لندن// برطانیہ کے ایک 15سالہ لڑکے نے امریکی سابق صدر اوباما اور ان کے سابق سیکیورٹی سربراہ کے کمپیوٹرمیں موجود حساس معلومات تک رسائی حاصل کر کے امریکہ انتظامیہ کے اوسان خطا کردئے ہیں۔
امریکی حکام نے تاحال اس بات کو پوشیدہ رکھا ہوا ہے کہ ’’کین گیمبل‘‘ نے کس حد تک حساس معلومات تک رسائی حاصل کی تھی لیکن یہ ثابت ہوچکا ہے کہ معلومات تک پہنچنے والا شخص یہی نوجوان تھے ۔
ذرائع کے مطابق برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ’’کین گیمبل‘‘نامی لڑکے نے سی آئی اے کے سابق چیف اور براک اوباما کے صدر رہتے ہوئے اُنکے سکیورٹی کے سربراہ جان برینن کے ذاتی کمپیوٹر تک اپنی رسائی ممکن بنا کر امریکی انتظامیہ کو سکتے میں ڈالدیا ہے۔ان ذرائع کے مطابق امریکی حکام نے تاحال اس بات کو پوشیدہ رکھا ہوا ہے کہ ’’کین گیمبل‘‘ نے کس حد تک حساس معلومات تک رسائی حاصل کی تھی لیکن یہ ثابت ہوچکا ہے کہ معلومات تک پہنچنے والا شخص یہی نوجوان تھے ۔ معلوم ہوا ہے کہ اس جرم میں کین گیمبل کوبرطانیہ کے ریجنل کورٹ سے سزا بھی ہوئی ہے تاہم وہ ضمانت پر رہاہوگئے ہیں۔
دوسری جانب یو کے پرائیوٹ پارٹی کے ممبر مارک چپمین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے ذمہ دار افسران کے کمپیوٹر تک رسائی حاصل کرلینا امریکی سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہیں، یہ انتہائی حساس معاملہ ہے ایک 15سالہ لڑکا جب انتہائی حساس معلومات تک رسائی کی کوشش کرسکتا ہے تو تربیت یافتہ اور پروفیشنل ہیکرزکیلئے یہ کس قدر آسان ہوگا۔