سرینگر(نُمائندۂ تفصیلات)
سرینگر کے پڑوس بڈگام کے گلوان پورہ گاؤں میں ہفتہ سے لاپتہ 12 سالہ لڑکی اتوار کی صبح ایک کھیت سے مردہ حالت میں برآمد ہوئی، جس کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا۔
ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ لڑکی ہفتہ کے روز لاپتہ ہوگئی تھی جس کے بعد اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے اس کی تلاش شروع کردی تھی۔اُنہوں نے کہا کہ اتوار کی صبح اس کی لاش اسکے گھر کے ایک نزدیکی کھیت سے برآمد ہوئی جس سے پورے علاقے میں غم و غصے اور صدمے کی لہر دوڑ گئی۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ بچی معمول کے مطابق گھر کے پاس ہی واقعہ درسگاہ کیلئے گئی ہوئی تھی جسکے بعد سے اُسکا اتہ پتہ نہ ملنے پر رات گئے بڈگام پولیس کو مطلع کیا گیا تھا۔ رات بھر کی تلاش کے بعد مذکورہ کی لاش اُسکے گھر سے محض دو سو میٹر کی دوری پر واقع ایک کھیت میں پڑی ملی جسکے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی جس نے نعش کو اپنی تحویل میں لیکر لازمی کارروائی کے بعد اسے تدفین کی خاطر لواحقین کو سونپ دیا۔
اگرچہ معاملے کی تحقیقات ابھی ابتدائی دور میں ہے تاہم بظاہر یہ عصمت دری کے بعد کیا گیا قتل معلوم ہوتا ہے
بڈگام کے ایس ایس پی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ معاملے کی تحقیقات ابھی ابتدائی دور میں ہے تاہم بظاہر یہ عصمت دری کے بعد کیا گیا قتل معلوم ہوتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ علاقے کے نامی بدمعاشوں کو پکڑا جاچُکا ہے جبکہ سی سی ٹی وی اور دیگر ذرائع کو بھی بروئے کار لایا جاچُکا ہے اور
اُمید ہے کہ یہ معمہ جلد ہی حل ہوگا اور مجرموں کو عوام کے سامنے پیش کیا جاسکے گا۔
