لوگ ٹراول ہسٹری کیوں چھُپاتے ہیں،وجہ سامنے آگئی!

جموں کشمیر میں کرونا وائرس کے پھیلاو کی سب سے بڑی وجہ لوگوں کا اپنی ”ٹراول ہسٹری“یعنی بیرون جموں کشمیر کے اسفار کو چھپانا اور وقت پر علاج نہ کرانا ہے۔اس سلسلے میں حکومتی اہلکاروں سے لیکر عام لوگوں تک سبھی سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے اپیلیں کرتے ہوئے ایکدوسرے کو اس جُرم کے ارتکاب سے پرہیز کی صلاح دیتے ہیں لیکن مسئلہ بنا ہوا ہے۔
حالانکہ جموں کشمیر سے باہر جانا اور پھر وطن لوٹنا کوئی جرم تو ہے نہیں پھر لوگ اس بارے میں کیوں چھپاتے ہیں؟ اس بارے میں سرکاری حکام نے بھی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی ہے لیکن دماغ پر زور دینے سے ایک وجہ بہ آسانی سمجھ میں آتی ہے۔کرونا وائرس یقیناََ انتہائی مہلک اور ڈرا دینے والی بیماری ہے، کہ جس نے اپنے آپ کو سُپر پاور کہلاتے ہوئے ساری دنیا کو پیروں تلے دباچکے امریکہ و یورپ تک کو ناکوں چنے چبوائے ہیں،تاہم بد نصیبی یہ ہے کہ ہمارے یہاں اسے ایک بیماری کی بجائے ایک بدنامی کی طرح دیکھا جانے لگا ہے۔گو اس بیماری نے دنیا میں لاکھوں لوگوں کو شکار بنایا ہے اور ان سب میں ایسا ایک بھی نہیں ہوسکتا ہے کہ جس نے جان بوجھ کر یہ بیماری کہیں سے لے لی ہو لیکن اسکے باوجود بھی ہم کرونا کا شکار ہونے والوں کے ساتھ ہمدردی کرنے کی بجائے انہیں اور انکے لواحقین کومجرموں کی طرح دیکھنے لگے ہیں۔شائد یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے اسفار کے بارے میں بتانے کی بجائے سسک سسک کر مرنے کو ترجیح دیتے ہیں حالانکہ یہ بیماری ایسی ہے کہ اپنے متاثرین کو سکون سے مرنے تو دیتی نہیں ہے بلکہ ساتھ ساتھ ساتھ باقی لوگوں بلکہ یہ لوگ ساری دنیا کیلئے دور نہ ہونے والا خطرہ بن جاتے ہیں۔

جیسا کہ پہلے ہی واضح کیا جاچکا ہے کرونا وائرس میل ملاپ سے پھیلتا ہے لہٰذا جب لوگ اپنے سفر کے بارے میں بتائے بغیر گھر بیٹھے ہیں تو وہ ایک تو اپنے لئے خطرہ ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی سماج کیلئے بھی بہت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں

وادی کشمیر کے ہزاروں لوگ تعلیم و تربیت،کاروبار،روزگار،مذہبی سرگرمیوں،علاج و معالجہ یا اس طرح کی دیگر وجوہات کیلئے بیرون جموںکشمیر یا بیرون ملک جاتے رہتے ہیں۔دنیا میں کرونا وائرس کی وبائی بیماری پھوٹنے پر ایسے بے شمار لوگ وطن لوٹ آئے ہیں اور ان میں سے کئی لوگ کرونا وائرس سے آلودہ تھے اور اب یہاں اس مرض کے پھیلنے کی وجہ بن رہے ہیں۔
حالانکہ حکام نے ہوائی اڈے اور زمینی راستے پر کئی جگہوں پر مسافروں کی جانچ کی سہولیات رکھی ہوئی تھیں تاہم اسکے باوجود بھی کئی لوگ ”چور دروازے“سے وادی وارد ہوکر لازمی قرنطینیہ میں جانے کی بجائے گھر بیٹھے ہیں۔ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے ایک ڈاکٹر سجاد بٹ کا کہنا ہے”ایسے لوگ سمجھیں خطرناک بم کی طرح ہیں،جیسا کہ پہلے ہی واضح کیا جاچکا ہے کرونا وائرس میل ملاپ سے پھیلتا ہے لہٰذا جب لوگ اپنے سفر کے بارے میں بتائے بغیر گھر بیٹھے ہیں تو وہ ایک تو اپنے لئے خطرہ ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی سماج کیلئے بھی بہت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔وجہ جو بھی رہی ہو لیکن ابھی تک ہم نے دیکھا کہ کشمیر میں جتنے بھی لوگ متاثر ہوئے ہیں وہ اسی لئے متاثر ہوئے ہیں کہ ان تک یہ بیماری پہنچانے والے بروقت ماہرین تک نہیں پہنچ سکے تھے اور جو لوگ متاثر ہوئے ہیں وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ جن سے وہ مل رہے ہیں وہ اپنے اندر کرونا وائرس رکھے ہوئے ہیں“۔وہ کہتے ہیں”کوئی بھی مریض ہو اسکے ساتھ ہمدردی ہونی چاہیئے اور پھر ہمارے مذہب نے بھی ہمیں مریضوں کیلئے دعا کرنا اور انسے اپنے لئے دعا کروانا سکھایا ہے۔تاہم انہیں اعتراف ہے کہ جس طرح کبھی ایڈس کے حوالے سے لوگوں میں غلط فہمی تھی اور اس وجہ سے اس بیماری کا بروقت علاج نہیں ہو پارہا تھا اسی طرح کرونا وائرس کے ساتھ بھیStigmaمنسلک ہوگیا ہے اور یہ اس بیماری کے پھیلاو¿ کی ایک وجہ بن رہی ہے۔
بیرون ریاست سے ابھی دس دن قبل لوٹ چکے ایک شخص،جو اب قرنطینہ میں ہیں،نے بتایا”جس طر ح ڈرے ہوئے ہیں اور کرونا متاثرین کے تئیں جو تاثر پیدا ہوا ہے وہ یقیناََ ڈرا دینے والا ہے۔میں باہر سے لوٹنے کے بعد سات دن تک گھر میں رہا،میں بدنامی سے ڈر رہا تھا لیکن پھر میرے گلے میں درد ہوا اور ایک رشتہ دار نے میرا حوصلہ بڑھایا تو میں نے محکمہ صحت کے حکام سے رابطہ کیا،شکر ہے کہ مجھے کرونا نہیں لگا ہے بلکہ مجھے عام نزلہ ہوچکا تھا جسکے لئے میرا علاج ہوا اور اب میں بااکل ٹھیک ہوں“۔انہوں نے کہا”میرے پڑوسیوں اور رشتہ داروںکو اب بھی معلوم نہیں ہے کہ میں سرکاری قرنطینہ میں ہوں،انہیں پتہ چلا تو میرے خاندان کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک ہونا خارج از امکان نہیں ہے“۔

میرے پڑوسیوں اور رشتہ داروںکو اب بھی معلوم نہیں ہے کہ میں سرکاری قرنطینہ میں ہوں،انہیں پتہ چلا تو میرے خاندان کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک ہونا خارج از امکان نہیں ہے

جموں کشمیر میں کرونا وائرس سے جن شخص کا انتقال ہوا ہے وہ ایک انتہائی نیک صفت اور بہترین انسان ہونے کے باوجود طعنہ زنی کا شکار ہوئے اور سوشل میڈیا پر انکے لیکر اس انداز میں باتیں ہوئیں کہ انکے لواحقین کو صفائی دینا پڑی۔ حالانکہ وہ کوئی غیر معروف شخص نہ تھے بلکہ ایک امیر گھرانہ کے معزز شخص ہونے کے ساتھ ساتھ کئی مفلسوں کیلئے مسیحا کا درجہ رکھتے تھے۔کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ سماجیات کے ایک استاد کا کہنا ہے”جب اس طرح کے ایک مشہور بزرگ اور ایک آسودہ حال خاندان کو نہ بخشا گیا تو ایک عام انسان کا اپنے انجام سے ڈرنا قابلِ فہم ہے،میرے خیال میں ہمیں اس وبا سے متاثر ہونے والوں کو حوصلہ دینا چاہیئے تاکہ وہ نہ صرف بر وقت اپنا علاج کرانے پر آمادہ ہوں بلکہ انکے ٹھیک ہونے کے امکانات بھی بڑھ جائیں“۔تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہا”لیکن اگر سماج سے حوصلہ ملنے کے باوجود بھی کوئی اپنا سفری احوال یا بیماری کی علامات چھپاتا پھرے،وہ ایک قاتل بلکہ قتلِ عام کرنے والے سے کم نہیں ہے،اسے اس بات کا احساس دلایا جانا چاہیئے کہ یہ سماج کبھی اسے معاف نہیں کرسکتا ہے۔

Exit mobile version