قاتل خود بھی گُمشُدہ بچی کو تلاشنے کا ڈراما کرتا پھِر رہا تھا
سرینگر(نُمائندۂ تفصیلات)
گلوان پورہ بڈگام میں پیش آمدہ عصمت دری اور قتل کے واقعہ کے مجرم کے بارے میں بعض چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ حالانکہ یہ معاملہ ابھی زیرِ تحقیقات ہے اور محض چند گھنٹوں میں معمہ حل کرنے والی پولیس نے ابھی تک وجۂ قتل وغیرہ کے بارے میں کوئی خلاصہ نہیں کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجرم ایک سبزی فروش ہے اور معصوم و مظلوم بچی کا قریپی پڑوسی ہے ۔ ان ذرائع کے مطابق واقعہ کے وقت بچی روز کی طرح درسگاہ جا رہی تھی کہ انسانی شکل میں اس بھیڑئے نے اسے بُلایا اور پھر زبردستی اپنے گھر لے گیا جہاں اُس نے پھول سی بچی پر اس حد تک ظُلم کیا کہ وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ بیٹھیں۔
متاثرہ خاندان کے ایک رشتہ دار نے تفصیلات کو بتایا’ گوکہ ابھی معاملہ زیرِ تحقیقات ہے لیکن جتنا ہمیں معلوم ہوچُکا ہے، وہ یہ ہے کہ مذکورہ نے اس بچی کو اپنے گھر میں ہوس کا شکار بنایا اور پھر قتل کردیا‘۔ اُنہوں نے کہا کہ جب بچی کے غائب ہونے کی خبر پھیل گئی تو اُسکے اہلِ خانہ اور دیگر پروسیوں کے ساتھ ساتھ خود مُجرم بھی تلاشِ گُمشُدہ کی کارروائی میں شامل رہا حالانکہ وہ دراصل خود کو کسی بھی طرح کے دائرۂ شک سے باہر کرنے کیلئے محض ایک ڈرامہ کر رہا تھا۔
اُس نے لاش کو گھر میں چھُپا رکھا تھا اور پھر نصف شب کے وقت اُس نے اپنے گھر والوں کی مدد سے اسے لاکر سڑک پر پھینک دیا اور خود اگلی صبح معمول کے مطابق اپنے کام کیلئے نکل گیا تاکہ اس پر کسی کو شک نہ ہو
متاثرہ خاندان کے اس رشتہ دار نے،اُنکا نام نہ لئے جانے کی شرط پر بتایا ’وہ بد بخت تو دیگر لوگوں کے ساتھ تلاشی کارروائی میں بھی شامل رہا۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اُس نے لاش کو گھر میں چھُپا رکھا تھا اور پھر نصف شب کے وقت اُس نے اپنے گھر والوں کی مدد سے اسے لاکر سڑک پر پھینک دیا اور خود اگلی صبح معمول کے مطابق اپنے کام کیلئے نکل گیا تاکہ اس پر کسی کو شک نہ ہو‘۔
یاد رہے کہ اس واقعہ کو لیکر پوری وادی میں باالعموم اور بڈگام میں باالخصوص غم و غصہ کی لہر دوڑی ہوئی ہے اور مجرم کیلئے سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے اس واقعہ کو فوری طور حل کرنے کیلئے علاقہ کے کئی مشکوک افراد کو پوچھ تاچھ کیلئے بُلایا یہاں تک کہ وہ مجرم تک پہنچ پائے جسے فوری طور گرفتار کیا گیا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مجرم کو اپنا جُرم چھُپانے میں اپنے گھر والوں کا پورا تعاون حاصل رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس کو اُس تک پہنچنے میں کھوجی کُتوں نے بڑا کردار نبھایا کہ جنہوں نے مجرم کے گھر تک پہنچ کر اشارہ دیا اور مجرم کی ماں کیلئے جُرم کو چھُپانے کی کوئی گنجائش باقی نہ چھوڑی۔ اندازہ ہے کہ بڈگام پولیس، جسکی اس معمے کو فوری طور حل کرنے کیلئے ہر سو تعریفیں ہو رہی ہیں، دو ایک دن میں ایک باضابطہ پریس کانفرنس کرکے واقعہ کی وجوہات و مقاصد کے علاوہ مجرم کے معاونین کے بارے میں بھی پوری تفصیلات بتائے گی۔

























