وہ خط جس نے گُرمیت رام رحیم کا بھانڈا پھوڑ دیا !

بخدمت :محترم وزیر اعظم جناب اٹل بہاری واجپائی، حکومت ہند
موضوع: ڈیرے کے مہاراج کے ذریعے سینکڑوں لڑکیوں کی عصمت دری کی جانچ پڑتال کریں.
جناب عالی!
عرض یہ ہے کہ میں پنجاب کی رہنے والی ہوں اور اب پانچ سال سے ڈیرہ سچا سودا سرسا، ہریانہ (دھن دھن ست گرو تیرا ہی آسرا) میں سادھو لڑکی کے طور پر خدمت کر رہی ہوں، میرے ساتھ یہاں سینکڑوں لڑکیاں ڈیرے میں 18، 18 گھنٹے خدمت کرتی ہیں ، ہمارا یہاں جسمانی طور پر استحصال کیا جا رہا ہے ساتھ میں ڈیرے کے مہاراج گرمیت سنگھ کے ذریعے جنسی استحصال (عصمت دری) کیا جا رہا ہے، میں بی اے پاس لڑکی ہوں، میرے خاندان کے لوگ مہاراج کے اندھے عقیدت مند ہیں، جن کے ایما پر میں ڈیرے میں سادھو بنی تھی۔

مہاراج نے مجھے بانہوں میں لیتے ہوئے کہا ہم تجھے دل سے چاہتے ہیں تمہارے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ تم نے ہمارے ساتھ سادھو بنتے وقت تن من دھن سب ست گرو کے لیے قربان کرنے کو کہا تھا تو اب یہ تن من ہمارا ہے میرے مخالفت کرنے پر انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ہی خدا ہیں۔

سادھو بننے کے دو سال بعد ایک دن مہاراج گرمیت کی شاگردہ سادھو گرجوت نے رات 10 بجے مجھے بتایا کہ آپ کو پتا جی نے غار (مہاراج کے رہنے کا مقام) میں بلایا ہے،چونکہ میں پہلی بار وہاں جا رہی تھی، میں بہت خوش تھی یہ سوچ کر کہ آج خدا نے مجھے بلایا ہے۔ جب میں غار میں پہنچی تو دیکھا کہ مہاراج بستر پر بیٹھے ہیں ، ہاتھ میں ایک ریموٹ ہے، سامنے بلو فلم ٹی وی پر چل رہی ہے، بستر کے سرہانے ایک ریوالور رکھا ہوا ہے میں یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئی مجھے چکر آنے لگے، میرے پیر کے نیچے کی زمین کھسک گئی یہ کیا ہو رہا ہے؟ مہاراج ایسے ہوں گے میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا مہاراج نے ٹی وی کو بند کیا اور مجھے ساتھ بٹھاکر پانی پلایا اور کہا کہ میں نے تمہیں اپنی خاص پیاری سمجھ کر بلایا ہے۔

یہ میرا پہلا دن تھا، مہاراج نے مجھے بانہوں میں لیتے ہوئے کہا ہم تجھے دل سے چاہتے ہیں تمہارے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ تم نے ہمارے ساتھ سادھو بنتے وقت تن من دھن سب ست گرو کے لیے قربان کرنے کو کہا تھا تو اب یہ تن من ہمارا ہے میرے مخالفت کرنے پر انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ہی خدا ہیں۔

جب میں نے پوچھا کہ کیا یہ خدا کا کام ہے تو انہوں نے کہا شری کرشن بھگوان تھے، ان کے یہاں 360 گوپیاں تھیں جن سے وہ ہر روز پیار محبت کرتے تھے، پھر بھی لوگ ان کو پرماتما مانتے ہیں، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، اگر ہم چاہیں تو تمہاری زندگی اس ریوالور سے ختم کر سکتے ہیں، تمہارے خاندان والے ہم پر ایسا یقین رکھتے ہیں ہے کہ وہ ہمارے غلام ہیں وہ ہمارے دائرے سے باہر نہیں جا سکتے یہ تم اچھی طرح جانتی ہو حکومت میں ہماری بہت چلتی ہے۔

ہریانہ اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ ، پنجاب کے مرکزی وزیر ہمارے پیر چھوتے ہیں، سیاستدان ہم سے اپنی تائید کرواتے ہیں، پیسہ کماتے ہیں اور ہمارے خلاف کبھی نہیں جائیں گے، ہم تمہارے خاندان کے نوکری یافتہ تمام افراد کو برخاست کروا دیں گے، سبھی افراد کو اپنے خدمت گاروں (غنڈوں) سے مروا دیں گے ، ثبوت بھی نہیں چھوڑیں گے یہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم نے غنڈوں سے پہلے بھی ڈیرے کے انتظام کار فقیر چند کو ختم کروا دیا تھا جن کا اتہ پتہ تک نہیں ہے اور کوئی ثبوت نہیں ہے پیسے کی بدولت ہم سیاست دانوں، پولیس اور قانون کو خرید لیں گے اس طرح میرا منہ کالا کیا اور گزشتہ تین ماہ میں 20 – 30 دن کے وقفے سے مسلسل کیا جا رہا ہے ۔

کرکشیتر ضلع کی ایک سادھو لڑکی جو گھر آ گئی ہے , اُس نے اپنے گھر والوں کو سب کچھ سچ بتا دیا ہے ، ا±سکا بھائی بڑا رضاکار تھا جو کہ خدمت چھوڑکر ڈیرے سے ناطہ توڑ چکا ہے ۔ سنگرور ضلع کی ایک لڑکی جس نے گھر آکر پڑوسیوں کو ڈیرے کی کالی کرتوتوں کے بارے میں بتایا تو ڈیرے کے رضاکار / غنڈے بندوقوں سے لیس لڑکی کے گھر آ گئے، گھر کے اندر سے کنڈی لگا کر جان سے مارنے کی دھمکی دی اور مستقبل میں کسی سے کچھ بھی نہیں بتانے کو کہا ۔

آج مجھے پتہ چلا کہ مجھ سے پہلے جو لڑکیاں رہتی تھیں، ان سب کے ساتھ منہ کالا کیا گیا ہے، ڈیرے میں موجود 35-40 سادھو لڑکیاں 35-40 سال کی عمر سے زیادہ ہیں جو شادی کی عمر سے آگے نکل چکی ہیں، جنہوں نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے، ان میں زیادہ تر لڑکیاں بی اے، ایم اے، بی ایڈ، ایم فل پاس ہیں، مگر گھر والوں کی اندھی عقیدت کی وجہ سے جہنم کی زندگی گزار رہی ہیں۔ہمیں سفید لباس پہننے ، سر پر چنّی (دوپٹہ) رکھنے، کسی آدمی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنے ، آدمی سے 5-10 فٹ دور رہنے کے مہاراج کی جانب سے احکامات ہیں ، دکھاوے کے طور پر ہم دیوی ہیں، لیکن ہماری حالت طوائفوں کی طرح ہے۔

میں نے ایک دفعہ اپنے گھر والوں کو بتایا کہ ڈیرے میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، میرے گھر والے ناراض ہو گئے اور غصے میں کہنے لگے کہ اگر بھگوان کے ساتھ رہتے ہوئے ٹھیک نہیں ہے تو پھر ٹھیک کہاں ہے؟ تمہارے دماغ میں غلط خیالات آنے شروع ہو گئے ہیں، ست گرو کو یاد کیا کر۔ میں مجبور ہوں یہاں ست گرو کا حکم ماننا پڑتا ہے، یہاں دو لڑکیاں ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کرسکتی ہیں گھر والوں کو ٹیلی فون ملا کر گفتگو نہیں کرسکتیں، گھر والوں کا ہمارے نام فون آئے تو مہاراج کے حکم کے مطابق ہمیں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، اگر لڑکی ڈیرے کی اس حقیقت کے بارے میں بات کرتی ہے تو پھر مہاراج کا حکم ہے کہ اس کا منہ بند کر دو۔

پچھلے دنوں جب بٹھنڈا کی ایک سادھو لڑکی نے تمام لڑکیوں کے سامنے مہاراج کی کالی کرتوتوں کو بے نقاب کیا تو کئی سادھو لڑکیوں نے اسے مل کر پیٹا، جو آج بھی اس پٹائی کے باعث بستر پر پڑی ہے، جس کے باپ نے رضاکاروں سے نام کٹوا کر چپ چاپ گھر بٹھا دیا ہے، جو چاہتے ہوئے بھی بدنامی اور مہاراج کے ڈر سے کسی کو کچھ نہیں بتا رہی ہے۔

کرکشیتر ضلع کی ایک سادھو لڑکی جو گھر آ گئی ہے , اُس نے اپنے گھر والوں کو سب کچھ سچ بتا دیا ہے ، ا±سکا بھائی بڑا رضاکار تھا جو کہ خدمت چھوڑکر ڈیرے سے ناطہ توڑ چکا ہے ۔ سنگرور ضلع کی ایک لڑکی جس نے گھر آکر پڑوسیوں کو ڈیرے کی کالی کرتوتوں کے بارے میں بتایا تو ڈیرے کے رضاکار / غنڈے بندوقوں سے لیس لڑکی کے گھر آ گئے، گھر کے اندر سے کنڈی لگا کر جان سے مارنے کی دھمکی دی اور مستقبل میں کسی سے کچھ بھی نہیں بتانے کو کہا ۔ اسی طرح کئی لڑکیاں جیسے کہ ضلع مانسا (پنجاب)، فیروز پور ، پٹیالہ، لدھیانہ کی ہیں جو گھر جاکر بھی چپ ہیں کیونکہ اُنہیں جان کا خطرہ ہے ۔ اسی طرح ضلع سرسا ، حسار ، فتح آباد، ہنومان گڑھ، میرٹھ کی کئی لڑکیاں جو کہ ڈیرے کی غنڈہ گردی کے آگے کچھ نہیں بول رہیں۔

لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ ان سب لڑکیوں کے ساتھ ساتھ مجھے بھی میرے خاندان کے ساتھ جان سے مار دیا جائے گا ، اگر میں یہاں اپنا نام پتہ لکھوں گی کیونکہ میں چپ نہیں رہ سکتی اور نا ہی مرنا چاہتی ھوں، عوام کے سامنے سچائی لانا چاہتی ھوں، اگر آپ پریس کے ذریعے کسی بھی ایجنسی سے جانچ کروائیں تو ڈیرے میں موجود 40 – 45 لڑکیاں جو کہ دہشت زدہ اور ڈری ہوئی ہیں پورا یقین دلانے کے بعد سچائی بتانے کو تیار ہیں ۔ ہمارا ڈاکٹری معائنہ کیا جائے تاکہ ہمارے سرپرستوں کو اور آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہم کنواری دیوی سادھو ہیں یا نہیں، اگر نہیں تو کسی کے ذریعے برباد ہوئی ہیں، یہ بتا دیں گے کہ مہاراج گرمیت رام رحیم سنگھ جی ، سنت ڈیرا سچا سودا کے ذریعے تباہ کی گئی ہیں ۔
درخواست کنندہ:
ایک بے قصور ذلت کی زندگی جینے پر مجبور

یہ بھی پڑھیئے ہریانہ کے حالات پر کشمیریوں کا تبصرہ،گرمیت سنگھ اور گلزار بٹ کا موازنہ

Exit mobile version