• Latest
  • Trending
  • All
اُسکی زندگی میں تو میرے سوا کچھ نہیں ہے:کامران یوسف کی ماں

اُسکی زندگی میں تو میرے سوا کچھ نہیں ہے:کامران یوسف کی ماں

08/09/2017
سانحۂ گلوان پورہ:چونکا دینے والے انکشافات

سانحۂ گلوان پورہ:چونکا دینے والے انکشافات

06/06/2026
گلوان پورہ کا حیوان گرفتار

گلوان پورہ کا حیوان گرفتار

26/05/2026
معصوم بچی کے ساتھ حیوانیت،پھر قتل

معصوم بچی کے ساتھ حیوانیت،پھر قتل

25/05/2026
مویشی منتقلی’پبلک آرڈر‘نہیں

مویشی منتقلی’پبلک آرڈر‘نہیں

25/05/2026

جموں کشمیر میں انتخابات کا اشارہ

03/03/2023
برطانیہ جانے سے قبل راہُل گاندھی نے بالآخر۔۔۔

برطانیہ جانے سے قبل راہُل گاندھی نے بالآخر۔۔۔

02/03/2023
قبل از وقت گرمی سے ’پریشانی کے شگوفے‘

قبل از وقت گرمی سے ’پریشانی کے شگوفے‘

02/03/2023
کشمیرمیں حالات پہلی بار تو نہیں بگڑے ہیں:شاہ

دلی کی ٹیم جموں میں نہایت مصروف

02/03/2023
سنہا لوگوں کو ٹیکس پر آمادہ کرنے کیلئے کوشاں

سنہا لوگوں کو ٹیکس پر آمادہ کرنے کیلئے کوشاں

28/02/2023
آئی فون لیکر ڈیلیوری بوائے کا قتل

آئی فون لیکر ڈیلیوری بوائے کا قتل

22/02/2023
”بھارت ماتا کی جئے“نہ کہنے والے انسانیت کے دشمن

کشمیریوں کو محتاج بنایا جا رہا ہے:فاروق

21/02/2023
سونہ مرگ اور رام بن میں درجنوں مکانات تباہ

سونہ مرگ اور رام بن میں درجنوں مکانات تباہ

21/02/2023
ADVERTISEMENT
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجیے
  • ٹیم تفصیلات
11th Year of Publication
-18 °c
Saturday, June 6, 2026
Tafseelat - تفصیلات
  • جموں کشمیر
  • بھارت
  • دیگر اہم خبریں
  • کھیل/سائنس
  • کاروبار/ سیاحت
  • مزید
    • انٹرویو
    • تازہ ترین
    • لطیفے/گھریلو ٹوٹکے
    • میٹھی مرچیں
    • آج کے کالم
    • تصویروں کی زبانی
No Result
View All Result
English
Tafseelat - تفصیلات
  • جموں کشمیر
  • بھارت
  • دیگر اہم خبریں
  • کھیل/سائنس
  • کاروبار/ سیاحت
  • مزید
    • انٹرویو
    • تازہ ترین
    • لطیفے/گھریلو ٹوٹکے
    • میٹھی مرچیں
    • آج کے کالم
    • تصویروں کی زبانی
No Result
View All Result
No Result
View All Result
Tafseelat - تفصیلات
Home تازہ ترین

اُسکی زندگی میں تو میرے سوا کچھ نہیں ہے:کامران یوسف کی ماں

نمائندہ تفصیلات by نمائندہ تفصیلات
08/09/2017
in تازہ ترین, جموں کشمیر
1 min read
0
اُسکی زندگی میں تو میرے سوا کچھ نہیں ہے:کامران یوسف کی ماں
38
SHARES
109
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پلوامہ// اب جبکہ جنوبی کشمیر کے ایک جانے پہچانے اخباری فوٹو گرافر کامران یوسف کو 16 ستمبر تک کیلئے عدالت نے این آئی اے کی تحویل میں دیدیا ہے 21 سالہ اس لڑکے کی طلاق شدہ ماں کو یہ بھی نہیں پتہ ہے کہ این آئی اے کیا ہے۔ کامران کی ماں رُبینہ کا کہنا ہے کہ اُنہیں بس ایک چیز معلوم ہے کہ اُنکے زندگی میں کامراں کے سوا اور خود کامران کی زندگی میں اُنکی ماں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور انتہائی مشکلات کے ساتھ ماں بیٹا ایکدوسرے کیلئے جیتے آئے ہیں۔

اپنے اکلوتے بچے کے غم سے نڈھال رُبینہ اُنہیں تسلی دینے کیلئے آرہے ہر شخص سے ایک ہی بات بار بار پوچھتی ہیں کہ کیا اُنکے بچے کو چھوڑ دیا جائے گا؟۔ اُنکا کہنا ہے کہ اُنہیں یہ بی نہیں پتہ کہ این آئی اے کیا چیز ہوتی ہے لیکن لوگوں کی باتوں سے اُنہیں اندازہ ہوا ہے کہ اس ایجنسی کی گرفتاری عام گرفتاری کے مقابلے میں بہت پریشان کُن ہے۔

کامران یوسف ،جو دو غیر ریاستی ٹیلی ویژن چینلوں اور مقامی اخبار گریٹر کشمیر کیلئے بحثیتِ فری لانسر کام کرتے رہے ہیں،اور کولگام کے جاوید احمد کو مرکزی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے سنگبازی کے الزام میں گرفتار کیا ہوا ہے۔ این آئی اے کی جانب سے کی گئی یہ اپنی نوعیت کی پہلی گرفتاری تھی اگرچہ ایجنسی نے منی لانڈرنگ کے زیرِ تفتیش معاملے میں کئی حُریت کارکنوں کو گرفتار کیا ہوا ہے۔

اپنے اکلوتے بچے کے غم سے نڈھال رُبینہ اُنہیں تسلی دینے کیلئے آرہے ہر شخص سے ایک ہی بات بار بار پوچھتی ہیں کہ کیا اُنکے بچے کو چھوڑ دیا جائے گا؟۔ اُنکا کہنا ہے کہ اُنہیں یہ بی نہیں پتہ کہ این آئی اے کیا چیز ہوتی ہے لیکن لوگوں کی باتوں سے اُنہیں اندازہ ہوا ہے کہ اس ایجنسی کی گرفتاری عام گرفتاری کے مقابلے میں بہت پریشان کُن ہے۔ وہ البتہ پوچھتی ہیں کہ اُنکے بچے نے ایسا کیا قصور کیا ہے۔

کامران تب محض دو سال کے تھے کہ جب اُنکی والدہ کا طلاق ہوگیا اور وہ اپنے میکے آگئیں جہاں اُنکے والد نے اپنے گھر کے سامنے ہی اُنکے لئے ایک گھر بناکے دیا جس میں رہتے ہوئے رُبینہ نے انتہائی مشقت اُٹھا کر کامران کو جوان کیا۔وہ ایک مقامی اسکول میں بحٰثیتِ کلرک کام کرکے خود کا اور کامران کا گذارہ کرواتی رہی ہیں۔ اُنکا کہنا ہے کہ کامران نے دو ایک سال قبل کالج چھوڑ کر فوٹو جرنلزم شروع کیا حالانکہ اُنکے مطابق وہ اس پیشے کے رموزو اوقاف وغیرہ بھی نہیں جانتی ہیں لیکن یہ دیکھتے ہوئے خوش تھیں کہ اُنکا بیٹا انتہائی محںت سے کام کرتے ہوئے اپنے لئے جگہ بنانے میں کامیاب ہونے لگا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ کامران کے سر بڑی ذمہ داری ہے جسکا بھرپور احساس رکھتے ہوئے وہ اپنے کام سے کام رکھنے والے نوجوان کے بطور جانے جاتے تھے۔وہ کہتی ہیں کہ چونکہ کامران اور وہ اکیلے رہ رہے ہیں لہٰذا کامران کو اور چیزوں میں پڑنے کی فرصت ہی نہیں تھی لہٰذا اُنکا سنگبازی یا اس طرح کا کوئی کام کرنے کا کوئی سوال بھی نہیں اُٹھتا ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جہاں پلوامہ میں سینکروں لوگوں پر سنگبازی کے الزامات لگتے آرہے ہیں وہیں کامران کا کسی ایف آئی آر وغیرہ میں کبھی نام نہیں آیا ہے ۔

کامران تب محض دو سال کے تھے کہ جب اُنکی والدہ کا طلاق ہوگیا اور وہ اپنے میکے آگئیں جہاں اُنکے والد نے اپنے گھر کے سامنے ہی اُنکے لئے ایک گھر بناکے دیا جس میں رہتے ہوئے رُبینہ نے انتہائی مشقت اُٹھا کر کامران کو جوان کیا۔

رُبینہ کا کہنا ہے کہ اگر کامران کے کام نے اُنہیں کسی مصیبت میں پھنسایا ہے تو وہ چاہیں گی کہ اُنکا بچہ چھوٹ کر گھر بیٹھے۔ وہ کہتی ہیں ”ہم مشکل حالات میں رہتے آئے ہیں اور وہ اب کچھ وقت سے گھر کی مدد کرنے لگا تھا لیکن میں اپنے بچے کو کسی مصیبت سے دور رکھنے کیلئے مزید بیس سال تک کام کرسکتی ہوں،مجھے بس میرا بچہ چاہیئے“۔

کامران کے ساتھی صحافیوں کا،جنہوں نے نہ صرف پلوامہ میں بلکہ سرینگر آکر احتجاجی مظاہرے کئے،کہنا ہے کہ کامران ایک محنتی اور جنون کی حد تک اپنے پیشے میں مگن نوجوان ہیں۔ اُنکا کہنا ہے کہ مذکورہ لڑکے نے دو ایک سال میں ہی اپنی خاصی پہچان بنائی ہے کیونکہ پلوامہ میں جہاں کہیں بھی کوئی واقعہ پیش آتا رہا ہے کامران اسکی رپورٹنگ کرنے کیلئے سب سے آگے رہتے آئے ہیں۔ اُنکے کئی فوٹو مقامی اخباروں میں شائع ہوئے ہیں اور ایک بار جب اُنہیں فورسز نے تشدد کا نشانہ بنایا تو اس پر احتجاج کرتے ہوئے اخبار نے خبر بھی شائع کی۔اُنکے ساتھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کامران کو آخر کیوں اور کس لئے پکڑ لیا گیا ہے۔

کامران کی والدہ اور اُنکے ساتھی ابھی سکتے میں ہیں اور کامران کے اتنی بڑی پریشانی میں پھنس جانے کے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ کامران کو دلی لیجایا گیا ہے جہاں کی ایک عدالت نے این آئی اے کو 16 ستمبر تک اُن سے پوچھ تاچھ کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔

(مشمولات کیلئے کشمیر ریڈر کے شکریہ کے ساتھ)

 

Tags: JournalismKamran YousfkashmirNIARaids
Share15Tweet10Share4Send
نمائندہ تفصیلات

نمائندہ تفصیلات

Related Posts

سانحۂ گلوان پورہ:چونکا دینے والے انکشافات
تازہ ترین

سانحۂ گلوان پورہ:چونکا دینے والے انکشافات

by نمائندہ تفصیلات
06/06/2026
109
گلوان پورہ کا حیوان گرفتار
تازہ ترین

گلوان پورہ کا حیوان گرفتار

by نمائندہ تفصیلات
26/05/2026
109
معصوم بچی کے ساتھ حیوانیت،پھر قتل
تازہ ترین

معصوم بچی کے ساتھ حیوانیت،پھر قتل

by نمائندہ تفصیلات
25/05/2026
109
مویشی منتقلی’پبلک آرڈر‘نہیں
جموں کشمیر

مویشی منتقلی’پبلک آرڈر‘نہیں

by تفصیلات نیوز ڈیسک
25/05/2026
109
بھارت

جموں کشمیر میں انتخابات کا اشارہ

by نمائندہ تفصیلات
03/03/2023
109
  • Trending
  • Comments
  • Latest

کولگام میں 6کشمیری جاں بحق،2فوجی بھی ہلاک

1

’’سلام بابُن گرٔٹہ‘‘ اور میری آنکھوں کے کھنڈرات!

1
بھاجپا سے ملکر پردے کے پیچھے بڑارول نبھایا:لون

بھاجپا سے ملکر پردے کے پیچھے بڑارول نبھایا:لون

1
مودی صاحب خُدا کا انتخاب ہیں،بھارت ماتا ہم سب کی ماں:مظفر بیگ

مودی صاحب خُدا کا انتخاب ہیں،بھارت ماتا ہم سب کی ماں:مظفر بیگ

1
سانحۂ گلوان پورہ:چونکا دینے والے انکشافات

سانحۂ گلوان پورہ:چونکا دینے والے انکشافات

06/06/2026
گلوان پورہ کا حیوان گرفتار

گلوان پورہ کا حیوان گرفتار

26/05/2026
معصوم بچی کے ساتھ حیوانیت،پھر قتل

معصوم بچی کے ساتھ حیوانیت،پھر قتل

25/05/2026
مویشی منتقلی’پبلک آرڈر‘نہیں

مویشی منتقلی’پبلک آرڈر‘نہیں

25/05/2026
Tafseelat - تفصیلات

13th Year of Publication
Copyright © 2026 Tafseelat
Designed, Developed & Maintained by Acmo Network

Navigate Site

  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجیے
  • ٹیم تفصیلات

Follow Us

No Result
View All Result
  • جموں کشمیر
  • بھارت
  • دیگر اہم خبریں
  • کھیل/سائنس
  • کاروبار/ سیاحت
  • مزید
    • انٹرویو
    • تازہ ترین
    • لطیفے/گھریلو ٹوٹکے
    • میٹھی مرچیں
    • آج کے کالم
    • تصویروں کی زبانی

13th Year of Publication
Copyright © 2026 Tafseelat
Designed, Developed & Maintained by Acmo Network

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
Go to mobile version