سرینگر(نُمائندۂ تفصیلات)
جموں کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مویشیوں کی منتقلی یا جانوروں پر ظلم سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیاں ’’پبلک آرڈر‘‘ نہیں بلکہ صرف ’’لاء اینڈ آرڈر‘‘ کے زمرے میں آتی ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت نظربندی جائز نہیں۔
جسٹس راہول بھارتی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے خلاف مویشیوں کی منتقلی سے متعلق متعدد ایف آئی آرز درج ہونے کے باوجود ان معاملات سے عام فوجداری قانون کے تحت نمٹا جا سکتا تھا اور احتیاطی نظربندی کی ضرورت نہیں تھی۔عدالت نے کہا کہ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) 2023 میں ایسے جرائم سے نمٹنے کے لیے مناسب قانونی طریقہ کار موجود ہے اور محض اس بنیاد پر کہ عام قانون ناکافی ثابت ہو سکتا ہے، احتیاطی نظربندی کا سہارا نہیں لیا جا سکتا۔عدالت نے کہا کہ ’’احتیاطی نظربندی کا قانون اس معذرت خواہانہ اندازے پر استعمال نہیں کیا جا سکتا کہ عام قانون ناکام ہو گیا ہے‘‘۔ عدالت نے ذاتی آزادی سے متعلق آئینی تحفظات کو بھی اجاگر کیا۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ہر فوجداری جرم لازمی طور پر ’’پبلک آرڈر‘‘ کو اس حد تک متاثر نہیں کرتا کہ پی ایس اے نافذ کیا جا سکے۔ عدالت نے مزید کہا کہ کسی شخص کی آزادی سلب کرنے کے لیے انتہائی مضبوط بنیاد اور سخت عدالتی جانچ ضروری ہے۔بعد ازاں عدالت نے پی ایس اے کے تحت جاری نظربندی حکم نامہ کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ شخص کی فوری رہائی کا حکم دیا، بشرطیکہ وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔























