20ہزار تبلیغی قرنطینہ میں ہزاروں کی تلاش جاری

پاکستان میں کورونا وائرس سے احتیاط کے پیش نظر تبلیغی جماعت کے 20 ہزار ارکان کو قرنطینہ کیا گیا ہے اور اُن ہزاروں کی نشاندہی کرنے کی کوشش جاری ہے کہ جو کرونا وائرس پھیلنے کے بعد مختلف اجتماعات میں شریک ہوئے ہیں اور وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

اسکے علاوہ وبا کے پھیلنے سے پہلے یا بعد میں ہوئے اجتماعات کی چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ وائرس کا کوئی بھی ممکنہ متاثر وبا کے مزید پھیلنے کا باعث نہ بن سکے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ ماہ لاہور کے قریب تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے ہزاروں افراد ملک کے مختلف حصوں میں چلے گئے تھے جن میں سے 20 ہزار کی نشاندہی کر کے اُنہیں قرنطینہ کیا گیا ہے، جبکہ ہزاروں دیگر کی تلاش جاری ہے۔اے ایف پی کے مطابق انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ایک لاکھ افراد نے رواں سال منعقد کیے جانے والے اجتماع میں شرکت کی ہے اور اب یہ بات پتہ کی جارہی ہے کہ کہیں یہ لوگ وائرس کا شکار تو نہیں ہیں۔اے ایف پی کے مطابق حکام نے رائے ونڈ تبلیغی اجتماع منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔

 تبلیغی جماعت کو دنیا میں مذہب کی بنیاد پر قائم سب سے بڑی تحریک سمجھا جاتا ہے جو اسلامی نظریات پھیلانے کے لیے دنیا کے مختلف ملکوں میں اپنے کارکن بھیجتی ہے

خیبر پختونخوا میں حکام نے پانچ ہزار 300 ایسے افراد کو قرنطینہ کیا ہے جنہوں نے رائے ونڈ تبلیغی اجتماع میں شرکت کی تھی۔صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر نے اے ایف پی کو بتایا کہ شعبہ صحت کے حکام تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے افراد کے ٹیسٹ کر رہے ہیں اور بعض افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

اجمل وزیر نے بتایا کہ صوبے سے تعلق رکھنے والے ہزاروں تبلیغی افراد بڑی شاہراہیں اور ٹرانسپورٹ بند ہو جانے کی وجہ سے ملک کے دیگر علاقوں میں پھنس گئے تھے۔

اے ایف پی کو پنجاب میں حکام نے بتایا کہ لاہور میں سات ہزار تبلیغی افراد کو قرنطینہ کیا گیا جبکہ سندھ میں حکام کے مطابق یہ تعداد آٹھ ہزار ہے۔
بلوچستان میں بھی درجنوں تبلیغی افراد کو زبردستی الگ تھلگ رہنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ایجنسی کے مطابق پاکستان میں تبلیغی مراکز اور مساجد بند کی گئیں یا ان کو قرنطینہ قرار دیا گیا۔حکام کے مطابق مارچ میں منعقد ہونے والے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے افراد میں سے 154 کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جبکہ ان میں سے دو افراد ہلاک ہوئے۔

 تبلیغی جماعت کو دنیا میں مذہب کی بنیاد پر قائم سب سے بڑی تحریک سمجھا جاتا ہے جو اسلامی نظریات پھیلانے کے لیے دنیا کے مختلف ملکوں میں اپنے کارکن بھیجتی ہے۔اے ایف پی کے مطابق انتظامیہ نے بتایا کہ رواں سال بھی تبلیغی اجتماع میں دنیا کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی جن میں چین، انڈونیشیا، نائیجیریا اور افغانستان شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے  کے مطابق اس وقت پاکستان میں 15 سو غیر ملکی شہریوں کو قرنطینہ کیا گیا ہے تاہم دیگر بغیر ٹیسٹ کرائے واپس اپنے ملکوں کو چلے گئے۔اے ایف پی کے مطابق غزہ میں محکمہ صحت کے حکام نے تصدیق کی تھی کہ فلسطین میں سامنے آنے والے کورونا کے دو مریضوں نے پاکستان کے تبلیغی اجتماع میں شرکت کی تھی۔

 

Exit mobile version