سرینگر//جموں کشمیر میں سرگرم جنگجووں نے اپنی حکمتِ عملی میں فوجی نوعیت کی تبدیلی لاتے ہوئے حزب المجاہدین اور لشکرِ طیبہ کو جنگی محاذ سے پیچھے کھینچ کر جیشِ محمد کو آگے کردیا ہے جبکہ سرگرم جنگجووں نے موبائل فون کا استعمال بھی ترک کردیا ہے۔جنگجووں کی اس بدلی ہوئی حکمتِ عملی نے تاحال اُنکے لئے اچھے نتائج دکھائے ہیں جبکہ سرکاری فورسز کے تیز رفتاری سے دوڑنے والے ”آپریشن آل آوٹ“کے گھوڑے کی رفتار یکایک سُست پڑ گئی ہے،حالانکہ فورسز نے آپریشن کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔
”ہاں،ایسا لگتا ہے کہ اُنہوں نے اپنے پُرانے سِم کارڈ ضائع کردئے ہیں۔اُنکے لئے البتہ موبائل فون استعمال کئے بغیر رہنا ممکن بھی نہیں ہے،کیونکہ اُنہیں ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے کی ضرورت ہے“۔
کشمیر پولس کے چیف منیر خان نے مقامی اخبار گریٹر کشمیر کوبتایا ہے کہ جنگجووں نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کردی ہے جسکے تحت ابھی تک سرگرم رہتی آئیں دونوںتنظیموں،حزب المجاہدین اور لشکرِ طیبہ،کے جنگجو پوری طرح خاموش اور روپوش ہوگئے ہیں۔اُنہوں نے کہا ہے کہ یہ اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے کہ سرکاری فورسز کے خلاف کارروائیوں کیلئے جیشِ محمد کو آگے کردیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا ہے کہ اُنہیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ دونوں تنظیموں کے کئی جنگجووں ،جن میں اُنکے اہم کماندار بھی شامل ہیں،کے مارے جانے کے بعد اب حزب اور لشکر کے جنگجو ترال کے بالائی علاقوں میں منتقل ہوکر خاموشی کے ساتھ روپوش ہوگئے ہیں۔منیر خان کا کہنا ہے”ہماری تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ سرکاری فورسز کے خلاف جیشِ محمد نے ہر اول دستے کا کردار لے لیا ہے“۔منیر خان کا یہ بیان پلوامہ کی پولس لائینز پر ہوئے اپنی نوعیت کے مہلک ترین فدائین حملے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔واضح رہے کہ پولس کے چار اور سی آر پی ایف کے چار اہلکاروں کی ہلاکت کا موجب بننے والے اس حملے کی ذمہ داری جیشِ محمد نامی تنظیم نے لی ہے جو اس حملے سے ایک عرصہ کے بعد ریاست کے جنگجوئیانہ منظر نامے پر نمودار ہوئی ہے۔
جنگجووں کے پے درپے فوجی محاصرے میں آنے کے بعد نائیکو نے اپنے جنگجووں کیلئے موبائل فون کے استعمال کو ممنوع قرار دیتے ہوئے اُنسے فون سرنڈر کرنے کیلئے کہا تھا
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا جنگجووں نے واقعی اپنے موبائل فون کمانڈر ریاض نائیکو کے پاس سرنڈر کئے ہیں،جیسا کہ میڈیا میں آیا ہے،منیر خان نے کہا ہے کہ اس بارے میں اُنہیں پختہ معلومات تو نہیں ہیں لیکن ”ہاں،ایسا لگتا ہے کہ اُنہوں نے اپنے پُرانے سِم کارڈ ضائع کردئے ہیں۔اُنکے لئے البتہ موبائل فون استعمال کئے بغیر رہنا ممکن بھی نہیں ہے،کیونکہ اُنہیں ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے کی ضرورت ہے“۔واضح رہے کہ بعض میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنگجووں نے کمانڈر ریاض نائیکو کی ہدایت پر اپنے موبائل فون اپنکے پاس سرنڈر کئے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ جنگجووں کے پے درپے فوجی محاصرے میں آنے کے بعد نائیکو نے اپنے جنگجووں کیلئے موبائل فون کے استعمال کو ممنوع قرار دیتے ہوئے اُنسے فون سرنڈر کرنے کیلئے کہا تھا جبکہ حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے بھی ایک انٹرویو کے دوران اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اُنکے جنگجووں کی مخبری میں موبائل فون کا بڑا کردار پائے جانے کے بعد اُنہوں نے احتیاطی تدابیر کی ہدایات دی ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئیں:ہمارے جنگجو خود ہی خود کو مروارہے ہیں:صلاح الدین
منیر خان نے کہا ہے کہ جنگجووں نے ،ایسا لگتا ہے،اپنی حکمتِ عملی تبدیلی کی ہے اور وہ روپوش ہوگئے ہیں تاہم اُنہوں نے کہا ہے کہ سرکاری فورسز بھی اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی کر رہی ہیںاور آپریشن آل آوٹ جاری رہے گا“۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگجووں کی بدلی ہوئی حکمتِ عملی کی وجہ سے سرکاری فورسز کیلئے اُن تک پہنچنا محال ہوگیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر محمود غزنوی اور اُنکے دو ساتھیوں کے،12اگست کو، مارے جانے کے بعد سے کہیں کوئی اینکاونٹر نہیں ہوا ہے ۔
