی کی چوٹی کاٹ کر فرار ہوگیا ہے۔ وادی میں اب مہینہ بھر سے جاری اس پُراسرار سلسلہ کی تازہ شکار لڑکی بے ہوش ہوگئی ہیں اور اُنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ یہاں کے لوگ مختلف سمتوں میں مجرم کی تلاش کیلئے تلاشی لے رہے ہیں۔اس حوالے سے مزید تفصٰلات کا انتظار ہے۔

یہ واقعہ سرینگر میں کل رات سے پیش آمدہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔ اتوار کو کل شہر کے بٹہ مالو علاقہ میں لوگوں نے اسی طرح کے ایک واقعہ کو ناکام بنایا تھا اور آج یہاں کے لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالا تو پولس نے طاقت کا استعمال کرکے اسے ناکام بنادیا۔

اب قریب ایک ماہ ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں چھوٹی بچیوں سے لیکر ادھیڑ عمر کی خواتین تک کے جبری ،زبردستی اور پُراسرار طور بال کاٹے جارہے ہیں۔چناچہ جنوبی کشمیر کے کولگام سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ پوری وادی میں پھیل چکا ہے اور ابھی تک درجنوں مقامات پر یا تو خواتین کے بال کاٹے جا چکے ہیں یا پھر نامعلوم افراد کی کوششوں کو لوگوں نے نا ممکن بنادیا ہے۔چناچہ اس پُراسرار سلسلہ کو لیکر لوگوں میں غم و غصہ اور خوف و حراس کی لہر دوڑی ہوئی ہے اور اب کئی دنوں سے لوگ اس سلسلے میں سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے بھی کرنے لگے ہیں۔ سنیچر کو سرینگر میں زنانہ کالج کی طالبات نے ایک بڑا جلوس نکال کر احتجاجی مظاہرے کئے تھے جبکہ وادی کے دیگر علاقوں میں بھی اس طرح کے جلوس بر آمد ہو رہے ہیں۔

یہ واقعہ سرینگر میں کل رات سے پیش آمدہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔ اتوار کو کل شہر کے بٹہ مالو علاقہ میں لوگوں نے اسی طرح کے ایک واقعہ کو ناکام بنایا تھا اور آج یہاں کے لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالا تو پولس نے طاقت کا استعمال کرکے اسے ناکام بنادیا۔

چناچہ جبری موئے تراشی کے واقعات میں رکاوٹ نہ آںے اور پولس کی جانب سے اس حوالے سے حیران کُن بے بسی کا اظہار کئے جانے کے بعد مزاحمتی قیادت نے اس سلسلہ کے خلاف آج کیلئے کشمیر بند کی کال دی ہوئی ہے جسکا پوری وادی میں خاصا اثر دکھائی دیا ہے۔سرینگر میں تقریباََ سبھی چھوٹے بڑے بازار بند ہیں اور بیشتر روٹوں پر عام ٹرانسپورٹ بھی غائب ہے اگرچہ کہیں کہیں نجی گاڑیاں حرکت میں ہیں۔ہڑتال کی وجہ سے کاروبارِ حیات بُری طرح ٹھپ ہو گیا ہے یہاں تک کہ سبھی سرکاری و غیر سرکاری اسکول بھی بند ہیں۔سرینگر شہر میں تھانہ پولس مائسمہ،کرالہ کھڈ،خانیار،نوہٹہ،مہاراج گنج،رعناواری اورصفاکدل کے تحت آںے والے علاقوں میں ایک سرکاری حکمنامہ کے تحت کرفیو جیسی بندشیں عائد کردی گئی ہیں اور ان علاقوں میں ایک بار پھر لوگوں کی نقل و حمل کو محدود کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وادی کے دیگر اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال کی جارہی ہے اور یہاں اسکول کالج،کاروباری ادارے اور بازار وغیرہ بند ہیں اور سڑکوں سے عام ٹرانسپورٹ غائب ہے۔معلوم ہوا ہے کہ سرکاری انتظامیہ نے وادی بھر کے حساس علاقوں میں سرکاری فورسز کی اضافی نفری تعینات کی ہوئی ہے تاکہ لوگوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئے جانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔دلچسپ ہے کہ ماہ بھر کا عرصہ گذر جانے کے باوجود بھی پولس کیلئے موئے تراشی کے معمہ کو حل کرنا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

 

Exit mobile version